واشنگٹن :(ایجنسی)
افغانستان سے فوج واپس بلانے اور وہاں طالبان کے قبضہ کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن کی مسلسل تنقید ہورہی ہے ۔ کہا جارہا ہے کہ ان کا یہ فیصلہ نہ صرف افغانستان بلکہ امریکہ کیلئے بھی نیا بحران لے کر آئے گا ۔ اسی درمیان ایک رپورٹ میں القاعدہ کے سرغنہ اوسامہ بن لادن کے ذریعہ 2010 کے دوران لکھا گیا ایک خط سامنے آیا ہے ۔ دعوی کیا گیا ہے کہ اس خط میں لادن نے بائیڈن کے صدر بننے کا تذکرہ کیا تھا ۔ ساتھ ہی کہا تھا کہ بائیڈن خود ہی امریکہ کے سامنے پریشانیوں کا انبار کھڑا کردیں گے ۔ اوسامہ کا ماننا تھا کہ بائیڈن نااہل صدر ثابت ہوں گے ۔
نیوز18 آن لاین میں شایع خبر کے مطابق نائن الیون حملے کے بعد امریکہ نے لادن اور القاعدہ سے بدلہ لینے کیلئے افغانستان پر حملہ کردیا تھا ۔ جنگ کے دوران لادن کبھی امریکہ کے ہاتھ نہیں آیا ۔ تاہم 10 سال بعد یعنی دو مئی 2011 کو امریکہ نے اس کو پاکستان کے ایبٹ آباد میں ڈھونڈ نکالا اور خفیہ فوجی کارروائی میں مار گرایا ۔ اس سے پہلے 2010 میں لادن نے 48 صفحات پر مشتمل ایک طویل خط شیخ محمود نام کے ایک شخص کو لکھا تھا ۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس خط میں اسامہ بن لادن نے اپنی دہشت گرد تنظیم القاعدہ کو خبردار کیا تھا کہ وہ جو بائیڈن کو اپنے نشانے پر نہ لے ۔ اسامہ کا ماننا تھا کہ اگر اس وقت کے صدر بارک اوبامہ کو کچھ ہوتا ہے تو ان کا جانشیں ( جوبائیڈن) امریکہ کو بڑی مشکل میں پھنسا دے گا ۔
جانکاری کے مطابق اس خط پر مئی 2010 کی تاریخ لکھی ہوئی ہے ۔ اس خط میں نائن الیون کے ماسٹرمائنڈ اسامہ بن لادن نے لکھا تھا کہ بائیڈن کے قتل کیلئے انہوں نے کسی بھی طرح کی سازش نہیں کی تھی ، کیونکہ اس کا ماننا تھا کہ بائیڈن امریکہ کو سنبھالنے کیلئے پوری طرح تیار نہیں ہے ۔ لادن نے 48 صفحات کے خط کے 36 ویں صفحہ پر لکھا تھا کہ وہ حملہ کرنے کیلئے دو دستے تیار کرنا چاہتا ہے ۔ ایک دستہ پاکستان میں اور ایک افغانستان میں ہوگا ۔











