نئی دہلی:(ایجنسی)
افغانیوں سمیت دیگر شہریوں کے انخلاء کے عمل کے درمیان افغانستان کے دارالحکومت کابل میں کل ہوئے خود کش دھماکوں نے پوری دنیا کے خدشات کو بڑھا دئے ہیں۔ بھارت کو خفیہ ذرائع سے ملی جانکاری کے مطابق حملے کے پیچھے داعش – خراسان کا ہاتھ ہونے کی بات سامنے آئی ہے ۔ اس درمیان آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین ( اے آئی ایم آئی ایم ) کے سربراہ اور ممبر پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے بی جے پی پر نشانہ سادھا ہے ۔ انہوں نے بی جے پی سے پوچھا ہے کہ کیا طالبان کو یو اے پی اے کے تحت دہشت گرد تنظیموں کیفہرست میں ڈالے گی؟
اویسی نے جمعہ کو اپنے ٹویٹ میں کہا کہ افغانستان میں ہمارے سفارت خانے پر دو بار حملہ ہوا تھا، جس میں ہم نے ایک سفارتکار کھو دیا۔ حملے کے لیے حقانی نیٹ ورک ذمہ دار تھا ۔ اب اقتدار میں ہے ۔ کیا آپ طالبان کو یو اے پی اے کے تحت دہشت گرد تنظیم کی شکل میں فہرست کریں گے ؟ اگر نہیں تو کیا بی جے پی اپنے ترجمانوں کو خاموش رہنے اور لوگوں کو ٹی وی پر طالبانی کہنا بند کرنے کو کہے گی؟
بتادیں کہ اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اویسی پہلے بھی طالبان کے ایشوز پر بی جے پی اور مرکزی سرکار پر سوال اٹھا چکے ہیں ۔ حال ہی میں انہوں نے کہا تھا کہ طالبان کو لے کر سرکار کی پالیسی کیا ہے یہ اب تک واضح نہیں ہے ۔ ساتھ ہی انہوں نے بھارت کے اسٹریٹیجک مفادات کے تحفظ کے لیے طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے کی وکالت بھی کی تھی ۔








