لکھنؤ : (ایجنسی)
اترپردیش اسمبلی انتخابات میں زیادہ وقت نہیں بچا ہے۔ ایسے میں ریاست کی سیاست اپنے عروج پر ہے۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسد الدین اویسی نے بدھ کے روز سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے سربراہ اکھلیش یادو اور بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی سربراہ مایاوتی پر بڑا حملہ بولا۔
اویسی نے الزام لگایا کہ ان دونوں لیڈروں کی غلط فہمی کی وجہ سے نریندر مودی دو بار وزیر اعظم بن گئے۔ اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ نے اترپردیش کے دورے کے دوسرے دن مخالفین کے ان الزامات کی تردید کی کہ انہیں سیاسی طور پر اہم ریاست میں ووٹ کانٹنے کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔
ایودھیا کے رودولی سے آئندہ اسمبلی انتخابات کے لیے اپنی پارٹی کی مہم شروع کرنے کے ایک دن بعد اویسی ضلع سلطان پور کے اودرا گاؤں میں ایک جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے۔ بعد میں اویسی نے نامہ نگاروں سے گفتگو میں کہا کہ ’آج کا مسلمان جان چکا ہے کہکئی پارٹیاں ان کے ووٹ تو لیتی ہیں لیکن وہ ان کا لیڈر نہیں بناتی اور نہ ہی پارٹی میں ان کی کوئی عزت ہوتی ہے ۔‘
اس سے پہلے اویسی نے جلسہ عام میں کہا:’ کہا جاتا ہ ےکہ اویسی لڑے گا تو ووٹ کاٹ دے گا‘‘ انہوں نے سوال کیا ،’سلطان پور میں آپ سب نے اکھلیش یادو کو جھولی بھر کر ووٹ دیا تو سوریہ ( سوریہ بھان سنگھ بی جے پی ایم ایل اے ) کیسے جیت گئے؟ 2019 کے عام انتخاب میں سلطان پور سے بی جے پی کیسے جیتی، تب اویسی تو انتخاب نہیں لڑر ہا تھا۔ کیا اکھلیش یادو نے کہاکہ ہندو ؤں نے ووٹ نہیں کیا اس لئے ہارگئے؟ کیوں مسلمانوں کو کہتے پیں ،مسلمانوں نے ووٹ نہیں دیا۔ کیا مسلمان قیدی ہیں؟اویسی نے یہ بھی کہاکہ دو بار بی جے پی مسلمانوں کے ووٹ سے نہیں جیتی ہے ۔
اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہ اویسی اتر پردیش میں مقابلہ کرکے بی جے پی کے حریفوں کے ووٹ خراب کریں گے ، حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ نے سوال کیا ،’جب آپ سب (مسلمانوں) نے گزشتہ اسمبلی انتخابات میں یہاں اکھلیش یادو کی پارٹی کو ووٹ دیا تو گزشتہ اسمبلی انتخاب میں یہاں سے ایک بی جے پی امیدوار کیسے جیتا؟ اسی طرح بی جے پی نے 2019 میں سلطان پور سے لوک سبھا الیکشن کیسے جتیا،جبکہ اے آئی ایم آئی ایم وہاں نہیں لڑی تھی۔‘؟
سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو پر سخت حملہ کرتے ہوئے اویسی نے پوچھا ’ کیا مسلمان آپ کے غلام ہیں؟ ‘ انہوں نےکہاکہ نریندر مودی اکھلیش اور مایاوتی کی ’نا سمجھی‘ کی وجہ سے دو بار وزیر اعظم بن گئے، حالانکہ وہ اس بارے میں کچھ تفصیل سے نہیں بتایا۔
اویسی نے کہاکہ لوک سبھا انتخابات میں مجلس ( اے آئی ایم آئی ایم) تین سیٹوں حیدر آباد ،اورنگ آباد اور کشن گنج سے الیکشن لڑی۔ انہیں کہاکہ ہم نے حیدر آباد میں بی جے پی کو ہرایا ،ہمیں ہرانے مودی اور امت شاہ آئے تھے۔ لیکن ان کی دال نہیں گلی۔ اورنگ آباد میں 21 سال سے شیوسینا رکن پارلیمنٹ کو مجلس نے ہرایا ۔ کشن گنج میں ہم ہار ضرور گئے لیکن لاکھوں ووٹ ملے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جہاں میں لڑتا ہوں وہاں بی جے پی نہیں جیتتی۔ ہم چاہتے ہیں کہ آپ کے پاس قانون ساز اسمبلی اور پارلیمنٹ میں آواز اٹھانے کے لیے ایک نمائندہ ہو۔ یہ تب ہوگا جب ہم سب اپنے لوگوں کو منتخب کریں گے اور انہیں بھیجیں گے۔
وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ پر طنز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مرکز نے اتر پردیش میں اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لیے 116 کروڑ روپے مختص کیے تھے ، لیکن انہوں نے اس میں سے صرف 10 کروڑ روپے خرچ کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں نے یہ مسئلہ پارلیمنٹ میں اٹھایا جبکہ اکھلیش نے اس مسئلہ پر خاموشی اختیار کی۔ بعد میں صحافیوں سے بات چیت میں اویسی نے دعویٰ کرتے ہوئے کہاکہ آج کامسلمان جان چکاہے کہ کئی پارٹیاں ان کے ووٹ تو لیتی ہیں لیکن ان کا لیڈر نہیں بناتی اور نہ ہی پارٹی میں ان کی کوئی عزت ہوتی ہے ۔ مسلمانوں میں اب تبدیلی ہے، ہر سماج کا لیڈر ہے، اس سماج کو فائدہ مل رہاہے ، تو مسلم بھی چاہتا ہے کہ چاہے تعلیم ہو یا معیشت اس میں اس کی حصہ داری ہو۔
ایس پی ایم ایل اے عرفان سولنکی کے ذریعہ چھتیس گڑھ کی طرز پر اترپردیش اسمبلی میں نماز کے لیے جگہ مختص کئے جانے کی مانگ کے سوال پر اویسی نے کہاکہ ان جناب کو اترپردیش کےمسلمانوں کو یہ بتانا چاہئے کہ اکھلیش یادو کے دور میں مظفرنگر کا جو سانحہ ہوا تھا، 50 ہزار مسلمان اپنا گھر چھوڑ کر چلے گئے تھے، کتنے مسلمان واپس گئے اب تک؟ کتنی مساجد ویران پڑی ہیں۔ وہاں گئے اب تک؟ ان کو شرم نہیں آتی اس طرح کی بات کرتے ہوئے۔ وہ مساجد جو ویران پڑی ہیں جایئے وہاں نماز پڑھئے۔ آزادی کے بعد بانٹوارے کےبعد اتنی بڑی تعداد میں مسلمان بے گھر ہوئے ہیں اس کی بات نہیں کریں گے ۔
اویسی نے کہا کہ میری کوشش ہے کہ اتر پردیش کے انتخابات سے پہلے جہاں بھی میری تنظیم مضبوط ہو ، مجھے وہاں جانا چاہیے اور اپنے لوگوں اور وہاں کے لوگوں سے ملنا چاہیے۔ یہ انتخابی تیاری ہے تاکہ انتخابات میں اچھے نتائج آئیں۔
اویسی نے منگل کو لکھنؤ میں 2022 میں اتر پردیش کے سیاسی طور پر اہم اسمبلی انتخابات میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کی 100 نشستوں پر الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے اپنی مہم کا آغاز منگل کو ایودھیا کے رودولی سے کیا تھا۔
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اسد الدین اویسی نے منگل کو ایودھیا کے رودولی قصبے میں ایک ریلی میں دعویٰ کیا تھاکہ مسلمانوں کو سیکولرازم کے نام پر دھوکہ دیا گیا ہے ۔
اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور ایس پی سربراہ اکھلیش یادو کو نشانہ بناتے ہوئے اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ نے کہا کہ سیکولرازم کے نام پر مسلمانوں کے ساتھ دھوکہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ آج بے بس ہیں وہ اتر پردیش کے مسلمان ہیں۔ منگل کو ان کی ریلی کا مقام دھنی پور سے تقریباً 20 کلومیٹر دور تھا ، جہاں رام جنم بھومی کیس میں سپریم کورٹ کی ہدایت پر ایک مسجد تعمیر کی جا رہی ہے۔











