نئی دہلی ( ایجنسی)
فروری 2020 میں انل امبانی نے لندن کی ایک عدالت کو بتایا تھاکہ ان کی کل آمدنی صفر ہے۔ درحقیقت ان پر تین چین کی سرکاری بینکوں نے مقدمہ دائر کیا تھا، جن کی سماعت کے دوران یہ بیان آیا تھا۔ اس وقت عدالت نے امبانی کے بیرون ملک اثاثوں کے بارے میں سوالات اٹھائے تھے ، کیونکہ اس کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دی گئی تھی۔ تین ماہ بعد عدالت نے انل امبانی کو بینکوں کو 716 ملین ڈالر کی رقم ادا کرنے کا حکم دیا، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا اور کہا کہ ان کے پاس نہ تو بیرون ملک کوئی جائیداد ہے اور نہ ہی اسے کہیں سے کوئی منافع مل رہا ہے۔
انڈین ایکسپریس کے ذریعہ پانڈورا پیپرز کی جانچ میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ ریلائنس اے ڈی اے گروپ کے چیئرمین اور ان کے نمائندوں کےپاس جرسی،برٹش ورجن ائی لینڈس اور سائپرس جیسے مقامات پر کم سے کم 18غیر ملکی کمپنیاں ہیں ۔

ان کا قیام 2007 سے 2010 کے درمیان ہوا تھا اور ان میں سے سات کمپنیوں نے کم سے کم 1.3بلین ڈاکر کی سرمایہ کاری اور قرض حاصل کیا تھا۔ جرسی میں انل امبانی کے نام پر تین کمپنیاں بیٹسٹ ان لمیٹڈ ، ریڈیم ان لمیٹڈ اور ہیوانویسٹمنٹ ان لمیٹڈ ہیں۔ ان تمام کو دسمبر 2007 اور جنوری 2008 میں بنایا گیا تھا ۔
بیٹسٹ ان لمیٹڈ ( Batiste Unlimited) مالکانہ حق ریلائنس انوویشنز پرائیویٹ لمیٹڈ کے پاس ہے ، جس کی کمان انل امبانی کے مالکانہ حق والی اے ڈی اے گروپ کمپنی کے پاس ہے ۔ ہیوانویسٹمنٹ ان لمیٹڈ ( Huey Investments Unlimited)کے مالک کا نام اے اے اے انٹرپرائز لمیٹڈ ہے ۔ ( جسے 2014 سے ریلائنس انسپٹم پرائیویٹ لمیٹڈ کہا جاتاہے ) جس کی پروموٹر کمپنی ریلائنس کیپٹل ہے۔
ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ جنوری 2008 میں جرسی میں دو مزید کمپنیاں بنائی گئیں ، جن کا نام سمر ہل لمیٹڈ اور ڈلویچ لمیٹڈ ہیں۔ ان کے مالک کا نام انوپ دلال ہے جو انیل امبانی کے نمائندہ ہیں۔ ان کے نام پر ایک اور بی وی آئی کمپنی ہے ، جس کا نام رینڈیئر ہولڈنگز لمیٹڈ ہے۔ یہ کمپنی سرمایہ کاری کے مینجمنٹ کا کام کرتی ہے ۔

لارنس میوچوئل ، رچرڈ ایکویٹی لمیٹڈ اور جرمن ایکویٹی لمیٹڈ کےنام کی تین کمپنیاں بھی جرسی میں ہی ہیں اور جینوا کاایک وکیل ان کا مالک ہے ۔ ریکارڈس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کمپنیوں کو سروس دینے والی سات فرمسکو ریلائنس ؍ انل امبانی کی گارنٹی پر سرمایہ کاری کےلیے قرض بھی ملا تھا۔ اس سرمایہ کاری کی رقم دوسری کمپنیوں کو قرض دے کر گھمایا گیا تھا۔
انڈین ایکسپریس کے ذریعہ تفتیش کی گئی کچھ بڑی ٹرانزیکشنز:
بیٹسٹ ان لمیٹڈ اور ریڈیم ان لمیٹیڈ کے ریکارڈس یہ بتاتےہیں کہ ان کمپنیوں نے 500 ملین ڈالر اور 220 ملین ڈاکر کا قرض آئی سی آئی سی آئی سے لیا تھا ۔ اس رقم سے اے اے اے کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ کے لیے سی سی پی ایس ( کمپلسری کنور ٹیبل پروفرینس شیئرس ) لینا تھا ۔ یہ انل امبانی سے جڑی ممبئی کی ایک رئیل اسٹیٹ کمپنی ہے ۔
ڈلویچ نے یونائیٹڈ کنگڈم کے راک کلف گروپ سے 33 ملین ڈالر لئے تھے ۔ اس رقم کو سبسکرپشن ایگریمنٹ کے ذریعہ ماریشس کے ایک پرائیویٹ فنڈ کے ساتھ لیا گیا تھا۔ اس فنڈنے پیپا واو شپ یارڈ میں اپنا تین فیصدی حصہ بیچا تھا ۔ 2009-10سے یہ انلامبانی کے ذریعہ پروموٹیڈ ریلائنس نیول کےپاس ہے ۔
سمر ہل لمیٹڈ نے جی این پی ٹی ایل نامی کمپنی کو 90 فیصد خریدلیا۔ اس کمپنی کے بارے میں ابھی تک کوئی معلومات دستیاب نہیں ہے۔ خرید نے کے بعد ، کمپنی کے حصص کو نیدرلینڈ میں قائم کمپنی ریلائنس گلوب کام بی وی میں ٹرانسفر کر دیا گیا تھا ۔ لارنس میوچوئل ، رچرڈ ایکویٹی اور جرمن ایکویٹی لمیٹڈ نے مل کر 47.5ملین ڈالر کا قرض بارکلیز سے لیا تھا۔
انیل امبانی نارتھ اٹلانٹک کنسلٹنسی سروسز گروپ اور اس کے دو ذیلی ادارے برٹش ورجن آئی لینڈ میں ہیں۔ اس کے نام ناردرن اٹلانٹک ٹریڈنگ ان لمیٹڈ اور ناردرن اٹلانٹک انویسٹمنٹ ان لمیٹڈ ہیں۔ یہ تینوں کمپنیاں 2010 میں قائم کی گئیں۔ مارچ 2018 میں ان میں سے دو کمپنیاں ختم کر دی گئیں۔
جب ان غیر ملکی (آف شور) کمپنیوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انیل امبانی کے وکیل نے کہا کہ ہمارے موکل ہندوستانی شہری ہیں اور یہاں ٹیکس دیتے ہیں۔ انہوں نے ہندوستانی قوانین کے مطابق تمام ضروری معلومات ضروری محکموں کو دے دی ہیں۔ دیگر تمام اہم معلومات بھی لندن کی عدالت کو دی گئی ہیں۔ ریلائنس گروپ دنیا بھر کے قوانین کے دائرے میں قانونی کاروبار کرتا ہے۔ وہ مختلف دائرہ اختیار میں قائم کیے گئے ہیں۔
پانڈورا پیپرز کیا ہے؟
تقریباً 12 ملین لیک دستاویزات کی تحقیقات کی بنیاد پر پانڈورا پیپرز نے انکشاف کیا کہ دنیا کے کتنے امیر اور طاقتور اپنی دولت چھپا رہے ہیں۔ اس فہرست میں 380 ہندوستانیوں کے نام بھی ہیں۔ انڈین ایکسپریس نے اس فہرست سے 60 نمایاں کمپنیوں اور افراد کے ناموں کی تصدیق کی ہے۔ 117 ممالک کے 600 سے زائد صحافیوں نے کئی مہینوں سے پانڈورا پیپرز کی دستاویزات کی جانچ پڑتال کی ہے۔ پانڈورا پیپرز کے انکشافات میں انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) نے 14 ذرائع سے دستاویزات حاصل کیں۔
پاناما پیپرز نامی انکشافات کے بعد اب پانڈورا پیپرز دوسرا بڑا انکشاف ہے۔ یہ بات سامنے آئی ہے کہ دنیا کے کئی امیر اور طاقتور لوگ حکومتوں کی نظروں سے اپنی دولت چھپانے اور ٹیکس سے بچنے کے لیے منی لانڈرنگ کا سہارا لے رہے ہیں۔










