جے پور : (ایجنسی)
سال 2019 میںپہلو خاں لنچنگ معاملہ میں الور کورٹ سے بری شدہ چھ ملزمین کے خلاف راجستھان ہائی کورٹ نے 6 ستمبر کو ضمانتی وارنٹ جاری کیا۔ یکم اپریل 2017 کو پہلو خاں کو مبینہ طور سہ جانور وں کی اسمگلنگ کے شبہ میں ہجومی تشدد نے بےرحمی سے مارا پیٹا جس کے بعد ان کی موت ہوگئی تھی ۔
جسٹس گووردھن بردھر اور جسٹس وجے بشنوئی کی بنچ نے متاثرہ کے بیٹوں ارشاد اور عارف کی درخواست پر سمن جاری کیا۔ بنچ نے پٹیشن کو راجستھان حکومت کی جانب سے بری کرنے کے نچلی عدالت کے حکم کے خلاف دائر درخواست کے ساتھ جوڑ تے ہوئے حکم دیا۔
اپیل میں پہلو خان کیس میں ویپن یادو، رویندر کمار، کالو رام، دیانند، یوگیش اور بھیم سنگھ ملزم تھے۔پہلو خان کے بیٹوں کی طرف سے داخل اپیل میں کہا گیا ہے کہ اس معاملے میں کئی گواہ تھے جو خود زخمی تھے اور انھوں نے ملزمین کے نام بتائے تھے۔ اپیل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ لنچنگ کے دوران پہلو خان کو سنگین چوٹیں آئی تھیں، انہی چوٹوں کے سبب ان کی موت ہوئی۔ ساتھ ہی اس لنچنگ کے دوران استعمال کیے گئے اسلحے بھی ملزمین کے پاس سے برآمد ہوئے تھے۔ اپیل میں ذیلی عدالت کے فیصلے کو چیلنج پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ گواہوں کے بھروسے لائق بیانوں کے باوجود ذیلی عدالت نے اس کا نوٹس نہیں لیا اور ملزمین کو بری کر دیا۔
قابل ذکر ہے کہ پہلو خان اپنے بیٹوں کے ساتھ یکم اپریل 2017 کو اپنی گاڑی میں گایوں کو لے کر ہریانہ کے نوح ضلع جا رہا تھے تبھی راستے میں جے پور-دہلی شاہراہ پر بہروڑ کے پاس مبینہ گئو رکشکوں نے انہیں روکا۔ بھیڑ نے ان پر گائے اسمگلنگ کا الزام عائد کرتے ہوئے حملہ کر دیا۔ پہلو خان کو نزدیک کے اسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں 3 اپریل 2017 کو اس کی موت ہو گئی تھی۔
اس معاملے میں دو ایف آئی آر درج ہوئی تھیں۔ ایک ایف آئی آر پہلو خان پر حملہ کرنے والی بھیڑ کے خلاف تھی اور دوسری ایف آئی آر میں پہلو خان، اس کے بیٹوں اور ٹرک کے ڈرائیور کو ملزم بنایا گیا تھا۔ ان پر گایوں کو غیر قانونی طریقے سے ریاست کے باہر اسمگلنگ کر لے جانے کا الزام لگا تھا۔ پہلو خان اور اس کے بیٹوں کے خلاف داخل چارج شیٹ کو راجستھان ہائی کورٹ نے 2019 میں خارج کر دیا تھا۔











