اردو
हिन्दी
مئی 3, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

یوپی الیکشن سے قبل پوروانچل صوبہ بنانے کا پلان

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ گراونڈ رپورٹ
A A
0
یوپی الیکشن سے قبل پوروانچل صوبہ بنانے کا پلان
255
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

لکھنؤ:

پچھلے کچھ دنوں سے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی مرکزی قیادت کے مابین تنازع کی قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ سیاسی حلقوں میں اس کی وجہ اترپردیش میں قیادت کی تبدیلی اور کابینہ میں توسیع بتائی جارہی ہے ، لیکن اس کے پیچھے ایک اور کہانی سامنے آرہی ہے۔ ذرائع کے مطابق آئندہ سال ہونے والے اسمبلی انتخابات سے پہلے بی جے پی قیادت اترپردیش کو تقسیم کرکے الگ پوروانچل ریاست بنانے پر غوروخوض کررہی ہے ۔

’دینک بھاسکر‘ میں شائع خصوصی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی کے قریبی اور سابق ​بیوروکریٹ اے کے شرما کو اترپردیش بھیجنے اور انہیں قانون ساز کونسل کا ممبر بنانے کو بھی اسی سے جوڑ کر دیکھا جار ہاہے۔ شرما کچھ عرصہ سے وزیر اعظم کے پارلیمانی حلقہ وارانسی میں کورونا مینجمنٹ سنبھال رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر پوروانچل کا قیام ہوا تو گورکھپور بھی نئی ریاست میں ہی آئے گا ، جو یوگی کا گڑھ ہے۔ یوگی 1998 سے 2017 تک پانچ بار گورکھپور سے لوک سبھا ممبر پارلیمنٹ رہے ۔ یوگی گورکش پیٹھ کے مہنت بھی ہیں ۔ ان کا مرکز گورکھپور میں ہی ہے ۔

پوروانچل میں 23 سے 25 اضلاع اور 125 اسمبلی نشستیں ہوسکتی ہیں

ذرائع کے مطابق پوروانچل میں گورکھپور سمیت 23 سے 25 اضلاع شامل ہو سکتے ہیں ۔ اس میں 125 اسمبلی سیٹیں بھی ہوں گی ۔ کہا جا رہاہے کہ ان پہلوؤں کو لے کر یوگی خیمہ اتفاق نہیں کرتا۔ غور طلب ہےکہ الگ پوروانچل، بندیل کھنڈ اور ہریت پردیش کی مانگ کافی عرصہ سے چل رہی ہے ، حالانکہ پہلے یوگی سرکار نے پوروانچل کی ترقی کے لیے 28 اضلاع کا انتخاب کیا تھا۔

پوروانچل جیتنے والا ہی یوپی کی اقتدار پر قابض ہوتا ہے

یہ خیال ہے کہ یوپی میں اقتدار حاصل کرنے کا راستہ پوروانچل سے ہی ہو کر جاتا ہے، جس کے پاس پورانچل میں زیادہ سیٹیں آئی ، وہ یہاں کے اقتدار پر قابض ہوتاہے۔ گزشتہ 27 سال میںہوئےانتخابات کو دیکھیں تو پورانچل کے ووٹرکبھی کسی ایک پارٹی کے ساتھ نہیں رہا۔ 2017 میں 27 سال بعد بی جے پی کو بھاری اکثریت توملی، لیکن 10 اضلاع میں وہ پھر بھی کمزور ہے ۔

10 اضلاع میں بی جے پی کو کام کرناہوگا

28 اضلاع پر شامل 10 اضلاع میں بی جے پی ابھی بھی کمزور ہے، جبکہ سماج وادی پارٹی کا دبدبہ بناہوا ہے ۔ کچھ اضلاع ایسے ہیں جہاں 2017 میں بی جے پی نےبرتری حاصل کی ہے ، لیکن 2022 انتخابات میں یہ برتری قائم رہے اس بات کی توقع ہے ۔ان دس اضلاع میں شامل 3 ضلع میں حد بندی کے بعد سیٹوں کی گنتی میں رد وبدل ہوا ہے ۔

پوروانچل میں بی جے پی کیوں کمزور ہوجاتی ہے؟

بنارس ہندو یونیورسٹی کے پولیٹکل سائنس کے پروفیسر کوشل کشور مشرا کہتے ہیں’ بی جے پی کا پوروانچل میں کوئی ووٹ نہیں ہے۔ پوروانچل میں انتخابات کے دوران مذہب اور ذات پات دونوں چلتاہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی برہمن -دلت مسلم فارمولیشن کے بہانے بی ایس پی اور کبھی ایم -وی (مسلم – یادو) فارمولیشن کے بہانے ایس پی نے یہاں اکثریت حاصل کی ہے ۔ اسی طرح جب ہندوتوا کا احساس بی جے پی نے جگایا تب پارٹی کو برتری ہاتھ لگی۔‘

مشرا کہتے ہیں کہ’1991 کے بعد بی جے پی کمزور پڑگئی ہے، کیونکہ اس کے پاس ایسا کوئی مدعہ یا کوئی فارمولیشن نہیں تھا جس سے وہ ہندوتوا کاایجنڈا کھڑا کرسکے۔ 1991 میں جب ہندوتوا کا مدعہ بی جے پی نے اٹھایا تو اسے اکثریت ملی۔ 2014 میں جب نریندرمودی پی ایم بنے تو 2017 میں ایک بار پھر ہندوتوا کے ایجنڈے کے بہانے ہی پوروانچل سے اکثریت ملی،چونکہ 1991 کے بعد بی جے پی تنظیم بھی کافی کمزور تھی جو اب مضبوط بن گئی ہے ۔

کسی بھی ریاست کی تقسیم میں مرکزی وزارت داخلہ کا رول اہم ہوتاہے۔ ساتھ ہی اس ریاست کے گورنر بھی خفیہ رپورٹ مرکز کو بھیج کر ریاست کی بٹوارے کی سفارش کرسکتے ہیں، چونکہ بٹوارے کی تجویز دونوں ایوانوں سے پاس کراکر مرکز کو بھیجنا ہوتا ہے، لہٰذا اسمبلی اسپیکر کا رول بھی ضروری ہے ۔

حالانکہ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ یوپی کی تقسیم اب قدرے مشکل ہے۔ انتخابات میں تقریباً 8 ماہ باقی ہیں ، جبکہ تقسیم اور حد بندی میں کافی وقت لگتا ہے۔ کسی بھی ریاست کی تقسیم وہاں ہونے والے انتخابات سے ڈیڑھ سال قبل کی جاتی ہے اور یوپی آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑی ریاست ہے۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

ہم متبادل ورلڈ آرڈر کے حق میں، ٹیرف متاثرین کے لیے سرکار ہر ضروری قدم اٹھائے: امیر جماعت
گراونڈ رپورٹ

ہم متبادل ورلڈ آرڈر کے حق میں، ٹیرف متاثرین کے لیے سرکار ہر ضروری قدم اٹھائے: امیر جماعت

06 ستمبر
سنبھل فساد کی تحقیقاتی رپورٹ میں ایسا کیا ہے کہ یوگی حکومت پر اٹھے سوال دبا دیئے گیے؟
گراونڈ رپورٹ

سنبھل فساد کی تحقیقاتی رپورٹ میں ایسا کیا ہے کہ یوگی حکومت پر اٹھے سوال دبا دیئے گیے؟

01 ستمبر
آسام:بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت وتشدد میں بےحد اضافہ:India Hate Lab نے نیا ڈیٹا جاری کیا
گراونڈ رپورٹ

آسام:بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت وتشدد میں بےحد اضافہ:India Hate Lab نے نیا ڈیٹا جاری کیا

03 اگست
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN