الٰہ آباد : (ایجنسی)
15 اکتوبر کو الٰہ آباد کے اخبارات یہاں سے کچھ دہشت گردوں کے پکڑے جانے کی خبروں سے بھرے ہوئے تھے۔ پکڑے گئے مسلم لڑکوں کا تعلق پاکستان کی آئی ایس آئی سے بتایا گیا اور یہ بھی بتایا گیا کہ یہ لوگ ریاست کے اہم مقامات پر دھماکوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے جو پہلے ہی پکڑلیا گیا۔ ان لڑکوں کے ساتھ ہی رائے بریلی اور لکھنؤ سے بھی 3 افراد کی گرفتاری کی اطلاعات تھیں جن کا آپس میں سازش کا تعلق بتایا گیا۔ اے ٹی ایس کی جانب سے 15 ستمبر کو جاری کی گئی پریس ریلیز میں کہا گیا کہ 6 افراد کو تین جگہوں سے گرفتار کیا گیا جن میں 2 نام الہ آباد سے ہیں ، تاہم بعد میں الہ آباد سے گرفتاریوں کی تعداد 4 ہو گئی۔ دہلی سے دو بھائیوں کو بھی اٹھایا ، جو الہ آباد میں گرفتار حمید کے خاندان کے رکن ہیں اور آپس میں بزنس پارٹنر بھی ہیں۔
14 ستمبر کو ان کی گرفتاری کے بعد ان کے بارے میں کئی دنوں تک گمراہ کن معلومات اخبارات میں آتی رہیں، جس میں کچھ لوگوں کو چھوڑے جانے کی بات بھی شامل تھی۔ ان گمراہ کن خبروں کے آتے رہنے کی وجہ اور علاقے کے لوگوں کے ذریعہ گرفتار لوگوں کو بے گناہ بتائے جانے کی وجہ سے الہ آباد پی یو سی ایل نے اس کی جانچ کا فیصلہ کیا اور ٹیم تشکیل دی۔ اس ٹیم میں ہائی کورٹ کے ایڈووکیٹ اور پی یو سی ایل کے سینئر پارٹنر کے کے رائے ، ایڈووکیٹ سیما آزاد ، ایڈووکیٹ چارلی پرکاش ، ایڈووکیٹ سونی آزاد اور پی یو سی ایل الہ آباد کےسیکریٹری منیش سنہا شامل تھے۔ جاوید محمد ، عمر خالد ، کلیم اور راہل نے مقامی سطح پر تعاون کیا۔ 21 ستمبر کو تحقیقاتی ٹیم نے گرفتار ذیشان اور حمید کے اہل خانہ سے بات کی جبکہ گرفتار طارق اور شاہ رخ کے گھر والوں نے دہشت میں خود کو گھر میں بند کر رکھا ہے اور کسی سے بات نہیں کر رہے۔ لیکن پڑوسیوں سے معلوم ہوا کہ شاہ رخ جس کی تفتیش کے بعد چھوڑ دئے جانے کی خبر اخبارات میں شائع ہوئی تھیں وہ جھوٹ ہے ،اسے رہا نہیں کیا گیا ہے ۔
جانچ ٹیم کو دو لوگوں ذیشان اور حمید کے گھر کے لوگوں اور مقامی لوگوں سے بات کرکے جو باتیں معلوم ہوئیں ہیں :
1- ذیشان اور طارق کو 14 ستمبر کی صبح گرفتار کیا گیا۔ طارق کو ذیشان سے پہلے گرفتار کیا گیا تھا۔ ذیشان کے والد نے بتایا کہ اے ٹی ایس کے لوگ صبح 10 بجے آئے اور ذیشان سے پوچھ گچھ کے بعد واپس چلے گئے ، پوچھ گچھ ایک مسئلے پر مرکوز تھی کہ پرسوں کہاں تھے؟ آدھے گھنٹے کے بعد وہ دوبارہ طاہر نامی لڑکے کے ساتھ آئے، پھر ذیشان کو یہ کہتے ہوئے لے گئے کہ اسے کچھ معلومات کرنی ہیں ، پھر چھوڑ دیں گے۔رات میں 11:30بجے کے آس پاس ایک بار انہوں نے ذیشان سے فون سے گھر والوں کی بات کرائی ۔ پھر صبح 6 بجے اے ٹی ایس نے پھر ذیشان کی گھروالوں سے بات کرائی ، جس میں اس نے دہلی لے جانے کی بات کہی۔
2- ذیشان کے بارے میں اس کے والد نے بتایا کہ اس نے ایم بی اے کیا ہے۔ وہ نوکری کے لیے مسقط گیا تھا۔ پہلے ذیشان کے والد بھی یہی کام کرتے تھے اور ذیشان کا بچپن وہیں گزرا۔ لاک ڈاؤن کے بعد وہ اپنے ملک واپس آگیا۔ کچھ دن خالی بیٹھے رہنے کے بعد طاہر نے اس کی ملاقات حمید سے کرائی ، جو کھجور کا کاروبار کر رہا تھا۔سعودی عرب سے بڑی مقدار میں کھجور آتا ہے ، پھر اسے ملک کے کئی حصوں میں بھیجا جاتا ہے۔اس بزنس میں حمید کے کہنے پر ذیشان نے بھی پیسہ لگایا ، لیکن وہ پیسہ اسے واپس نہیں مل سکا، پیسہ واپس مانگنے پر حمید اسے کئی دنوں سے دوڑا رہا تھا ۔
3- اپنی پریس ریلیز میں اے ٹی ایس نے ذیشان پرپاکستان جا کر آئی ایس آئی سے ٹریننگ لینے کی بات کہی ہے ، جبکہ ذیشان کے والد نے بتایا کہ وہ کبھی پاکستان نہیں گیا اور نہ ہی اس کا کوئی رشتہ دار ہے۔
4- ذیشان کو 15 ستمبر کو صبح 11:30 بجے دہلی کی پٹیالہ کورٹ میں پیش کیا گیا۔ اسی دن اے ٹی ایس کی طرف سے جاری ایک پریس ریلیز میں اترپردیش سے 6 دہشت گردوں کی گرفتاری کی بات کی گئی ، جس میں ذیشان اور طارق کے نام الہ آباد سے تھا۔
5- حمید کے گھر میں جانچ ٹیم کی ملاقات حمید کی دو بہنوں اور بھائی مولانا سیف الرحمن سے ہوئی ۔
بہنوں نے بتایا کہ جب 15 ستمبرکی صبح 7:45 بجے گیٹ کا تالا کھولا گیا ، اسی وقت ، تقریباً 40-50کی تعداد میں وردی اور سادہ لباس میں اے ٹی ایس کے لوگ زبردستی گھر کے اس حصے میں داخل ہوئے جو کہ حمید کا نہیں بلکہ الگ حصہ ہے ۔ گھر کے 6 بھائیوں کے حصوں کا تقسیم ہو چکاہے ، حمید اپنے پریوار کے ساتھ اپنے حصےمیں رہتا تھا ۔ انہوں نے سب کے موبائل چھین لئے ،ہر کمرہ کھلوا دیا جس میں بیٹی ،دمید ،بیٹے بہو ابھی سوئے ہی تھے ۔ بہنوں نے بتایا کہ انہوں نے ابو سے پوچھاکہ کتنے ہتھیاروں کا لائسنس ہے آپ کے پاس؟ اور سرکاری نوکری میں کتنے لوگ ہیں۔ ابو نے بتایا کہ ایک بھی لائسنس نہیں ہے ہمارے پاس۔ حمید کے بارے میں جب بتایا کہ دوسری طرف گھر ہے تو تمام ادھر بھاگے، کچھ پھر بھی وہیں بیٹھے رہے۔ حمید کی بیوی سے انہوں نے تین گھنٹے تک پوچھ گچھ کی۔ بار بار ایک ہی بات پوچھ رہے تھے کہ اسلحہ کہاں ہے ؟ حمید نے دو شادی کی ہے ، کیرلی کے ترنگا چوراہے پر رہنے والی اس کی دوسری بیوی سے بھی بعد میں اسی طرح کی پوچھ گچھ کی گئی ۔
6- حمید کے دو بھتیجے 22 سالہ اسامہ کو بھی پولیس نے اسی دن صبح دہلی سے گرفتار کرلیا تھا۔ اسامہ اپنے بڑے بھائی کے پریوار اور اپنے بیوی بچوں کے ساتھ دہلی میں رہتا ہے۔ دونوں بھائی بھی حمید کے ساتھ کھجور کی بزنس میں بھی پارٹنر تھے۔ اس بزنس کا مین اسامہ کے والد یعنی حمید کے بڑے بھائی ہے ، جو سعودی عرب میں رہتے ہیں ۔ حمید بھارت میں اس بزنس کو دیکھتاہے ۔ بھائی نے بتایاکہ ان کے گھر پر اسی وجہ سے اےٹی ایس کے علاوہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ ( ای ڈی ) کی ٹیم بھی آئی ۔
7- صرف اسامہ ہی نہیں ، اسامہ کے بڑے بھائی کا بھی اسی دن سے کوئی معلومات نہیں مل رہی ہیں، گھر والوں کا کہنا ہے کہ اسے بھی اے ٹی ایس والوں نے اٹھایا ہے۔ اس کے گھر کے تمام موبائل فون اے ٹی ایس والوں نے چھین لیے ہیں، جبکہ دونوں بھائیوں کی بیویاں حاملہ ہیں ، اور کہیں بھی فون نہیں کر پارہی تھیں ۔
8- حمید نے گھر پر اس چھاپے کے تین دن بعد 18 ستمبر کو رات 8 بجے کے قریب گھر پر فون کیا کہ وہ سرینڈر کرنے جارہا ہے ، اسی کے کچھ وقت بعد اس نے کوتوالی میں سرینڈر کردیا ۔
8-19 ستمبر کو اسی کیس میں مطلوب شاہ رخ کی ایک فیس بک ویڈیو منظر عام پر آئی جس میں اسے یہ کہتے ہوئے دیکھا گیا کہ وہ نہیں جانتا تھا کہ باکس میں کیا ہے ، جو اس نے نینی واقع پولٹری فارم میں 12 یا 13 ستمبر کو رکھا تھا ۔ وہ باکس رکھنے کے لئے اسے حمید نے دیا تھا اور اس نے اسے کھول کر نہیں دیکھا تھا۔ ویڈیومیں اس نے یہ بھی کہاکہ اس کے پاس 14 ستمبر کی صبح اے ٹی ایس والوں کا فون آیا تھا ، جنہوںنے اسے پوچھ گچھ کے لیے بلایا تھا۔ دن بھر کی گرفتاریوں سے گھبرا کر اس نے اسی شام اے ٹی ایس والے نمبر پر فون کیا تو کسی نے اٹھایا نہیں ،اور فون سوئچ آف کرلیا، پھر اس نے 19ستمبر کی شام خود ہی کوتوالی جاکر سرینڈر کیا۔ اس کے پہلے اس نے فیس بک پر مذکورہ بیان دیا ۔
9- گرفتار افراد کے خلاف مقدمہ نمبر 223/21 میں 120 -بی آئی پی سی اور 18/20یواے پی اے کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی۔ یہ ایف آئی آر 10 ستمبر کو دہلی کے لودھی رڈ واقع دہلی اسپیشل سیل کے ذریعہ درج کی گئی ۔ جس میں کسی کا نام تحریر نہیں ہے ۔ یعنی یہ رپورٹ نامزد نہیں ہے ۔
مذکورہ حقائق کی بنیاد پر تفتیش کے نتائج
1-اے ٹی ایس ، دہلی اسپیشل نے الہ آباد سے ہوئی ان گرفتاریوں میں کئی بار کئی طرح سے قانونی عمل کی خلاف ورزی کی ہے ، جس کی وجہ سے یہ گرفتاریاں اور اس تناظر میں پولیس کی کہانی مشکوک ہوجاتی ہے۔
2- جن لوگوں کو اے ٹی ایس اور دہلی اسپیشل سیل نے پاکستان کے حمایت یافتہ بڑے دہشت گردوں کے طور پر بیان کیا ، وہ اپنی گرفتاری کی بھنک ملنے کے بعد بھی بھاگ نہیں گئے ، تفتیش میں تعاون کیا اور خود کوسرینڈر کیا ، یہ بات بھی پولیس کے بڑے دعوؤں پر سوال کھڑے کرتی ہے ۔
3- گرفتار لوگوں کے خلاف درج ایف آئی آر میں ، جو 10 ستمبر کو درج کی گئی تھی ، نہ تو کسی کا نام کا ذکر ہے اور نہ ہی جگہ کا کہ وہ کہاں کے رہنے والے ہیں، ان کا موجودہ پتہ کی ہے وغیرہ۔ پھر اے ٹی ایس نے ملزمین کی صحیح شناخت کیسے کی ،یہ سمجھ میں نہیں آیا ۔
4- نینی سے دھماکہ خیز مواد اور ہتھیاروں کی دریافت مشکوک معلوم ہوتی ہے ، کیونکہ-
(A) ایف آئی آر میں دھماکہ خیز مواد پائے جانے کی جگہ یا قسم یا اسلحوں ہتھیاروں کی قسم کا کوئی ذکر نہیں ہے ۔ پھر نینی واقع پولٹری فارم میں ہی دھماکہ خیز موادکی بات کیسے سامنے آئی ۔
(B) شاہ رخ نے اپنی ویڈیو میں 12 یا 13 ستمبر کوکسی ’باکس‘ رکھنے کی بات کی ہے ، پھر یہ 10 ستمبر کی ایف آئی آر میں کیسے درج ہو سکتا ہے؟
(C) اے ٹی ایس نے کہا ہے کہ دھماکہ خیز مواد نینی کےڈنڈی واقع پولٹری فارم سے ملا ہے ، لیکن اسے پریس کے سامنے نہیں دکھایا گیا ، جیسا کہ یہ دوسرے تمام معاملات میں کرتے رہے ہیں۔ اس سے یہ واضح نہیں کہ آیا دھماکہ خیز مواد وہاں تھا ، پھر یہ کس قسم کا تھا اور کتنا تھا۔ اسلحہ کتنے اور کیسے تھے؟
(D) جو کچھ شاہ رخ نے اپنی ویڈیو کے ذریعے کہا ہے وہ عدالت کے سامنے قابل قبول نہیں ہوگا، کیونکہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس نے کسی دباؤ کے بغیر کہا ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ 10 ستمبر کو ایف آئی آر درج کرنے کے بعد ، اے ٹی ایس نے شاہ رخ کو لالچ دے کر یا دھمکی دے کر باکس رکھوایا ہو تاکہ ثبوت بنا سکے۔ یہ سب تفتیش کا معاملہ ہے ، کیونکہ یہ بہت ہی عجیب بات ہے کہ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد کسی کیس میں مجرمانہ فعل کیا گیا ہے۔ یہ بھی عجیب بات ہے کہ 14 ستمبر کو خود شاہ رخ نے اے ٹی ایس کے نمبر پر فون کیا اور انہوں نے اسے پوچھ گچھ کے لیے نظر انداز کر دیا یا گرفتار کر لیا ، اس نے خود ویڈیو بناتے ہوئے 19 ستمبر کو دن کی روشنی میں سرینڈر کر دیے۔
5- ذیشان کے والد نے بتایا کہ اے ٹی ایس کے لوگ ایک بار ان کے پاس آئے اور تھوڑی بہت پوچھ گچھ کے بعد واپس لوٹ گئے ، تقریباًآدھے گھنٹے کے بعد انہوں نے آکر اسے گرفتار کرلیا۔ اگر ذیشان واقعی آئی ایس آئی کے ساتھ کام کرنے والا دہشت گرد ہوتا تو اسے خطرے کو سمجھنا چاہیے تھا اور اس دوران وہ فرار بھی ہو سکتا تھا ، لیکن وہ بھاگا نہیں، اے ٹی ایس نے اسے ایک بار پھر چھوڑ دیا اور آرام سے لے گیا۔پولیس کی بڑے پاکستانی دہشت گردی والی کہانی پر شکوک وشبہات کھڑا کرتی ہیں ۔
6- ذیشان کو اے ٹی ایس نے الہ آباد میں اس کے گھر سے گرفتار کیا اور دہلی کی عدالت میں پیش کیا ، لیکن اس عمل میں اس نے الہ آباد عدالت سے کوئی ٹرانزٹ ریمانڈ نہیں لیا ، حالانکہ یہ دو ریاستوں کے درمیان کا معاملہ ہے۔ اور نہ ہی اسے 24 گھنٹوں کے اندر عدالت میں پیش کیا۔ اس طرح اس نے گرفتاری کے قانونی عمل کی خلاف ورزی کی۔
7- ان حقائق کے پیش نظر ایک حتمی نتیجے کے طور پر ، الہ آباد سے ان کی گرفتاریوں کی پولیس کہانی بہت سارے سنگین شکوک و شبہات میں گھری ہوئی ہے ، اور ایک بڑی پولیس سازش کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ دہلی پولیس کا اسپیشل سیل اس معاملے میں پہلے ہی بدنام ہے ، اس لیے ان شبہات کو رد نہیں کیا جا سکتا جس کا اظہار ذیشان کے والد اور حمید کے بھائی نے اپنی گفتگو میں کیا تھا۔ ذیشان کے والد نے کہا کہ ’یہ حکومت پڑھے لکھے مسلم نوجوانوں کو نشانہ بنا رہی ہے ، اسی لیے میں نے ذیشان کو مسقط بھیجا تھا ، لیکن جب لاک ڈاؤن میں نوکری چلی گئی تو اسے واپس آنا پڑا۔‘
حمید کے بڑے بھائی نے کہا ، ’’یہ حکومت مسلم مخالف حکومت ہے ، یہ نہیں چاہتی کہ ہم آگے بڑھیں۔ حمید کا کھجور کا کاروبار صرف 2 سال میںفرش سے عرش پر پہنچ گیا تھا ، اس لیے لوگوں کی نظر میں آیا کہ اس کا کاروبار ختم کرنا ہے ، اس لیے ہمارے گھر سے 3 لوگوں کو اٹھایا ہے ۔ ای ڈی کی ٹیم کا آنا بھی اس جانب ہی اشارہ کرتی ہے ۔
پچھلے کئی سالوں سے حکومتیں دہشت گردی کا نام لے کر بے قصور مسلمان لڑکوں کو جیلوں میں بند کررہی ہے ۔ الیکشن کے پہلے ہندو ووٹوں کو پولرائز کرنے کے لیے اس سرکاری کام میں تیزی آجاتی ہے ۔ موجودہ معاملہ جس میں الہ آباد سے 4 لوگ اس وقت پولیس کی گرفت میں ہے، اسی سلسلے کاحصہ ہو، اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا،کیونکہ جانچ میں پولیس کی جانب سے کئی مشکوک باتیں اور حقائق سامنے آئے ہیں ۔ جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے ۔
آخر ی میں پی یو سی ایل الٰہ آباد کی یہ مانگ ہے کہ اس معاملے کی جانچ کیسی جج کی سربراہی والی ٹیم سے کرائی جانی چاہئے ۔ بے قصوروں کی گرفتار ی جمہوریت اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لحاظ سے بہت خطرناک ہے ۔
پی یو سی ایل الہ آباد کی طرف سے جاری رپورٹ
منیش سنہا، سکریٹری ، الہ آباد پی یو سی ایل
(بشکریہ : میڈیا ویجل )










