لکھنؤ :
بہوجن سماج پارٹی کی حیثیت 2017 کے اسمبلی انتخابات میں ہی علاقائی جماعتوں کی طرح 20 سے بھی کم سٹیوں پر رہ گئی تھی، لیکن پچھلے ساڑھے چار سالوں میں پارٹی نے جس طرح کی حکمت عملی اپنائی ہے ، وہ ایک خاص خطے میں کارآمد جماعتوں کی طرح ہو کر رہ گئی ہے۔ اس وقت پارٹی کے سات ایم ایل اے میں سے ایک کو چھوڑ دیں تو باقی چھ پروانچل کے ہی بچے ہیں۔
ریاست کی اقتدار پر چار بار قابض بی ایس پی ایک بار اپنے طور پر مکمل اکثریت کی سرکار بنا چکی ہے، مگر 2017 کے اسمبلی انتخابات کی شکست کے بعد پارٹی ایک ایک کر کے لگاتار ایسے قدم اٹھا رہی ہے ، جس سے اس کی سیاسی کردار اور بھی محدود ہونے کا اندازہ لگایا جانے لگا ہے۔ بی ایس پی نے 2017 کے اسمبلی انتخابات میں 19 سیٹیں جیتی تھیں۔ ضمنی انتخاب میںایک سیٹ گنوانے کے بعد پارٹی کی سیٹیں 18 رہ گئیں۔ مگر بی ایس نے عوام کے پیغام کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔
صورتحال کچھ ایسی تھی کہ مودی لہر اور چیلنج والے دنوں میں منتخب نشستوں پر کامیابی ملنے کے بعد آنے والے ایم ایل اے کو بھی نہیں بچا سکی۔ ساڑھے چار سال کے اندر 11 ممبران اسمبلی کے خلاف معطلی یا برطرف کئے جانے کی کارروائی ہو چکی ہے ۔ ان میں بی ایس پی کے قیام کے وقت سے پارٹی کا جھنڈا اٹھانے اور جد وجہد کرنے والے پارٹی کے پسماندہ چہرہ سابق ریاستی صدر رام اچل راجبھر و قانون ساز اسمبلی کے سبکدوش لیڈر لال جی ورما شامل ہیں۔ ان دونوں لیڈروں کو پارٹی سے بے دخل کئے جانے کے ساتھ ہی غیر منسلک قرار دیا جاچکاہے ۔
اس سے بی ایس پی کی اسمبلی سرکاری طور پر تعداد 16 ہی رہ گئی ہے ، لیکن عملی طور پر دیکھیں تو صرف سات ایم ایل اے ہی پارٹی کے ساتھ رہ گئے ہیں۔ یہ تعداد 2017 کے اسمبلی انتخابات میں جیتے اپنا دل (سونے لال ) کی 9 سیٹوں سے دو کم اور طویل عرصے سے سنجیوانی کی تلاش میں بھٹک رہی کانگریس کی سات سیٹوں کے برابر ہے۔ تاہم کانگریس کے دو اراکین اسمبلی باغی رویہ دکھاچکے ہیں۔
ماہرین کا بتاتے ہیں کہ بی ایس پی کے دو اور ایم ایل اے دوسری پارٹیوں کے رابطے میں ہیں ، جو ٹکٹ کی یقین دہانی ملتے ہی پارٹی بدل سکتے ہیں۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ بی ایس پی میں شامل بہت سے لوگ اپنے سیاسی مستقبل کو محفوظ نہیں دیکھ رہے ہیں۔ بی ایس پی جس نے لوک سبھا انتخابات میں اتحاد بنا کر اپنی سیاسی بنیاد کو کمزور کیا ہے ، لگتا ہے کہ وہ اپنے زمینی لیڈروں اور ایم ایل اے کو کھو کر اپنی باقی طاقت بھی گنوانے کی راہ پر آگے بڑھ رہی ہے ۔










