گردوپیش:.سید حسین شمسی
(نوٹ :یہ سنجیدہ مضمون ایک نقطہ نظر کے طور پر دیا جارہا ہے ،بورڈ کے اچانک التوا کے فیصلہ پر شدید ردعمل دیکھا جارہا ہے ،یہ اس کا ایک اظہار ہے)
سمجھ سے بالاتر ہے کہ ہمارے اکابر حضرات احتجاج کی کوئی بھی تاریخ طے کرتے وقت کیلنڈر سامنے رکھنے اور زمینی حالات کا باریک بینی سے جائزہ لینے کی زحمت کیوں نہیں کرتے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ احتجاج کے لئے اعلان شدہ تاریخ ملتوی ہوئی ہو؛ ماضی میں بھی کئی بار ملت کے جذبات کو ابھارنے کے بعد اچانک قدم پیچھے ہٹا لیا گیا ہے۔
*سوال یہ ہے* کہ پہلے آپ ملت کے غیّور لوگوں میں احتجاجی روح پھونکتے ہیں، آپ کی ہی اپیل پر وہ پورے ملک میں بِگُل بجاتے ہیں، ضرورت کے مطابق مالی تعاون بھی کرتے ہیں، تو پھر اس کے بعد احتجاج کی تاریخ کو اتنی سہولت سے بدل دینا یا منسوخ کر دینا "ملت کے جذبات سے کھیلنے کے مترادف نہیں تو اور کیا ہے”؟ آپ یہ بھی بخوبی جانتے ہیں کہ احتجاج کی ان تیاریوں سے صرف عوام ہی نہیں بلکہ حکومت و انتظامیہ بھی متوجہ ہو جاتے ہیں، سوشل میڈیا پر بحث و مباحثے چھڑ جاتے ہیں، مخالفین منفی طور پر اپنی حکمت عملی ترتیب دینے لگتے ہیں، کئی شہروں میں تو ماحول بھی کشیدہ نظر آنے لگتے ہیں۔ سو بتائیے… ایسے موقع پر قیادت کا اچانک پیچھے ہٹ جانا مایوسی ہی نہیں بلکہ عوامی اعتماد کو بھی متزلزل نہیں کر دیتا…؟
*کیا ہمارے اکابر حضرات کو اندازہ ہے* کہ ان کی تازہ ترین اپیل پر تاجروں اور دکانداروں نے آدھی دن کے "بند” کا متحدہ طور پر منصوبہ بنا لیا تھا؟ اور ہم جیسے ملازمت پیشہ افراد نے بھی دفتروں میں لِیو ایپلی کیشن دے دی تھیں؟ سو ایسے میں تاریخ ملتوی کر دینا صرف ایک احتجاج کی منسوخی نہیں بلکہ عوامی اعتماد کو دھچکا پہنچانے کے مترادف ہے۔
*مزید دکھ کی بات یہ ہے* کہ عوام میں یہ تاثر پھیل رہا ہے کہ اتر پردیش کے شہر بریلی میں گزشتہ جمعہ احتجاجیوں کو دوڑا دوڑا کر پولیس کا لاٹھیاں بانجھنا، احتجاج کال کرنے والے نامچین لوگوں کی بے دریغ گرفتاریاں، اس پر مستزاد وزیر اعلی کی غیر اخلاقی اور غیر ذمہ دارانہ وارننگ، اس منظر نامہ نے مسلم پرسنل لاء قیادت کو حد درجہ خائف کر دیا، نتیجتاً انہیں اپنے معلنہ "خاموش احتجاج” کو مؤخر کرنا پڑا۔ اب یہ تاثر، خواہ غلط ہو کہ صحیح، قیادت کے لئے نقصان دہ ضرور ہے۔ اس سے عمومی سطح یہ پیغام گیا ہے کہ قیادت پہلے عوام کو احتجاج کے لئے ابھارتی ہے، لیکن بعد میں خود دباؤ کے آگے جھک جاتی ہے۔
*ہمارا یقین ہے* کہ پرسنل لاء بورڈ نے اگر صرف وقف بورڈ سے متعلق یہ احتجاج کیا ہوتا تو ملتوی کرنے کی نوبت نہ آتی۔ آپ مانیں یا نہ مانیں آپ کو خود اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ہوگا کہ "آئی لو محمد” معاملے پر حکومت کے "غضبناک تیور” اور اوقاف سے متعلق حکومت کی بدنیتی کے خلاف دونوں احتجاج کو یکجا نہیں کرنا چاہئے تھا۔ دونوں مسائل کو الگ الگ رکھنا زیادہ موزوں اور حکیمانہ ہوتا۔
*دیکھنے میں یہ بھی آیا ہے* کہ حالیہ چند احتجاجی کال پر بورڈ کے تمام اراکین یک رائے نظر نہیں آئے، ورنہ کیا وجہ ہے کہ احتجاجی مہم کے دوران بورڈ کے بعض اہم اراکین خود کو اس تحریک سے الگ کرتے نظر آئے۔ تو کیا ان سے مشورہ نہیں کیا جاتا؟ ہم زیادہ پیچھے نہ جاتے ہوئے بورڈ کے تازہ ترین احتجاجی اعلان سے انحراف کرنے والے بورڈ کے فعال رکن مولانا خالد عبد الرشید فرنگی محلی کی نقل وحرکت پر نظر ڈالیں، موصوف لکھنؤ میں میڈیا کے سامنے آکر اپنے خاص انداز میں گویا ہوتے ہیں: "بہت ہوگیا آئی لَو محمد، اب بند ہونا چاہئے”. خیال رہے، یہ وہی فرنگی محلی ہیں، جو اکثر وبیشتر ٹی وی اسکرین پر مسلم پرسنل لا بورڈ کی ترجمانی کرتے نظر آتے ہیں. بورڈ کے اراکین میں انحرافی رجحان دیکھتے ہوئے یہی کہا جا سکتا ہے کہ یا تو بورڈ کی اعلیٰ کمان تمام عہدیداران و اراکین کو اعتماد میں لیتے ہوئے فیصلہ نہیں کرتی یا پھر بورڈ کے موقف سے ہٹ کر بیان "داغنے” والے اپنی مرضی کے مالک اور دسترس سے باہر ہیں۔ کیا اعلیٰ کمان اتنا کمزور ہے کہ بورڈ کو ایسے لوگوں سے پاک بھی نہیں کر سکتا….؟
*ایک اور باعث تشویش بات:* اتر پردیش جہاں سے قاری طیب صاحب، مولانا سید ابوالحسن علی میاں ندوی، مولانا محمد سالم قاسمی اور مولانا سید رابع حسنی رحمہم اللّٰہ جیسی عظیم شخصیات مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدارتی عہدے پر فائض رہیں، جس ریاست میں شاہ بانو کیس اور بابر مسجد بازیابی تحریک نے حکومت کی چولیں ہلا دیں، اس ریاست میں پرسنل لاء بورڈ تقریباً سرد ہوچکا ہے، اس کا اندازہ آپ ذہن پر تھوڑا سا زور ڈالتے ہوئے بخوبی لگا سکتے ہیں کہ بورڈ کے گزشتہ چند معلّنہ اپیل پر کس حد تک عمل کیا گیا۔ ہمیں یقین ہے کہ آپ یہ رائے قائم کرنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کی تحریکات و سرگرمیوں کے تئیں اتر پردیش میں سردمہری قائم ہے۔
آخری بات: ہم دکھتی رگ پر انگلی رکھنے کے بجائے بورڈ کے اعلیٰ کمان سے مؤدبانہ گزارش کرتے ہیں کہ آئندہ جب کبھی کسی احتجاج یا پروگرام کے لئے کوئی تاریخ طے کریں، تو حالات کا باریک بینی سے تجزیہ ضرور کرلیں۔ ریاستی سطح کی باڈیز اور متعلقہ قیادت کو بھی اعتماد میں لیں، تاکہ ایک اجتماعی اور متفقہ رائے سامنے آ سکے۔ بصورتِ دیگر، ملت کی قیادت پر جگ ہنسائی تو ہوگی ہی، ساتھ ہی عوامی اعتماد بھی رفتہ رفتہ کمزور پڑتا جائے گا۔
قیادت کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ عوام کا جذبہ وقتی اُبال نہیں ہے جس سے کھیل لیا جائے، بلکہ یہ ایک امانت ہے۔ اور امانت میں خیانت، ملت کو انتشار اور قیادت کو بدنامی کے سوا کچھ نہیں دے سکتی۔











