سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد مرکزی حکومت نے لداخ کے مشہور سماجی و ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی نظر بندی کو فوری اثر سے منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد سونم وانگچک جلد ہی جیل سے باہر آ سکتے ہیں۔
وزارت داخلہ نے اس سلسلے میں ایک سرکاری بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ”حکومت لداخ میں امن، استحکام اور باہمی اعتماد کا ماحول پیدا کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ تعمیری اور بامعنی بات چیت کی سہولت فراہم کی جا سکے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے، مناسب غور و خوض کے بعد، حکومت نے شری سونم وانگچک کی نظر بندی کو فوری طور پر منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔”
حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ ”24 ستمبر سال 2025 کو لیہہ کے پُرامن قصبے میں پیدا ہونے والی امن و امان کی سنگین صورت حال کے پیش نظر سونم وانگچک کو 26 ستمبر 2025 کو قومی سلامتی ایکٹ (این ایس اے) کی دفعات کے تحت ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ، لیہہ کے جاری کردہ حکم نامے کے تحت حراست میں لے لیا گیا، جس کا مقصد امن عامہ کو برقرار رکھنا تھا۔ سونم وانگچک پہلے ہی مذکورہ ایکٹ کے تحت اپنی نظربندی کی تقریباً نصف مدت گزار چکے ہیں۔”
حکومت لداخ میں امن، استحکام اور باہمی اعتماد کے ماحول کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے تاکہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ تعمیری اور بامعنی بات چیت شروع کی جا سکے۔ اس مقصد کے لیے، مناسب غور و خوض کے بعد حکومت نے قومی سلامتی ایکٹ کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے، سونم وانگچک کی نظر بندی کو فوری طور پر منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔’








