مولانا ذکی نور عظیم ندوی لکھنؤ
توحید وہ عظیم نعمت، بیش بہا سرمایہ اور لازوال حقیقت ہے جس پر دینِ اسلام کی پوری عمارت قائم ہے۔ سب سے پہلا اور سب سے اہم فریضہ یہ ہے کہ بندہ اپنے رب کو پہچانے، اس کی معرفت حاصل کرے اور اس کی وحدانیت پر ایمان و یقین رکھے۔ یہ یقین راسخ کرے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کائنات کا خالق، مالک، رازق اور مدبّر ہے؛ وہی عبادت کے لائق ہے، اسی کے لیے جھکنا، اسی سے مانگنا اور اسی پر بھروسا کرنا اصل بندگی ہے۔ یہ محض ایک ایسا عقیدہ نہیں جو صرف دل میں ہو، بلکہ زندگی کا وہ مرکز ہے جس کے گرد ایمان، عمل، اخلاق اور معاشرت سب گردش کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ کریم نے صاف اعلان فرمایا کہ جن و انس کی تخلیق کا مقصد ہی عبادت ہے، اور عبادت کی قبولیت توحید و اخلاص کے بغیر ممکن نہیں۔ رسالتِ محمدی ﷺ اسی عالمی دعوت کی آخری اور کامل صورت ہے، جس میں توحید کو نہایت وضاحت، جلال اور حکمت کے ساتھ انسانیت کے سامنے رکھا گیا۔
انسان دنیا میں بے شمار رشتوں اور حقوق کے اردگرد زندگی گزارتا ہے: ماں باپ کے حقوق، اولاد کے فرائض، ملک و ملت کے مسائل، خاندان، پڑوس اور سماج کے تقاضے۔ یہ سب اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن ایک مسلمان کے لیے اللہ تعالیٰ کے حق کو سب پر فوقیت حاصل ہے۔ اس کا حق یہ ہے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے، اور اس کی عبادت میں کسی غیر کو دخل نہ دیا جائے۔ کلمۂ طیبہ ’’لا إلہ إلا اللہ‘‘ اسی حقیقت کا جامع اعلان ہے، جو ایک طرف باطل معبودوں کی مکمل نفی کرتا ہے اور دوسری طرف اللہ وحدہٗ لا شریک کی الوہیت کا اثبات۔ یہ کلمہ انسان کو ہر جھوٹے سہارے، خود ساختہ خدا، نفسانی غلامی اور ہر طرح کی غیر ضروری مصلحتوں، نیز بڑے سے بڑے مفاد یا خطرات و نقصانات کے اندیشوں سے آزاد کر کے براہِ راست ربِ کائنات سے پوری مضبوطی کے ساتھ جوڑ دیتا ہے۔
توحید ہی وہ محور ہے جس کے لیے انبیائے کرام علیہم السلام مبعوث کیے گئے۔ کوئی نبی ایسا نہیں آیا جس نے سب سے پہلے اسی پیغام کی صدا بلند نہ کی ہو۔ رسالتِ محمدی ﷺ بھی اسی عالمگیر دعوت کا نقطۂ عروج ہے۔ آپ ﷺ نے جہاں بھی دعوت کا آغاز کیا، توحید کو بنیاد بنایا۔ معاذ بن جبلؓ کو یمن روانہ کرتے وقت یہی تاکید فرمائی کہ سب سے پہلے لوگوں کو توحید کی طرف بلانا، کیونکہ یہی اصلاحِ فرد اور تشکیلِ معاشرہ کا پہلا زینہ ہے۔ قبر میں پہلا سوال بھی رب کی معرفت سے متعلق ہوگا، اور قیامت کے دن بھی انسان سے یہی پوچھا جائے گا کہ تم کس کی عبادت کرتے رہے اور رسولوں کو کیا جواب دیا۔
توحید ہی وہ پہلی شرط ہے جس کے بغیر کوئی عمل بارگاہِ الٰہی میں قابلِ قبول نہیں۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، اخلاق اور خدمتِ خلق اسی وقت قابلِ قبول ہیں جب ان کی جڑ میں اخلاص اور توحید ہو۔ قرآن اس حقیقت کو دو ٹوک انداز میں بیان کرتا ہے کہ ایمان کے بغیر کی گئی کوششیں رائیگاں ہیں، اور ایمان کی روح توحید ہے۔ توحید بندے کے گناہوں کی معافی کا ذریعہ ہے، اسی سے برائیاں اور گناہ مٹتے ہیں اور درجات بلند ہوتے ہیں۔ احادیث میں واضح طور پر اعلان کیا گیا ہے کہ خالص توحید جنت میں داخلے کا سب سے بڑا سبب اور جہنم سے نجات کی مضبوط ضمانت ہے۔
توحید انسان کو ایک منفرد اور عظیم قوت، اطمینان اور توازن عطا کرتی ہے۔ اس دولت سے یہ یقینِ جازم پیدا ہوتا ہے کہ نفع و نقصان، عزت و ذلت، زندگی و موت سب اللہ کے ہاتھ میں ہیں؛ اس لیے وہ مخلوق کے خوف، لالچ اور دباؤ سے آزاد ہو جاتا ہے۔ یہی آزادی اسے باہمت، باوقار اور اصول پسند بناتی ہے۔ مشکلات اور مصائب میں یہ دل کو سہارا دیتی ہے، اور دکھ و آزمائشیں ہلکی محسوس ہونے لگتی ہیں۔ قرآن کے مطابق حقیقی امن و اطمینان اور ہدایت انہی لوگوں کو ملتی ہے جنہوں نے اپنے ایمان کو شرک کی آمیزش سے پاک رکھا۔
ہندوستانی مسلمانوں کے تناظر میں توحید کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں مذہبی تنوع، رسوم و رواج کی کثرت اور صدیوں پر محیط تہذیبی اختلاط ہے، وہاں توحید کی خالص تعلیم کو محفوظ رکھنا مسلسل جدوجہد کے بغیر ممکن نہیں۔ برصغیر کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں اسلام کے تحفظ و بقا کی توقع بھی توحیدِ خالص پر ثابت قدمی کے بغیر آسان نہیں، کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جہالت، اندھی عقیدت اور غیر اسلامی اثرات توحید کے مضبوط تصور کو کمزور کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ آج ہندوستانی مسلمان شدید سماجی، معاشی اور فکری دباؤ کا شکار ہیں؛ ایسے ماحول میں توحید ہی وہ مرکز ہے جو ان کی دینی شناخت کو استحکام بخش سکتا ہے۔
افسوس کہ آج توحید کو صرف عوامی سطح پر ہی خطرات لاحق نہیں، بلکہ قیادت کے ایوانوں میں بھی ہلچل پائی جاتی ہے۔ اب یہ صورتِ حال کسی سے پوشیدہ نہیں رہی کہ بعض ملی، دینی اور تعلیمی رہنما جمہوری مصلحتوں، ادارہ جاتی مفادات، فنڈنگ کے دباؤ اور سماجی مقبولیت کی خاطر عقیدۂ توحید پر واضح مؤقف اختیار کرنے سے کتراتے ہیں۔ کہیں خاموشی کو حکمت کا نام دیا جاتا ہے، کہیں ’’بین المذاہب ہم
آہنگی‘‘ کے نام پر اصولی حدود کو پامال کیا جاتا ہے، اور کہیں اس حد تک معاملہ پہنچ جاتا ہے کہ شرکیہ افکار و رسوم پر تنقید کو تنگ نظری اور انتہا پسندی قرار دے کر کسی قسم کی شرم و عار بھی محسوس نہیں کی جاتی۔
یہ رویّہ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے ایک نہایت سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ جب قیادت ہی فکری ابہام کا شکار ہو جائے، اور تعلیمی و ملی ادارے عقیدے کی وضاحت کے بجائے ایسی مفاہمت کی راہ اختیار کریں جو اصولوں کو کھوکھلا کر دے، تو اس کے اثرات براہِ راست عوام پر پڑتے ہیں۔ نتیجتاً نئی نسل اسلام کو ایک مضبوط عقیدے کے بجائے ایک مبہم ثقافتی شناخت کے طور پر دیکھنے لگتی ہے، شرک اور توحید کے درمیان فرق دھندلا جاتا ہے، اور دین رسموں اور تقریبات تک محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔
لوگوں کو اس ابدی حقیقت سے منہ نہیں موڑنا چاہیے کہ شرک وہ واحد گناہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بغیر توبہ کے ناقابلِ معافی قرار دیا ہے۔ یہ سب سے بڑا ظلم ہے، کیونکہ اس میں خالق کے اختیارات مخلوق میں تقسیم کر دیے جاتے ہیں، اور خالق کے مقابلے میں کسی اور کو اہمیت دینے کا مزاج پروان چڑھتا ہے، جو رفتہ رفتہ شرک تک پہنچنے کا سبب بن جاتا ہے۔ شرک کے مفاسد، برے انجام اور دنیوی و اخروی نقصانات ناقابلِ تصور حد تک خطرناک ہیں۔ ایسا شخص خواہ عبادات میں مشغول ہو، مگر اس کا انجام محرومی کے سوا کچھ نہیں، کیونکہ شرک تمام اعمال کو ضائع کر دیتا ہے، انسان سے روحانی امن چھین لیتا ہے، دل کو خوف اور وہم میں مبتلا کر دیتا ہے، اور اسے ذلت کی گہرائیوں میں گرا دیتا ہے۔ یہ وہ گناہ ہے جو انسان کو عزت کے مقام سے گرا کر بے بسی اور رسوائی کی حالت تک پہنچا دیتا ہے۔
لیکن یہ پہلو نہایت افسوس ناک ہے کہ مسلم معاشروں میں، بالخصوص ہندوستان میں، مسلم قیادت نے وہ کردار ادا نہیں کیا جو اس کی ذمہ داری تھی۔ دینی قیادت ہو یا تعلیمی، سماجی و سیاسی رہنمائی—اکثر توحید کے خالص اور جرات مندانہ تصور کو نظر انداز کیا گیا۔ عوامی مقبولیت، وقتی مصلحت یا سماجی دباؤ کے تحت شرکیہ رسوم پر خاموشی اختیار کی گئی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام میں دین کا تصور بگڑتا چلا گیا، عقیدہ رسم میں بدل گیا اور عبادت عادت بن کر رہ گئی۔ جب قیادت خود فکری وضاحت اور عقیدۂ توحید میں کمزور پڑ جائے تو عوام کا حال اس سے بہتر نہیں ہو سکتا۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہندوستانی مسلمان دوبارہ توحید کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا محور بنائیں، اور ان کی دینی، تعلیمی اور ملی قیادت توحید کو اپنے فکری و عملی ایجنڈے میں دوبارہ اولیت دے۔ شرک کی ہر شکل سے واضح اور باوقار براءت اختیار کی جائے، مصلحت اور مداہنت کے فرق کو سمجھا جائے، حکمت کے نام پر خاموشی کو معمول نہ بنایا جائے، اور قوم کو یہ پیغام دیا جائے کہ عقیدہ وہ سرخ لکیر ہے جس پر نہ کل سمجھوتہ جائز تھا اور نہ آج ہے۔ اسی کے ساتھ نئی نسل کو اعتماد، حکمت اور بصیرت کے ساتھ وہ خالص اسلامی عقیدہ منتقل کیا جائے جو قرآن و سنت نے عطا کیا ہے، کیونکہ توحیدِ خالص اور ایمانِ جازم مسلمانوں کی دینی بقا، اجتماعی وقار اور دنیا و آخرت کی کامیابی میں بنیادی کردار ادا کرسکتے ہیں، اور اسی سے وہ بحران ختم ہو سکتا ہے جو آج خاموشی اور فکری کمزوریوں کی صورت میں دن بہ دن گہرا ہوتا جارہا ہے۔
zakinoorazeem@gmail.com











