اردو
हिन्दी
مئی 9, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

تحفظ خواتین اور قوانین

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
تحفظ خواتین اور قوانین
65
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:ایڈووکیٹ ابوبکر سباق سبحانی

دستوری رہنمائیوں اور احکامات کی روشنی میں خواتین کے حقوق و مفادات کے تحفظ کے لیے مرکزی و صوبائی حکومتوں نے وقتاًفوقتاً متفرق قوانین و متعدد پالیسیاں اختیار کیں، مثلاً گھریلو تشدد پر روک تھام کے لیے مخصوص قانون بنایا، جہیز و ستی جیسی سماجی برائیوں کی روک تھام کے لیے خاص قانون بنائے، تعزیرات ہند(انڈین پینل کوڈ) میں الگ باب ’’خواتین کے خلاف جرائم‘‘موجود ہے، ورک پلیس(کام کرنے کی جگہ) پر ہونے والے جرائم کی روک تھام کے لیے سپریم کورٹ نے ’’وشاکھا بنام اسٹیٹ آف راجستھان‘‘ کے تاریخی فیصلے میں رہنما اصول متعین کیے، تاہم ان تمام دستوری شقات، قوانین اور حکومتی پالیسیوں کے بعد خواتین کی صورت حال میں کیا تبدیلی آئی؟ اس اہم سوال پر ایک تجزیاتی مطالعہ کی اشد ضرورت محسوس ہوتی ہے۔

حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اہم دستوری اقدامات میں1993کا مرکزی قانون برائے حقوق انسانی قانون اور پھر نیشنل و صوبائی کمیشن برائے حقوق انسانی کا قیام، خواتین کے مسائل کے جلدحل نیز ان کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت کوشش کرنے کی غرض سے1990میں ’’نیشنل کمیشن برائے خواتین‘‘ کے ساتھ صوبائی سطح پر ’’صوبائی کمیشن برائے خواتین‘‘ کا قیام کرنا ہے۔ خواتین کے تحفظ کے لیے سخت قوانین پاس ہونے نیز پرانے قوانین میں ترمیم کرکے سخت تجاویز شامل کرنے میں نیشنل کمیشن برائے خواتین کی کوششوں و کاوشوں کا بہت اہم کردار رہا ہے۔ دستور ہند کی تعلیمات کی روشنی میں خواتین کے ارتقا کے لیے متعدد دیگر پالیسیوں کا بھی تعارف ممکن ہوا جن میں قانون برائے یکساں اجرت(Equal Remuneration Act)، غیر اخلاقی اور جسمانی کاروبار میں استعمال کرنے کے لیے غریب و مجبور لڑکیوں کو نوکری یا شادی کا جھانسہ دے کر شہروں میں لے جاکر فروخت کردیا جاتا ہے، ایسی کسی بھی انسانی تجارت کو غیر قانونی تسلیم کرتے ہوئے اس کی روک تھام کے لیے قانون(The Prevention of Immoral Traffic Act)کا پاس ہونا، ہمارے سماج میں جہیز کی مانگ ایک سماجی لعنت ہی نہیں بلکہ نظام قانون کے لیے ایک چیلنج بن گیا ہے جس کو ختم کرنے کے لیے مخصوص قانون بنام ’’جہیز مانع قانون‘‘ بنایا گیا۔ دستور ہند میں خواتین کو دیے گئے بنیادی حقوق نیز یکساں مواقع بڑے اور بنیادی چیلنجز میں شمار ہوتے ہیں۔

خواتین کی مجموعی ارتقا کے لیے مساوی حقوق کا دستیاب ہونا ضروری ہے، خواتین کو وراثت میں حصہ نہیں دیا جاتا تھا، مسلمانوں میں اگرچہ عملی طور پر وراثت میں خواتین کی حصہ داری میں عمومی طور پر کوتاہی نظر آتی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی وراثت دینے کے واقعات بھی سامنے آتے ہیں، اس کے برخلاف دیگر مذاہب میں خواتین کو وراثت کا حقدار تسلیم ہی نہیں کیا جاتا ہے۔ ایک طویل جدوجہد اور بحث و مباحثے کے بعد ہمارے ملک کی پارلیمنٹ نے وراثت کا قانون پاس کیا جس کے بعد وراثت میں خواتین کو دستوری و قانونی طور پر مساوی حق حاصل ہوا۔

جہیز کی لالچ میں خواتین کے ساتھ ظلم و زیادتی نیز ان کا قتل سماج اور ملک کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جارہا ہے، یہ ایک ایسا سماجی مسئلہ ہے جس کو روکنے میں نہ صرف سماج بلکہ ہمارا نظام قانون بھی پوری طرح ناکام ہوتا محسوس ہورہاہے، اگر ہم جہیز کے لیے ہونے والی اموات کے سرکاری اعدادوشمار دیکھیں تو یہ چونکادینے والے ہیں، نیشنل کرائم ریکارڈس بیورو کے اعداد وشمار کے مطابق صرف سال 2012 میں کل8233خواتین جہیز کی مانگ کے چلتے اذیت کے سبب موت کا شکار ہوگئی تھیں۔ وہیں2001تک جہیز کے لیے ہونے والی روزانہ کی19اموات کا ڈاٹا2016 میں بڑھ کر21اموات روزانہ تک پہنچ گیا ہے۔ این سی آر بی کے اعداد و شمار کے مطابق صرف سال2019میں 7100 خواتین جہیز کے لیے موت کے گھاٹ اتار دی گئیں۔ اس کی دو اہم وجوہات ہوسکتی ہیں، پہلی یہ کہ انڈین پینل کوڈ میں موجود دفعہ498Aکا صحیح استعمال نہ ہونا نیز دوسرا جہیز مانع(روک تھام) قانون میں موجود تجاویز پر حکومتوں و عدالتوں کا عمل درآمد کرانے میں ناکام ہونا، مثلاً جہیز روک تھام کے لیے مخصوص آفیسر کا موجود نہ ہونا جس کے سبب جہیز کی مانگ کو لے کر ہونے والی شکایات کا ریکارڈ نیز مستقل نگاہ رکھنا ممکن نہیں ہوتا۔

خواتین کے ساتھ گھریلو تشدد کے واقعات ہمارے سماج کے لیے ایک عام سا معمول بن گئے ہیں، معمولی باتوں یا کسی بھی وجہ سے خواتین خصوصاً بیوی کے ساتھ مارپیٹ خصوصاً خواتین کی عزت نفس نیز ان کے انسانی حقوق کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے، انڈین پینل کوڈ میں متعدد دفعات موجود ہونے کے باوجود مزید تحفظ فراہم کرنے کی غرض سے2005میں پارلیمنٹ نے ’’پروٹیکشن آف وومن فرام ڈومیسٹک وائلنس ایکٹ2005‘‘(Protection of Women from Domestic Violence Act,2005)پاس کیا، جس کا واحد مقصد خواتین کو تحفظ فراہم کرنا تھا لیکن اس قانون کو پاس ہونے کے تقریباً16 سال کے بعد بھی خواتین کے ساتھ ہونے والے گھریلو تشدد کے واقعات میں کوئی خاطر خواہ کمی دیکھنے کو نہیں ملتی۔ کام کرنے کی جگہ مثلاً آفس، کارخانہ، ورکشاپ جیسی جگہوں پر خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے بڑھتے واقعات کی روک تھام کے لیے سپریم کورٹ آف انڈیا نے1997میں وشاکھا فیصلے میں رہنما اصول وضع کیے، یہ رہنما اصول وشاکھا گائیڈ لائنس کے نام سے موسوم ہیں۔ امید تھی کہ ان رہنما اصولوں کے بعد ورک پلیس پر خواتین کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر قابو پایا جاسکے گا لیکن کوئی خاطرخواہ تبدیلی نہ ہونے کی صورت میں کام کرنے کی جگہ پر خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کی غرض سے2010میں ایک بل پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا جس کا نامSexual Harassment of Women at Workplace )Prevention, Prohibition and Redressal Bill 2013 )ہے، جو کہ 9دسمبر 2013 میں صدرجمہوریہ کے دستخط کے بعد قانون کی شکل اختیار کرتا ہے۔

شوہر کے مرنے کے بعد بیوی کو شوہر کی چتا کے ساتھ آگ کے حوالے کردیا جاتا تھا، یہ رسم آزادی کے بعد بھی جاری تھی، اگرچہ انگریزوں نے اپنے دوراقتدار میں اس رسم کو ختم کرنے کی کوششیں کیں تاہم یہ رسم ختم نہیں ہوسکی تھی۔ آزادی کے بعد1987میں ستی جیسی غیر انسانی رسم کو پوری طرح ختم کرنے کی غرض سےCommission of Sati (Prevention) Act, 1987 بنا، اس قانون کے بعد ستی کی رسم ہمارے ملک سے تقریباً پوری طرح ختم ہوگئی۔

رحم مادر میں لڑکیوں کا قتل ایک پرانا رواج رہا ہے، لڑکیوں کو ہمارے ملک میں بدشگون سمجھاجاتا رہاہے، لڑکوں کو ہمیشہ سے لڑکیوں پر فوقیت دی گئی ہے، حتیٰ کہ لڑکوں کے پیدا ہونے پر خوشی منائی جاتی ہے جب کہ لڑکی کے پیدا ہونے پر اس کی ماں کو ستانا اور تشدد کا نشانہ بنانا عام رواج رہاہے، ہمارے ملک میں میڈیکل ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے حمل کے دوران ہی ماں کے پیٹ میں ہی لڑکیوں کا قتل کردیا جاتا تھا، کہیں اسقاط حمل کے ذریعہ تو کہیں دوسرے طریقے رائج تھے، اس رواج کی وجہ سے جنسی تناسب بھی بگڑ رہاتھا، چنانچہ لڑکیوں کو دوران حمل ختم کرنے کے سماجی مسئلہ سے نمٹنے کے لیے ہمارے ملک میں 1971 میںMedical Termination of Pregnancy Act کا قانون پاس کیا گیا اور پھر1994 میں Pre-Coception and Pre-Natal Diagnostic Techniques (Prohibition of Sex Selection) Act,1994 پاس کرکے جنسی تفریق کی بنیاد پر خواتین کے ساتھ ہونے والے اس ظلم کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ اب ہر ہاسپٹل میں نوٹس بورڈ پر جلی حروف میں آویزاں ہوتا ہے کہ ’’ہمارے ہاسپٹل میں دوران حمل پیٹ میں لڑکا یا لڑکی ہونا نہیں بتایا جاسکتا ہے، یہ غیر قانونی ہے۔‘‘اس جرم کی سزا تین سال سے لے کر عمر قید تک کی تجویز کی گئی ہے کیونکہ پیٹ میں لڑکی کو مارنا قتل کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔

لڑکیوں کی غیر قانونی تجارت یا ٹریفکنگ، ناخواندگی، کم عمری میں شادی، خواتین کو وراثت سے محروم کرنا اہم چیلنجز رہے ہیں۔

مسلمانوں کے خواندگی مسائل مثلاً شادی، طلاق، وراثت، نان نفقہ جیسے اہم ایشوز دستوری طور پر مسلم پرسنل لاء کے تحت زیر غور ہوتے ہیں، تاہم مسلم خواتین کے حق و انصاف کے نام پر کچھ غلط رسم و رواج کے پیدا و مروج ہونے کی بنیاد پر مسلم خواتین کو لے کر بھی دستوری و قانونی شقات کا اضافہ ہوا ہے مثلاً مسلم عورت کی طلاق اور اس کے بعد ہونے والے مسائل کو حل کرنے کے لیے پہلے1939 میں آزادی سے پہلے انگریز دور حکومت میں Disintegration of Muslim Marriage Act, 1939 پاس ہوا، لیکن آزادی کے بعد1986 میں Muslim Women (Protection of Rights on Divorce) Act, 1986 پاس ہوا، حالیہ دنوں میں تین طلاق کو لے کر پارلیمنٹ نے جو قانونThe Muslim Women (Protection of Rights on Marriage) Act, 2019 پاس کیا ہے، اس کو بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی کہا جاسکتا ہے۔ مسلم خواتین اور طلاق سے متعلق قوانین کی دستوری حیثیت یا مسلم پرسنل لاء سے دستوری ٹکراؤ یقینا ایک اہم بحث ہے، تاہم اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ سماج میں پھیلے ہوئے غلط رسم و رواج سے پیدا ہوئے حالات سے مجبور ہوکر کچھ مسلم خواتین بھی فیمنسٹ تحریکوں کا حصہ بن کر ان قوانین کی مانگ اٹھارہی تھیں۔

ہمارے ملک میں طلاق کے بعد نان نفقہ کا مسئلہ بہت اہم ہوتا ہے، ہمارے ملک میں نافذ کریمنل پروسیجر کوڈ کی دفعات 125 سے 128تک نان نفقہ سے متعلق ہیں۔ ہمارے ملک کے کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والی خواتین ان دفعات کے تحت ہی عدالت سے نان و نفقہ کی مانگ کرسکتی ہیں۔ لیکن افسوس کہ ہمارے ملک میں آج بھی خواتین محفوظ نہیں ہیں، سماج میں خواتین کو ان کا دستوری یا انسانی درجہ کما حقہ میسر نہیں ہے، نہ تو ہمارے ملک کے قوانین ان کو گھریلو تشدد سے محفوظ رکھنے میں کامیاب ہوسکے ہیں اور نہ ہی ان کو ان کا حق دستیاب کرنے میں کامیاب ہیں۔

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN