کولکاتا :
نومنتخب مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نشیتھ پرمانک کی شہریت پر ایک نیاتنازع شروع ہوگیا ہے۔ دراصل راجیہ سبھاممبر اور آسام پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر رپن بورا نے ہفتہ کو وزیر اعظم نریندر مودی سے مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نشیتھ پرمانک کے مبینہ طور پر بنگلہ دیشی ہونے کے الزام کی جانچ کرانے کی مانگ کی ۔
حالانکہ پرمانک کے قریبی اور مغربی بنگال سے بی جے پی کے لوک سبھا ممبر پارلیمنٹ نے الزامات کی تردید کرتےہوئے کہاکہ وزیر کی پیدائش ، پرورش اورتعلیم بھارت میں ہی ہوئی ہے ۔ اس درمیان ترنمول کانگریس لیڈروں نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ مرکزی سرکار نے ایسی ’ سیکورٹی خامی‘ کیسے ہونے دی۔
آؤٹ لک کی رپورٹ کے مطابق مغربی بنگال بی جے پی کے جنرل سکریٹری سینتن باسو نے ٹی ایم سی کو اس معاملے کو عدالت میں لے جانے کا مشورہ دیا ہے۔ وزیر اعظم مودی کو لکھے گئے خط اور ٹوئٹر پر شیئر کئے لیٹر میں بورا نے دعویٰ کیاہے کہ براک بنگلہ ، ری پبلک ٹی وی تریپورہ، ڈیجٹیل میڈیا، انڈیا ٹو ڈے اور بزنس اسٹینڈرڈ نے اپنی خبر میں بتایاہے کہ پرمانک بنگلہ دیشی شہری ہیں۔
خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے ممبرپارلیمنٹ نے دعویٰ کیا کہ وزیر کی جائے پیدائش ہری ناتھ پور ہے جو بنگلہ دیش کے گوباندھا ضلع کے پلاس باڑی پولیس تھانہ کے ماتحت آتاہے اور خبر ہے کہ وہ کمپیوٹر کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے مغربی بنگال آئے تھے۔ بورا نے دعویٰ کیا کہ کمپیوٹر میں ڈگری حاصل کرنے کے بعد پہلے وہ ترنمول کانگریس میں شامل ہوئے اور بعد میں بی جے پی میں شامل ہوئے اور کوچ بہار سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔
بورا نے دعویٰ کیا ہے کہ نیوز چینلز کے مطابق پرمانک نے ’ چھیڑ چھار‘ کر انتخابی کاغذات نامزدگی میں اپنا پتہ کوچ بہار ظاہر کیا ہے ۔ چینلوں نے بنگلہ دیش واقع ان کے آبائی گاؤں کا ’ خوشنما ماحول‘ کا بھی ذکر کیاہے ۔ اور ان کے ’بڑے بھائی ‘اور کچھ گاؤں والے پرمانک کے مرکزی وزیر مملکت بننے پر اطمینان کااظہار کررہے ہیں۔
بورا نے وزیر اعظم مودی کو لکھے خط میں کہاکہ ’’ اگر ایسا ہے تو ملک کے لیے بہت سنگین معاملہ ہے کہ ایک غیرملکی کو مرکزی وزیر کے طور پر مقررکیا گیا ہے ۔ اس لئے میں آپ سے (وزیر اعظم) سے مانگ کرتا ہو ں کہ نیشتھ پرمانک کی جائے پیدائش اور قومیت کی جانچ شفاف انداز میں کی جائے تاکہ پورے ملک میں پیدا ہونے والی الجھن کو دور کیا جاسکے ۔
مغربی بنگال کے وزیر مملکت برائے اطلاعات و ثقافتی امور ، اندرانل سین نے ایک ٹوئٹر پوسٹ میں کہا :’ یہ جان کر حیران اور پریشان ہوں کہ مرکزی وزیر نشیتھ پرمانک بنگلہ دیش کے شہری ہو سکتےہیں ! اگر موجودہ مرکزی وزیر ایک غیر ملکی شہری ہے تو یہ بھارت کی سلامتی کے لیے تشویشناک بات ہے ۔ نریندر مودی حکومت اس طرح کی سیکورٹی چوک کیسے ہونے دے سکتی ہے۔؟
مغربی بنگال بی جے پی کے جنرل سکریٹری سینتن باسو نے کہا کہ اس الزام کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ باسو نے کہا ،’اگر وہ اس معاملہ کو مزید طول دینا چاہتے ہیں تو ترنمول کانگریس کورٹ جانے کے لیے آزاد ہے۔‘
قبل ازیں جب پرمانک کے قریبی ذرائع سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وزیر ایک ’ دیش بھکت بھارتیہ‘ ہیں جن کی پیدائش ،پرورش اور تعلیم بھارت میں ہو ئی ہے اور کہاکہ ان پر لگائے جارہے الزامات بے بنیاد ہیں۔ ذرائع نے کہاکہ اگر وزیر کے کچھ رشتہ دار دوسرے ملک میں جشن منا رہے ہیں تو وہ کیا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کینیڈا کے ممبر پارلیمنٹ کےہندوستانی رشتہ دار فخر محسوس کرتے ہوئے بھارت میں جشن مانتے ہیں تو اس سے کینیڈا کے ممبر پارلیمنٹ کو کیا لینا دینا ہے؟
‘
ایک ذرائع نے بتایا کہ ایسا ہی معاملہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے بورا پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار رکن پارلیمنٹ کو معلوم ہونا چاہئے کہ کیا غلط ہے اور کیا صحیح ہے۔










