تحریر:مسیح الزماں انصاری
اکتوبر2021 میں تریپورہ میں ہونے والے مسلم مخالف تشدد میں، وشو ہندو پریشد کی ریلی میں شامل فسادیوں کے ذریعہ شمالی تریپورہ کے رووا پانیساگر میں مسلمانوں کی 8 دکانوں کو جلانے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ جلی ہوئی دکانوں کے متاثرین کو 2 ماہ گزرنے کے بعد بھی مناسب معاوضہ نہیں ملا کہ وہ دوبارہ دکان شروع کر سکیں۔
متاثرینمسلمان دکانداروں نے انڈیا ٹومارو کو بتایا کہ واقعہ کے دو ماہ سے زیادہ گزرنے کے بعد بھی پانیساگر میں جلائی گئی ان کی دکانوں کا مناسب معاوضہ نہیں ملا ہے۔

متاثرین دکانداروں نے انتظامیہ پر الزام لگایا ہے کہ نقصان کا غلط تخمینہ لگا کر بہت کم معاوضہ دے کر معاملہ رفع دفع کیا گیا تاہم معاوضے کی رقم سے دوبارہ دکان شروع کرنا ممکن نہیں ہے۔
جس متاثرہ کو 14 لاکھ کا نقصان ہواتھا اسے صرف 56 ہزار معاوضہ ملا ہے۔جس کا 5لاکھ نقصان ہوا تھا اسے 26 ہزار معاوضہ کی رقم دی گئی ۔ اسی طرح دیگرمتاثرین کو بھی نقصان کا بہت ہی کم حصہ ملاہے۔

اس معاملے پر پانیساگر کے ایم ایل اے بنوئے بھوشن داس سے انڈیا ٹومارو نے کئی بار بات کرنے کی کوشش کی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔
انڈیا ٹومارو سے بات کرتے ہوئے، غم زدہ امیر الدین کہتے ہیں،’ہمیں انتظامیہ سے مزید معاوضہ ملنے کی کوئی امید نہیں ہے۔‘
امیرالدین کا مزید کہنا ہے کہ ’ویسے تو معاوضے کی رقم پوری طرح سے نہیں ملی لیکن کم از کم اگر انتظامیہ ہمارے نبی کو گالی دینے والوں کے خلاف کچھ کارروائی کرتی تو ہمیں کچھ راحت مل جاتی۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا دکانیں جلانے والوں کے خلاف کارروائی کی گئی تو متاثرین کا کہنا تھا کہ پولیس کی طرف سے اصل ملزمان کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا جاسکا، جن کو ہم جانتے تھے اور جن کے نام پولیس کو دیے گئے تھے۔

پانیساگر کے ایس ڈی ایم رجت پنت نے متاثرین کو معاوضہ دینے کے سوال پر انڈیا ٹومارو کو بتایا کہ، ’آتشزدگی کے واقعے کا اندازہ لگانے اور متاثرین تک پہنچانے کے بعد ہی معاوضے کی رقم کا تعین کیا گیا تھا۔ متاثرین کو پہنچنے والے نقصان کے مطابق معاوضہ دیاجاچکا ہے۔‘
ایک سوال کے جواب میں کہ متاثرین الزام لگاتے ہیں کہ انہیں ہونے والے نقصان کے مقابلے میں معاوضہ کی رقم بہت کم ہے، پانیساگر کے ایس ڈی ایم رجت پنت نے کہا، ’حکومت نے طے شدہ طریقہ کار کے تحت معاوضہ دیا ہے لیکن اگر کوئی متاثر محسوس کرتا ہے کہ اگر اسے مناسب معاوضہ کی رقم نہیں ملی ہے۔ وہ دفتر سے یا مجھ سے رابطہ کر کے رقم کی مانگ کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔
واضح رہے کہ اکتوبر 2021 میں بنگلہ دیش میں درگا پوجا کے دوران پیش آنے والے ایک واقعے کی بنیاد پر ریاست میں مسلمانوں کی دکانوں اور املاک کو نشانہ بنایا گیا تھا، مساجد کو نذر آتش کیا گیا اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر توہین آمیز ریمارکس کیے گئے تھے۔
یہ منصوبہ بند حملے ایک ہفتے تک جاری رہے اور تمام حملے مبینہ طور پر ہندوتوا تنظیموں، وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل نے کیے تھے۔ اسی وقت ہزاروں عسکریت پسند ہندو ہجوم نے ریلی نکالی اور رووا پانیساگر پہنچے اور مسلمانوں کی آٹھ دکانیں جلا دی گئیں۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے لیکن متاثرین کا کہنا ہے کہ ابھی تک اصل ملزمان کو گرفتار نہیں کیا گیا۔
(بشکریہ: انڈیا ٹو مارونیٹ)










