اردو
हिन्दी
مئی 9, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

2016سےمسلم نوجوانوں کے مذہبی رجحان میں کمی آئی: ایک اسٹڈی کا دعویٰ

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ گراونڈ رپورٹ
A A
0
2016سےمسلم نوجوانوں کے مذہبی رجحان میں کمی آئی: ایک اسٹڈی کا دعویٰ
226
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

نئی دہلی:(ایجنسی)

نوجوان مسلمان اپنے ہندو، سکھ اور عیسائی ساتھیوں سے ’کچھ مختلف‘ دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ وہ واحد کمیونٹی ہے جس میں گزشتہ پانچ سالوں میں مذہبی سرگرمیوں میں نمایاں کمی درج ہوئی ہے، یہ انکشاف اسی مہینہ جاری ایک سروے میںہوا ہے ۔

’انڈین یوتھ: اسپائریشنز اینڈ ویژن فار دی فیوچر‘ نام کی رپورٹ ایک سروے پر مبنی ہے۔ جو اس سال جولائی -اگست میں 18 ریاستوں کے 18-34 سال کے درمیان کے، 6,277لوگوںپر کیاگیا تھا۔ یہ اسٹڈی سینٹر فار دی اسٹڈی آفڈیولپنگ سوسائٹیز ( سی ایس ڈی ایس) نے، اپنے تحقیقی پروگرام لوک نیتی کے تحت جرمن تھنک ٹینک کانراڈ ایڈنایئر اسٹفٹنگ ( کے اے ایس) کے تعاون سے کیا۔

سروے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ نماز پڑھنے والے، روزہ رکھنے والے، مساجد میں جانے والے اور مذہبی مواد پڑھنے یا دیکھنے والے مسلمانوں کا تناسب 2016 کے مقابلے کم ہوا تھا، جب آخری سی ایس ڈی ایس- لوک نیتی سروے کیا گیاتھا۔

مسلمان ایک اور لحاظ سے دوسری برادریوں سے الگ کھڑے نظر آئے: مذہب کی وجہ سے دوستوں کے ہاتھوں ان کے ساتھ امتیازی سلوککا تجربہ،حالانکہ دودیگر اقلیتوں، عیسائیوںاورسکھوں نے بھی مسلمانوں کی طرح ہی، بھارت میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے بارے میں ’ زبردست مایوسی کااحساس‘ کااظہار کیا،لیکن ان میں مذہبی امتیاز کا سامنا کرنے کا تناسب بہت کم تھا۔

لیکن2021 میں، صرف 86 فیصد مسلم نوجوانوں نے کہا کہ وہ باقاعدگی سے نماز ادا کرتے ہیں، جو کہ پانچ سال پہلے کے مقابلے میں 11 فیصد کی گراوٹ تھی۔ اس کے مقابلے باقاعدگی طور سے عبادت کرنےوالے نوجوانوں کی تعداد، سکھوں (96فیصد) اورعیسائیوں (93فیصد)میں بڑھی ہے۔ اورہندوؤں (88 فیصد)میں قدرے کمی آئی ہے ۔

اسی طرح عبادت گاہوں پر جانے والے مسلم نوجوانوں کے تناسب میں بھی تیزی سے کمی آئی ہے۔

2016 میں 85 فیصد مسلمان جواب دہندگان نے بتایا کہ وہ اپنی عبادت گاہوں پر جاتے تھے(الگ الگ تعدد کے ساتھ)، لیکن 2021 میں صرف 79 فیصد نے کہا کہ انہوں نے ایسا کیاہے۔ اگرچہ یہ کمی دیگر مذاہب میں بھی دیکھی گئی، لیکن یہ مسلمانوں میں سب سے زیادہ6 فیصد تھی، اس کے بعد ہندوؤں میں 4 فیصد (92 سے 88 فیصد)، عیسائیوں میں 2 فیصد (91 سے 89 فیصد) اور سکھوں میں ایک فیصد (97 سے 96 فیصد) تھی۔

مذہبی شرکت داری پر خود کاخیال

مجموعی طور پر 19 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ ان کی مذہبی شرکت داری میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ 17 فیصد نے کہا کہ اس میں کمی آئی ہے۔ 57 فیصد نے کہا کہ یہ اتنی ہی ہے اور 7 فیصد نے جواب نہیں دیا۔ یہاں بھی دیگر مذاہب کے مقابلے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے کہا کہ ان کی مذہبی شرکت کے بارے میں ان کا تصور کم ہو گیا ہے۔ جہاں 18 فیصد مسلم نوجوانوں نے کہا کہ ان کی مذہبی شرکت داری میں اضافہ ہوا ہے، 20 فیصد نے محسوس کیا کہ ان کی مذہبی شرکت داری میں کمی آئی ہے۔

عیسائیوں اور سکھوں کے لیے، زیادتی اور کمی دونوں کا احساس کرنےوالے جواب دہندگان کی حصہ داری برابر تھی۔ بالترتیب 25 فیصداور 13 فیصد۔

ہندوؤں نے بتایاکہ ان کی مذہبی حصہ داری کا تصور بڑھ گیا ہے۔ تقریباً 20 فیصد ہندو جواب دہندگان نےبتایاکہ ان کی مذہبی شرکت داری میں اضافہ ہوا ہے ،جبکہ 16 فیصد نے اس میں کمی دیکھی ۔

بھارت میں مذہبی ہم آہنگی پر مایوسی

سی ایس ڈی ایس کی رپورٹ میں نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار کا نوٹس لیتے ہوئے کہا گیا کہ 2020 میں فرقہ وارانہ؍مذہبی فسادات کے 857 معاملے درج کیے گئے، جو کہ 2019 میں تقریباً 438 سے دوگنے تھے۔

رپورٹ میں اقلیتی برادریوں کو نشانہ بنانے والے نفرت انگیز جرائم اور لنچنگ کے حالیہ واقعات کا ذکر کیا گیا ہے، اور ہندوستان کے تین مسلم اکثریتی پڑوسیوں سے مذہبی اقلیتوں کے لیے شہریت کے نئے قانون کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ اس تناظر میں سروے کے جواب دہندگان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ اگلے پانچ سالوں میں مذہبی ہم آہنگی بہتر ہو گی یا خراب ہو گی۔

19 فیصد ہندوؤں نے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی صورت حال مزید خراب ہو جائے گی، جبکہ اقلیتیں زیادہ مایوسی کا شکار تھے۔ 31 فیصد عیسائی اور 33 فیصد مسلمانوں اور سکھوں نے کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ مذہبی ہم آہنگی میں کمی آئے گی۔

رپورٹ کے مصنّفین اس بنیاد پر زمینی سطح پر مسلمان نوجوانوں کے خیالات کی گہرائی میں زیادہ گئے کہ اس کمیونٹی نے ’حال کے سالوں میںامتیازی اور تشددکی مار جھیل رہےہیں۔‘

رپورٹ کے مطابق مذہبی بقائے باہمی کے بارے میں’’مایوسی‘ کا احساس ان صوبوں میں رہنے والے مسلمانوں میں زیادہ ہے جہاں مسلمانوں کی آبادی قومی اوسط 14.23 فیصد سے زیادہ ہے۔ مجموعی طور پر، ان ریاستوں میں آسام، مغربی بنگال، یوپی، بہار، جھارکھنڈ، اور کیرالہ کے —مذہبی ہم آہنگی کے بارے میں زیادہ مایوسی کا شکار ہے۔

مجموعی طور پر، ان صوبوں میں 35 فیصد مسلمانوں نے کہا کہ انہیں اس کے مزید خراب ہونے کی توقع ہے، جبکہ اوسط سے کم مسلم آبادی والے صوبوں میں یہ شرح 23 فیصد ہے۔

سروے میں یہ بھی پتہ چلا ہے کہ جن ریاستوں میں مسلمانوں کی اوسط سے زیادہ آبادی ہے وہاں بھی مذہبی امتیاز کی اطلاع دینے کا امکان زیادہ ہے، شاید اس لیے کہ اکثریت اور اقلیتی برادریوں کے درمیان ’مفاہمت اور بات چیت‘ کے مواقع موجود ہیں۔

مذہبی امتیاز کا تصور

2011 کی مردم شماری کے مطابق، ہندو کل آبادی کا تقریباً 80 فیصد ہیں، اس کے بعد تین سب سے بڑی اقلیتی برادریاں ہیں- مسلمان (14.23 فیصد)، عیسائی (2.3 فیصد) اور سکھ (1.72 فیصد)۔

سروے میں سیمپل کئے گئے اقلیتوں کے مطابق مسلمانوں کو اپنے دوستوں کے ہاتھوں سب سے زیادہ امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

تقریباً 44 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ انہیں اپنے دوستوں کی طرف سے امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا، 13 فیصد نے کہا کہ ایسا اکثر ہوتا ہے، جبکہ 31 فیصد نے کہا کہ یہ کبھی کبھار ہوتا ہے۔ صرف 18 فیصد عیسائی (4 فیصد اکثر، 14 فیصد کبھی کبھار) اور 8 فیصد سکھ (3 فیصد اکثر، 5 فیصد کبھی کبھار) نے اس طرح کے امتیازی سلوک کی بات کی۔جبکہ اوسطاً 70 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ انہیں اپنے مذہب کے حوالے سے کبھی امتیازی سلوک کا سامنا نہیں کرنا پڑا، مسلمانوں میں یہ شرح صرف 49 فیصد ہے۔

یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ مذہبی ہم آہنگی کے معاملے کے برعکس، جہاں مختلف مذہبی اقلیتوں کے نوجوانوں کی تقریباً ایک ہی رائے تھی، امتیازی سلوک کا سامنا کرنے کے معاملے پر، یہ احساس زیادہ تر صرف مسلمانوں میں تھا۔

کیا مسلمان واقعی کم مذہبی ہو رہے ہیں؟

اپنے نتائج پر بحث کرتے ہوئے سروے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ ‘’عقل کے برعکس‘ مسلم نوجوان پہلے کے مقابلے میں کم مذہبی دکھائی دیتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ‘کسی کے ذہن میں یہ بات آئے گی کہ نفرت، امتیازی سلوک اور تشدد کا نشانہ بننے کے بعد مسلمانوں نے زیادہ تعداد میں اپنے عقیدے کی طرف رجوع کیا ہوگا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ ممکن ہے کہ کچھ مسلمان جواب دہندگان نے اپنی مذہبی سرگرمیوں کے بارے میں بات کرنا آسان نہ سمجھا ہو۔

دی پرنٹ نے سروے کے نتائج پر ان کی رائے جاننے کے لیے متعدد اسلامی اسکالرز سے بات کی اور پایا کہ وہ عام طور پر شکوک و شبہات کا شکار تھے۔

اسلامک سینٹر آف انڈیا لکھنؤ کے صدر مولانا خالد فرنگی محلی کے مطابق سروے کے اعداد و شمار زمینی حقیقت کی عکاسی نہیں کرتے۔

’اس طرح کے سروے بہت کم لوگوں پر کیے جاتے ہیں، اور زیادہ تر شہری علاقوں میں،‘ محلی نے کہا۔ وہ پوری آبادی کی نمائندگی نہیں کرتے۔ مجھے نہیں لگتا کہ مسلم نوجوانوں کی مذہبی شرکت میں کوئی کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ اس ملک کی کسی بھی مسجد میں جمعہ کے دن جائیں اور وہاں کے لوگوں کو خود دیکھیں۔ آپ دیکھیں گے کہ بہت سے نوجوان نماز پڑھنے آتے ہیں۔

سیاسی اسلام کے اسکالر اورسی ایس ڈی ایس میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہلال احمد نے دی پرنٹ کو بتایا کہ یہ ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ لوگ اپنے مذہبی طریقوں کو کس طرح دیکھتے ہیں وہ موضوعی ہے۔

انہوںنے بتایا،’سروے کا ڈیٹا ایک فرد کے ادراک پر مبنی ہوتا ہے… اور مذہبیت بہت وسیع ہے۔ ایک شخص کے لیے ہر جمعہ کی نماز پڑھنا، ایک باعمل مسلمان کے قائم کردہ اصول سے علیحدگی سمجھا جا سکتا ہے۔ جو شخص پانچ وقت کی نماز پڑھتا ہے وہ اپنے آپ کو بغیر پابندی کے نماز پڑھنے والا سمجھ سکتا ہے۔

احمد نے یہ بھی کہا کہ مسلمانوں میں اپنے مذہب کے بارے میں ذاتی ہونے کا رجحان ہے، اور اسی موضوع پر دی پرنٹ کے لیے لکھے گئے ایک مضمون کا حوالہ دیا۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

ہم متبادل ورلڈ آرڈر کے حق میں، ٹیرف متاثرین کے لیے سرکار ہر ضروری قدم اٹھائے: امیر جماعت
گراونڈ رپورٹ

ہم متبادل ورلڈ آرڈر کے حق میں، ٹیرف متاثرین کے لیے سرکار ہر ضروری قدم اٹھائے: امیر جماعت

06 ستمبر
سنبھل فساد کی تحقیقاتی رپورٹ میں ایسا کیا ہے کہ یوگی حکومت پر اٹھے سوال دبا دیئے گیے؟
گراونڈ رپورٹ

سنبھل فساد کی تحقیقاتی رپورٹ میں ایسا کیا ہے کہ یوگی حکومت پر اٹھے سوال دبا دیئے گیے؟

01 ستمبر
آسام:بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت وتشدد میں بےحد اضافہ:India Hate Lab نے نیا ڈیٹا جاری کیا
گراونڈ رپورٹ

آسام:بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت وتشدد میں بےحد اضافہ:India Hate Lab نے نیا ڈیٹا جاری کیا

03 اگست
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN