پٹنہ: معروف ماہرِ تعلیم اور یوٹیوبر خان سر سے متعلق تنازع ایک بار پھر خبروں میں آ گیا ہے۔ پرنس نامی نوجوان کی موت کے معاملے میں اس وقت نیا موڑ آیا جب روشن آنند اپنے حامیوں کے ہمراہ مقامی پولیس تھانے پہنچ گئے اور واقعے کی ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق روشن آنند کا مؤقف ہے کہ پرنس کی موت کے حوالے سے تمام حقائق عوام کے سامنے آنے چاہئیں اور معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔
پورا معاملہ کیا ہے؟
ذرائع کے مطابق، راؤشن آنند کے بھائی پرنس کی مشتبہ حالات میں موت ہوئی تھی، جسے ابتدائی طور پر ایک حادثہ یا خودکشی کے زاویے سے دیکھا جا رہا تھا، تاہم راؤشن آنند اور ان کے خاندان کا الزام ہے کہ اس موت کے پیچھے ایک گہری سازش ہے۔
تھانے کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راؤشن آنند کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ پرنس گزشتہ کچھ عرصے سے شدید ذہنی دباؤ میں تھا اور اس معاملے کے تار خان سر کے ادارے اور ان سے جڑے کچھ افراد سے مل رہے ہیں۔ راؤشن آنند کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس ایسے پختہ شواہد (Evidence) موجود ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ پرنس کو جان بوجھ کر ایسے حالات کی طرف دھکیلا گیا۔
دوسری جانب خان سر یا ان کی ٹیم کی جانب سے اس معاملے پر سرکاری سطح پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق روشن آنند کی درخواست موصول ہونے کے بعد قانونی نکات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور ابتدائی معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی کارروائی کا فیصلہ شواہد اور تحقیقات کی روشنی میں کیا جائے گا۔
سیاسی اور سماجی حلقوں میں اس معاملے پر بحث جاری ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔ مبصرین کے مطابق اگر پولیس باقاعدہ مقدمہ درج کرتی ہے تو معاملہ مزید سنگین رخ اختیار کر سکتا ہے اور آنے والے دنوں میں اس کیس کے حوالے سے مزید پیش رفت متوقع ہے۔








