فرانس میں منعقد ہونے والے جی-7 سربراہی اجلاس کے دوران بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں بھارتی ملاحوں کی سلامتی کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے نہ صرف عالمی تجارت بلکہ انسانی جانوں کو بھی نقصان پہنچایا ہے اور "بھارتیوں کی بھی جان گئی ہے”۔ مودی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل خلیج عمان کے قریب ایک امریکی فوجی کارروائی میں تین بھارتی ملاح ہلاک ہو گئے تھے، جس پر بھارت میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔
جی-7 کے آؤٹ ریچ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستوں میں عدم استحکام پوری دنیا کی معیشت کو متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ سمندری راستوں کو محفوظ بنایا جائے اور ملاحوں کو خوف کے بغیر اپنے فرائض انجام دینے کا ماحول فراہم کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بحری تجارت دنیا کے ممالک کو آپس میں جوڑتی ہے، اس لیے اس کے تحفظ کو عالمی ترجیح بنایا جانا چاہیے۔
مودی کا یہ بیان سفارتی لحاظ سے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ یہ تبصرہ براہ راست امریکی صدر ٹرمپ کی موجودگی میں کیا گیا۔ اگرچہ انہوں نے امریکا کا نام لے کر تنقید نہیں کی، تاہم مبصرین کے مطابق ان کا اشارہ حالیہ امریکی کارروائی کی جانب تھا جس میں بھارتی شہری ہلاک ہوئے تھے۔ بھارت پہلے ہی اس واقعے پر واشنگٹن کے سامنے باضابطہ احتجاج درج کرا چکا ہے اور نئی دہلی نے شہری جہاز رانی کے خلاف طاقت کے استعمال پر تشویش ظاہر کی ہے۔
ادھر بھارت میں اپوزیشن جماعتوں نے حکومت پر دباؤ بڑھاتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ وزیراعظم مودی جی-7 اجلاس میں امریکی صدر سے اس معاملے پر دوٹوک بات کریں۔ کانگریس رہنما راہل گاندھی اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے بھارتی ملاحوں کی ہلاکت پر حکومت کے ابتدائی ردعمل کو ناکافی قرار دیا تھا۔ مودی کے تازہ بیان کو بعض حلقے اسی تناظر میں دیکھ رہے ہیں، جہاں حکومت ایک جانب امریکا کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات برقرار رکھنا چاہتی ہے اور دوسری جانب اپنے شہریوں کے تحفظ کے معاملے پر سخت مؤقف بھی اختیار کرنا چاہتی ہے۔








