واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات کے نتیجے میں ہونے والا حتمی معاہدہ امریکا کے لیے قابل قبول نہ ہوا تو ایران کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکی صدر نے واضح کیا کہ واشنگٹن ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا اور اگر تہران نے معاہدے کی شرائط سے انحراف کیا یا جوہری سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کی کوشش کی تو امریکا فوجی آپشن استعمال کرنے سے بھی گریز نہیں کرے گا
فرانس کے شہر ایویان (Evian) میں جاری جی 7 (G7) سربراہی اجلاس کے موقع پر مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اپنے روایتی اور جارحانہ انداز میں کہا:
"یہ کوئی فائنل ڈیڈ لاک یا حتمی معاہدہ نہیں ہے، یہ صرف ایک مفاہمت کی یادداشت (MoU) ہے۔ اور اگر یہ مجھے پسند نہ آیا، یا انہوں نے (ایران نے) شرافت کا مظاہرہ نہ کیا، تو ہم سیدھے واپس جائیں گے اور ان کے سروں کے بالکل بیچوں بیچ بم برسانا شروع کر دیں گے، اوکے؟”
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کی ترجیح سفارتی حل اور مذاکرات ہیں، تاہم امریکا اپنی قومی سلامتی اور اتحادی ممالک کے مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ جاری بات چیت ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور آنے والے دنوں میں اس کے مستقبل کا فیصلہ ہو جائے گا۔ امریکی صدر کے مطابق اگر ایران نے مثبت رویہ اختیار کیا تو معاہدہ ممکن ہے، بصورت دیگر سخت اقدامات زیر غور ہوں گے۔
"دوبارہ شوٹنگ شروع کر دیں گے”
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے اور بحری ناکہ بندی ہٹانے کا فیصلہ صرف موجودہ صورتحال کو سنبھالنے کے لیے ہے۔ انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ استعمال کیے اور کہا کہ "اگر ایران نے ٹھیک سے برتاؤ نہ کیا تو ہم دوبارہ ان پر فائرنگ اور بمباری شروع کرنے سے دریغ نہیں کریں گے۔”
یاد رہے کہ یہ تیکھا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک جمعہ (19 جون 2026) کو سوئٹزرلینڈ کے پہاڑی ریزورٹ ‘برگن اسٹاک’ (Burgenstock) میں اس عبوری معاہدے پر باقاعدہ دستخط کرنے جا رہے ہیں، جس کے تحت ایران کو تیل بیچنے کی اجازت مل چکی ہے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جا رہا ہے۔








