کابل:
بندوق لہراتےطالبانی ، لانچر ،نقل مکانی کی کوشش کرتے لوگ ، امریکی سفارت خانہ میں ہیلی کاپٹر ، افغانستان کے صدر ہاؤس میں ہتھیار کے ساتھ کرسی پر بیٹھے طالبان کے کمانڈر ،ایسی ہی تصاویر کے ساتھ انٹرنیشنل میڈیاکہ فرنٹ پیج بھرے پڑے ہیں ۔
محض کچھ ہفتے کے اندر افغانستان کی تصویر بل چکی ہے ۔ طالبان کا قبصہ اب راجدھانی کابل پر بھی ہو چکا ہے ۔ ساتھ ہی افغان صدر اشرف غنی ملک چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔
’مغربی افواج ہٹی‘، ’طالبان حکومت کی واپسی‘
’کابل کا زوال‘
’طالبان کا کابل پر قبضہ ، صدر نے ملک چھوڑا‘
یہ کچھ سرخیاں ہیں جو بین الاقوامی میڈیا نے افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد لکھی ہیں۔
’ڈیلی ٹیلی گراف‘ نے لکھا – افغانستان سے بھاگنے کے لیے ’مایوس‘ لوگ ، کابل ہوائی اڈے پر ’افراتفری‘ کے مناظر دیکھے گئے۔

ڈیلی ٹیلی گراف نے لکھا کہ برٹش اور امریکی افغانستان چھوڑ کر نکل رہے ہیں اس سے پہلے کہ کابل ایئر پورٹ پر طالبان کا قبضہ ہوجائے ۔ قریب دو ہفتے پہلے طالبان نے افغانستان کے ایک شہر کو قبضے میں لیا تھا اور اب کابل پر بھی قبضہ ہو چکا ہے ۔
فنانشیل ٹائمز نے تجزیہ کاروں کے حوالے سے لکھا کہ امریکی افواج کے انخلاء سے افغانوں کے حوصلے کو’شدید نقصان‘ پہنچا ہے ، جس سے ان کے لڑنے کی خواہش کم ہو گئی تھی۔
نیویارک ٹائمز نے اپنی ہیڈ لائن لگائی ہے : ’’Taliban Seize Afghanistan‘‘ یعنی طالبان نے افغانستان پر قبضہ کیا۔

نیویارک ٹائمس نے لکھا : ’ طالبان کے اقتدار میں آنے سے کابل میں ڈر پھیل گیا ہے ۔ افغان صدر کے بھاگ جانے اور طالبان کے ذریعہ صدر ہاؤس میں خود کو قائم کرنے کے بعد غیریقینی صورت حال کا نظام ہے ۔ ملک سے بھاگنے کو بے تاب ہزاروں لوگوں کی وجہ سے قابل کے ہائی اڈے پر افرا تفری کا منظر ہے ۔‘
’اداسی ،گھراہٹ‘ … کابل پر طالبانی قبضے کے بعد انٹرنیشنل میڈیا نے لکھا :’ افغان فورسز کے ذریعہ مزاحمت کا آخری علاقہ بھی کچل دیا گیا کیونکہ طالبان نے قندھار میں ہوائی اڈے پر کنٹرول کو لے کراسپیشل فورس کے ایک یونٹ کوہرانے کا دعویٰ کیاہے ۔
دی گارجین اخبار میں خواتین کے ڈر کاذکر ہے ۔ دی گارجین نے لکھا ہے کہ افغانستان میں 20 سال کے مغربی مشن کے حتمی خاتمہ میں صرف ایک دن لگا کیونکہ طالبان بندوق برداریوں نے راجدھانی کابل میں داخل ہوگئے ۔ اتوار کو صدر اشرف غنی ملک سے بھاگ گئے اور امریکہ نے دہشت میں اپنا سفارت خانہ چھوڑ دیا۔

وہیں گارجین نے ایک افغانی خاتون کے ڈر کو بیان کیا ہے، گارجین اخبار سے ایک افغانی خاتون نے کہا :’ میں اپنے چہروں اور صرف خواتین کے خوفزدہ چہرے اور خواتین سے نفرت کرنے والے مردوں کے بدصورت دیکھ سکتی ہوں ، جو خواتین کا تعلیم یافتہ ہونا ، کام کرنا اور آزادی حاصل کرنا پسند نہیں کرتے تھے ۔ میرے لیے سب سے زیادہ تباہ کن وہ ہیں جو خوش دکھاتے تھے اور خواتین کا مذاق اڑاتے تھے ۔ وہ ہمارہ ساتھ کھڑے ہونے کے باوجود طالبان کے ساتھ کھڑے ہیں اور انہیں اور بھی طاقت دیتے ہیں۔
’افغانسان طالبان کے قبضے میں ‘

وال اسٹریٹ جرنل نے اپنے صفحہ اول پر ایک تصویر کوجگہ دی ہے جس میں طالبان کے کمانڈر افغانستان کے صدر ہاؤس میں بیٹھے ہوئے ہیں۔
بتادیں کہ طالبان کے قبضے کے بعد کئی لوگ اپنی جان بچانے کے لیے افغانستان چھوڑ کر دوسرے ملک جانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ کابل ایئرپورٹ پر افراتفری کا ماحول ہے ۔











