تحریر:شاداب معزی
’’نماز پڑھ کر گھر سے گیا کہ مراد آباد جا رہاہوں ، لیکن جا نہیں پایا ، راستے میں پولیس کی گولی لگی، پولیس نے گولی چلائی ہے تو پولیس کی گولی لگی ہے ۔ ‘‘
یہ کہتے ہوئے شکیلہ بانو رونے لگتی ہیں۔ شکیلہ کے بیٹے بلال کو دو سال قبل قتل کر دیا گیا تھا۔ درحقیقت دو سال پہلے 20 دسمبر 2019 کو اتر پردیش کے کئی شہروں میں موت کا ماتم چھا گیاتھا ۔جگہ -جگہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرے ہورہے تھے ، اسی دوران تقریباً 23 لوگوںکو اپنی جان سے ہاتھ دینا پڑا۔ ان 23 لوگوں میں سے دو لوگ سنبھل میں مارے گئے تھے۔ نام تھا شہروز اور بلال ۔
اب دو سال گزر چکے ہیں اور سوال یہ ہے کہ شہروز اور بلال کو کس نے مارا؟ کیا ان لوگوں کے خاندان کو انصاف ملا؟
ان سوالوں کے ساتھ دی کوئنٹ کی ٹیم سنبھل پہنچی۔ جہاں یامین خان سے ملاقات ہوئی جنہوں نے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہروں کےدوران اپنا بیٹا کھویا تھا۔
بی جے پی لیڈر پر الزام
یامین کہتے ہیں،’سی اے اے – این آر سی کا پروٹسٹ چل رہا تھا جب میرے بیٹے کو گولی لگی۔ گولی چلنے کے دو تین دن بعد سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو آیا جس میں ایک بی جے پی لیڈر سنتوش گپتا شنکر چوک پر گولی چلا رہا ہے، لیکن مجھے نہیں معلوم کہ میرے بیٹے کو کس کی گولی لگی۔
دی کوئنٹ نے سنبھل میں سنتوش گپتا سے ملنے کی کوشش کی تو انہوں نے فون نہیں اٹھایا۔ جس کے بعد دی کوئنٹ نے سنتوش گپتا سے موبائل پر دوبارہ رابطہ کیا۔ جب دی کوئنٹ نے سنتوش گپتا سے شوٹنگ اور وائرل ویڈیو کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا، ہمارا کوئی رول نہیں کہ اس میں کیا کہا جائے۔ جو ہمارے دشمن ہیں انہوں نے کہا ہے۔ پولیس نے فائرنگ کی، پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔ پولیس بھاگ گئی۔ ہم جہاں بھی تھے کوئی نہیں آیا تھا۔ اب جو دشمن ہمارے ہیں وہ زبردستی ہماری فوٹو لگاتے ہیں، میرا تو سنبھل میں ریکارڈ رہا ہے۔ اب ہم اپنی حکومت میں بہت سے لوگوں کو پریشان کرتے ہیں لیکن میں جو کچھ کر سکتا ہوں وہ کرتا ہوں۔
رپورٹر- کیا پولیس نے آپ سے پوچھ گچھ کی؟
سنتوش گپتا، بی جے پی لیڈر، سنبھل – نہیں، نہیں۔ ہمارا تو نام ہی نہیں ۔ کسی اخبار میں نام نہیں۔ جب میں وہاں نہیں تھا تو پولیس مجھ سے کیوں پوچھے گی؟ مجھے پھنسانے کی کوشش کی ہوئی۔ میں نے گولی نہیں چلائی۔
جب دی کوئنٹ نے اپنی ویڈیو اسٹوری کے لیے سنتوش گپتا سے ویڈیو بیان بھیجنے کو کہا تب سنتوش گپتا نے اپنے کسی رشتہ دار جو کہ صحافی ہیں ان کا حوالہ دیتےہوئے کہاکہ ہم ان سے پوچھ کر ویڈیو بھیجیں گے ۔
بی جے پی لیڈر نے رقم کی پیشکش کی
جب دی کوئنٹ نے سنتوش گپتا کو دوبارہ ویڈیو بیان کے لیے بلایا تو انہوں نے اسٹوری کو لے کر پیسے کا آفر کیا۔
رپورٹر- میں نے آپ کے موقف کے لیے کہا تھا کہ ویڈیو بھیج دیتے تو صحیح رہتا …. نہیں تو آپ جو ہمیں بتایاہےوہی چلانا پڑے گا۔
سنتوش گپتا- ہاں، ہاں چلائیے کوئی مسئلہ نہیں ہے …. آپ کو کچھ پیسے چاہئے تو آپ بتائیے …
رپورٹر – پیسے چاہئے؟ مطلب؟
سنتوش گپتا- اگر پیسے کی بات ہے تو آپ بتاؤ ۔
رپورٹر- بھائی صاحب، آپ کو کیسے لگتا ہے کہ ہمیں پیسے چاہیے؟
سنتوش گپتا- ایسا ہے کہ ہمارے پاس کوئی ویڈیو نہیں ہے.. اگر آپ نے یو ٹیوب پر کوئی ویڈیو بنائی ہے تو آپ کو بتاؤ.. آپ سنبھل آجائیے ۔ بیٹھ کر بات کرتے ہیں ۔
رپورٹر- آپ پیسے کی کیا بات کر رہے ہیں؟ سمجھا نہیں
سنتوش گپتا – نہیں،سنبھل آجائیے، آپ کو پیسے ہی تو چاہئے ۔
رپورٹر- میں آپ سے پیسے مانگ رہا ہوں؟
سنتوش – آپ ہی تو تھے ،اس دن جب بات ہوئی تھی پیسے ویسے نکالیں گے ۔
رپورٹر- ہمارے پاس تمام ریکارڈنگ ہیں جناب آپ کو اندازہ نہیں کہ ہم کس قسم کے صحافی ہیں، اسی لیے آپ پیسے کی ایسی باتیں کر رہے ہیں۔
سنتوش گپتا – کوئی بات نہیں بھائی، آپ بہت بڑے صحافی ہیں، آپ سنبھل آجائیے۔
سنتوش گپتا – بھائی ایسا ہے کہ میں نے آپ کو بتا دیا کہ میں تھا ہی نہیں، نہ میری گولی لگی نہ میرا کوئی مطلب ۔
رپورٹر – ہم نے آپ سے کیا کہا؟ بس آپ سے کہا تھا کہ آپ اپنی بات رکھیں
سنتوش گپتا- کیا موقف رکھیں..جو بات تھی آپ کو بتاد ی ۔
رپورٹر- ٹھیک ہے پھر ہم اسٹوری میں وہی استعمال کریں گے۔
سنتوش گپتا- ٹھیک ہے ٹھیک ہے..
رپورٹر- تو یہ پیسے کی بات نہ کیجئے۔
سنتوش گپتا – کوئی بات نہیں بھائی.. میں نے تو آپ سے پوچھا کہ اسٹوری بنا رہے ہو، خرچ ہوگا۔
رپورٹر- ہرگز نہیں، ہرگز نہیں.. یہ سب غلط بات نہیں…
سنتوش گپتا- اچھا آپ بنائیے اسٹوری …
پولیس کا کیا کہنا ہے؟
کوئنٹ نے اس معاملے میں سنبھل کے ایس پی چکریش مشرا سے بات کی۔ چکریش مشرا نے کہا، ‘کوئی ثبوت نہیں ملا، اس لیے اس معاملے میں حتمی رپورٹ ڈال دی گئی ہے۔ ثبوت ہوتے تو چارج شیٹ ہوتی۔
’بلال بچے کی دوا لانے گھر سے نکلا تھا بلال ،گولی لگنےسے ہوئی موت‘
مقتول بلال کی والدہ شکیلہ بانو کا کہتی ہیں کہ بلال کی تین چھوٹی چھوٹی بیٹیاں ہیں۔ کیسے ان بچوں کی پرورش ہوگی۔؟ وہیں مقتول بلال کے والد کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا بلال بیٹی کی دوا لینے گیا تھا، تب ہی راستے میں اسے گولی لگ گئی۔ بلال کے چہرے پر گولی لگی تھی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں گولی لگنے کی تصدیق ہو گئی۔ لیکن گولی چلانے والا پکڑا نہیں گیا۔
اس معاملے میں کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا
مقتول شہروز کے والد یامین کا کہنا ہے کہ کوئی گواہی نہیں دینا چاہتا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں گولی لگنے کی بات ہے لیکن شاید لوگ پولیس سے ڈرتے ہیں جس کی وجہ سے کوئی سامنے نہیں کہتا کہ کس کی گولی سے شہروزکی موت ہوئی ہے ۔ دوسری جانب شہروز کے اہل خانہ کی جانب سے کیس لڑنے والے وکیل توصیف محمد خان مکی کا کہنا ہے کہ جن لوگوں نے گولیچلائی ان کے بندوق کا لیب ٹیسٹ ہونا چاہیے تھا۔
پولیس نے پورے معاملے پر کیا کہا؟
دی کوئنٹ سے بات کرتے ہوئے سنبھل کے ایس پی چکریش مشرا کہتے ہیں،’’موت کے دونوں کیسز میں فائنل رپورٹ لگ گئی ہے اور عدالت کو بھیج دی گئی ہے۔ جن لوگوں نے ہنگامہ کھڑا کیا تھا ان سے تفتیش جاری ہے۔
انصاف تو دور معاوضہ تک نہیں ملا
شہروز اور بلال دونوں کے اہل خانہ اب اس معاملے میں غمزدہ نظر آتے ہیں۔ دونوں خاندانوں کا کہنا ہے کہ وہ کیس لڑنے یا ثبوت لانے کے قابل نہیں ہیں۔ شہروز کے والد کے مطابق ان لوگوں کو حکومت کی طرف سے کسی قسم کی مدد نہیں ملی اور نہ ہی کوئی معاوضہ۔
چاہے پولیس حتمی رپورٹ کی بات کرے یا حکومت معاوضہ نہ دے لیکن ایک سوال پھر بھی موجود ہے کہ شہروز اور بلال کو کس نے مارا؟
(بشکریہ: دی کوئنٹ )










