الہ آباد ہائی کورٹ نے سنبھل ضلع کی ایک مسجد میں نماز ادا کرنے والوں کی تعداد کو محدود کرنے کے بی جے پی کی حکومت والی اتر پردیش حکومت کے فیصلے کو مسترد کر دیا ہے۔ جسٹس اتل شریدھرن اور سدھارتھ نندن کی بنچ نے سختی سے ریمارکس دیے کہ اگر مقامی انتظامیہ امن و امان برقرار رکھنے میں ناکام ہے تو سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) اور ڈسٹرکٹ کلکٹر (ڈی سی) کو یا تو استعفیٰ دے دینا چاہیے یا سنبھل سے ٹرانسفر طلب کرنا چاہیے۔
لائیو لاء live law نے ہفتہ، 14 مارچ کو رپورٹ کیا کہ یہ فیصلہ 27 فروری کو منظور کیے گئے ایک حکم کے بعد کیا گیا، جس میں عدالت نے واضح کیا کہ ریاست کا فرض ہے کہ وہ ہر کمیونٹی کی مخصوص عبادت گاہوں پر پرامن عبادت کے حق کو یقینی بنائے۔ اگر عبادت گاہ نجی ملکیت ہے (جیسا کہ پہلے عدالت نے حکم دیا تھا)، تو ریاست سے اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ فیصلہ 14 مارچ بروز ہفتہ میڈیا میں رپورٹ کیا گیا۔
سنبھل کیس کیا ہے؟
انتظامیہ نے سنبھل ضلع کے گٹہ نمبر 291 پر واقع مسجد میں رمضان کے دوران نماز پڑھنے والوں کی تعداد صرف 20 تک محدود کر دی تھی۔ درخواست گزار منظیر خان نے الزام لگایا کہ انتظامیہ مسلمانوں کو مساجد میں نماز ادا کرنے سے روک رہی ہے اور ان کے مذہبی حقوق کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ درخواست میں استدلال کیا گیا کہ امن و امان کے نام پر ایسی پابندیاں لگانا غیر آئینی ہے۔
**حکومتی دلائل مسترد
ہائی کورٹ نے حکومت کے تمام دلائل کو یکسر مسترد کر دیا۔ بنچ نے کہا، "اگر مقامی افسران، یعنی پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) اور ضلع کلکٹر، یہ سمجھتے ہیں کہ امن و امان کی صورت حال بگڑ سکتی ہے اور وہ خود کو قانون نافذ کرنے سے قاصر سمجھتے ہیں، اس لیے وہ نمازیوں کی تعداد کو محدود کرنا چاہتے ہیں، تو انہیں یا تو اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دینا چاہیے یا سنبھل سے باہر منتقلی کا مطالبہ کرنا چاہیے۔”
عدالت نے کہا، "یہ ریاست کا فرض ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ ہر کمیونٹی کو متعین عبادت گاہ پر پرامن طریقے سے عبادت کرنے کا موقع ملے۔ اگر یہ نجی ملکیت ہے، جیسا کہ پہلے عدالت نے طے کیا ہے، تو پھر ریاست کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔”
**یوگی حکومت: یہ عدالتی تبصرے پڑھے
**عدالت نے کہا کہ امن و امان برقرار رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہے، مذہبی آزادی کو محدود کرنے کا بہانہ نہیں۔
**اگر اہلکار اس ذمہ داری کو نبھانے میں ناکام رہتے ہیں تو انہیں استعفیٰ دے دینا چاہیے یا تبادلے کا مطالبہ کرنا چاہیے۔
**مذہبی مقامات پر عبادت کا حق آئینی ہے اور اسے ٹھوس بنیادوں کے بغیر محدود نہیں کیا جا سکتا۔
یہ فیصلہ سنبھل میں مساجد سے متعلق حالیہ تنازعات کے تناظر میں اہم ہے، جہاں شاہی جامع مسجد جیسے معاملات میں سروے اور دیگر قانونی کارروائیاں کی گئی ہیں۔ تاہم، یہ معاملہ خاص طور پر رمضان کے دوران نمازوں کی تعداد کو محدود کرنے سے متعلق ہے، یہ اقدام امن و امان کا حوالہ دیتے ہوئے انتظامیہ نے اٹھایا تھا



