نئی دہلی :(ایجنسی)
کسان تحریک کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے دہلی کا دوسرا سب سے بڑا مظاہرہ شاہین باغ مظاہرہ پھر سے کھڑا ہو سکتا ہے۔ کچھ لوگ مظاہرہ کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ انٹیلی جنس ڈپارٹمنٹ نے دہلی پولیس کو اس طرح کی معلومات دی ہیں۔ اس ان پٹ کے بعد جامعہ نگر اور شاہین باغ میں جہاں مظاہرے ہوئے تھے وہاں سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ تاہم ضلع ڈی سی پی کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے جرائم پر قابو پانے کے لیے سیکورٹی بڑھا گئی ہے۔
امراجالا آن لائن میں شائع رپورٹ کے مطابق سی اے اے اور این آر سی کی مخالفت میں شاہین باغ کے سریتا وہار اور کالندی کنج روڈ پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیاتھا۔ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف دہلی میں کئی جگہوں پر مظاہرے ہوئے، لیکن شاہین باغ میں اب تک کا دوسراسب سے زیادہ دنوں تک جاری رہنے والا بڑا مظاہرہ ہوا تھا۔ خواتین کی قیادت میںچلنے والا شاہین باغ مظاہرہ 101 دن چلا تھا ۔ کسان تحریک کےبعد یہ دہلی کادوسرا سب سے بڑا مظاہرہ ہے۔ اس تحریک کاچہرہ بن گئی بلقیس بانو نے بین الاقوامی سطح پر دنیا کی توجہ اس تحریک کی طرف مبذول کرائی۔ ’شاہین باغ کی دادی‘ کے نام سے بھی لو گ جانتے ہیں ۔انہیں ٹائم میگزین نے 2020 کے سب سے زیادہ بااثر لوگوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔
دہلی پولیس کے ایک سینئر افسر نے کہا کہ انٹیلی جنس ڈپارٹمنٹ سے اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ کسانوں کی تحریک جس طرح سے کامیاب ہوئی ہے، اس کے پیش نظر شاہین باغ کے مظاہرین میں سرگرمیاں تیزہوگئی ہیں۔ کسان تحریک کی کامیابی سے متاثر ہو کر شاہین باغ تحریک دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔ اس ان پٹ کے بعد شاہین باغ اور جامعہ نگر میں مولانا محمد علی جوہر مارگ پر سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے۔
اتوار کو جامعہ نگر میں سیکورٹی کے لیے 50 سے زیادہ پولیس اہلکار تعینات کرائے گئے تھے۔ مقامی پولیس کے ساتھ ساتھ نیم فوجی دستوں کو بھی یہاں تعینات کیا گیا ہے۔ جامعہ یونیورسٹی کے سامنے بھی پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ دہلی پولیس شاہین باغ کے احتجاجی مقام پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور انٹیلی جنس ڈپارٹمنٹ پوری طرح سرگرم ہو گیا ہے۔
جنوب مشرقی ضلع کی ڈی سی پی ایشا پانڈے کا کہنا ہے کہ شاہین باغ اور جامعہ نگر میں جرائم خاص طور پر چھینا جھپٹی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان واقعات کو روکنے کے لیے وہاں سیکورٹی بڑھا گئی ہے۔










