اردو
हिन्दी
مئی 9, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

شیخ حسینہ: بنگلہ دیش میں ہندو برادری پر حملوں کے بعد ملک کی وزیر اعظم نے بھارت کو متنبہ کیوں کیا؟

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
شیخ حسینہ: بنگلہ دیش میں ہندو برادری پر حملوں کے بعد ملک کی وزیر اعظم نے بھارت کو متنبہ کیوں کیا؟
378
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر: شکیل انور

بنگلہ دیش میں دُرگا پوجا کے دوران ہندو برادری کے مندر پر حملے کے دو روز بعد وزیر اعظم شیخ حسینہ نے کہا کہ واقعے پر مجرموں کو سخت سزائیں دی جائیں گی اور ملک کی ہندو برادری کو تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ شیخ حسینہ کی حکومت مسلسل ملک میں ہندو برادری کی سکیورٹی پر بات کر رہی ہے لیکن بدھ کو جس طرح وزیراعظم نے ہندوؤں کی سکیورٹی کو بھارت کی قیادت سے جوڑا، یہ پہلے نہیں دیکھا گیا۔

شیخ حسینہ نے بھارت کو یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ اسے شرپسندوں کے ساتھ سختی سے پیش آنا چاہیے۔ انھوں نے کہا تھا کہ بھارت میں بھی ایسا کچھ نہیں ہونا چاہیے جو ہمارے ملک کو متاثر کرے اور ہمارے ملک میں ہندوؤں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔

’اگر بھارت میں ایسا کچھ ہوتا ہے تو ہمارے ہاں ہندو متاثر ہوتے ہیں۔بھارت کو بھی اس حوالے سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔‘

بی بی سی بنگالی سروس سے بات کرتے ہوئے بنگلہ دیش کے سابق سیکریٹری خارجہ توحید حسین نے کہا ہے کہ یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ بنگلہ دیش کی اعلیٰ قیادت نے بھارت کے اندرونی معاملات پر اس طرح کھل کر بات کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’عام طور پر ہم انڈیا کو ایسا واضح پیغام نہیں دیا کرتے، حالانکہ اس پر بات ضرور ہوتی ہے۔ جببھارت کی حکمراں جماعت بی جے پی کے سب سے طاقتور شخص نے بنگلہ دیش کے بارے میں غلط زبان استعمال کی تھی تب بھی ہم نے اس طرح کھل کر بات نہیں کی تھی۔‘

بھارت میں سنہ 2019 کے لوک سبھا انتخابات سے قبل امت شاہ نے بنگلہ دیش سے غیر قانونی طور پر آنے والے پناہ گزینوں کے بارے میں سخت زبان استعمال کی تھی۔ اس پر بنگلہ دیش میں کافی مظاہرے کیے گئے تھے لیکن اس کے باوجود بنگلہ دیش کی حکومت نے کھل کر کوئی بات نہیں کی تھی۔ شیخ حسینہ نے جو کچھ بھی بدھ کو کہا ہے، اس پر تعجب کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

مگر سوال یہ ہے کہ شیخ حسینہ بھارت کو آخر کیا پیغام دینا چاہتی ہیں۔ توحید حسین کہتے ہیں کہ ’پیغام واضح ہے۔ بنگلہ دیش نے بھارت میں نسل پرستی پر مبنی واقعات پر ردعمل دیا ہے۔ ’شیخ حسینہ نے واضح طور پر کہا ہے کہ بھارت کو اس پر توجہ دینی چاہیے۔ ان کا بیان بالکل درست ہے کیونکہ ہم نے دیکھا ہے کہ سنہ 1992 میں بابری مسجد کے انہدام پر کیا ہوا تھا۔‘

سنہ 2014 میں انڈیا میں بی جے پی کی حکومت کے قیام کے بعد سے بھارت میں سیکولرزم کے مستقبل پر مسلسل بحث جاری ہے۔ بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کی خبریں آتی رہتی ہیں۔

ایسے کئی واقعات پیش آئے ہیں کہ کسی برادری میں کچھ افراد کو مذہبی مقاصد کے لیے قتل کیا گیا تھا۔ انڈین حکومت پر بھی یہ الزام لگتا رہا ہے کہ وہ قدامت پسند ہندوتوا کے حامیوں کو فروغ دیتی ہے۔ مسلم اکثریتی ملک بنگلہ دیش میں مبصرین سمجھتے ہیں کہ عوامی لیگ کی حکومت ہمسایہ ملک انڈیا میں مسلمان مخالف سیاست اور بنگلہ دیش پر اس کے اثرات سے پریشان ہے۔

عوامی لیگ خود کو ایک سیکولر جماعت بتاتی ہے اور اس کی کوشش ہے کہ مذہبی انتہا پسندی اور سیاست میں مذہب کی بنیادوں کو مضبوط ہونے نہ دیا جائے۔ گذشتہ سال کم از کم دو بنگلہ دیشی وزرا کے بھارت کے دورے منسوخ کیے گئے تھے۔ یہ تب ہوا تھا جب بھارت میں متنازع سول ترمیمی ایکٹ نافذ کر دیا گیا تھا۔

توحید حسین کہتے ہیں کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ عوامی لیگ کی حکومت بھارت میں نسل پرستی پر مبنی سیاست کے پھیلاؤ سے پریشان ہے۔ یہ قدرتی ہے کہ اگر (بھارت جیسے) بڑے ہمسایہ ملک میں مذہبی انتہا پسندی بڑھتی ہے تو اس سے بنگلہ دیش پر بھی اثرات مرتب ہوں گے۔ انڈیا کا سیکولر ڈھانچہ کمزور ہوا ہے۔‘

توحید سفارتی کام کے لیے نو سال تک بھارت میں رہائش پذیر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میں یہ نہیں کہتا کہ بنگلہ دیش میں صورتحال بہترین ہے۔ یہاں بھی نسل پرستی پر مبنی سیاست ہوتی ہے۔ یہاں بھی موقع پرست لوگ موجود ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ بھارت میں صورتحال بدتر ہو چکی ہے۔

’بی جے پی کی حکومت نے قانون کی مدد سے ملک میں نسلی تفریق قائم کر دی ہے۔ وہ ایسا کرنے میں کامیاب بھی ہوئے ہیں۔ طویل عرصے کے بعد انڈیا میں ایک جماعت کھلے عام نسل پرستی پر مبنی سیاست ابھار رہی ہے۔ ایسی صورتحال میں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ انڈیا کے معاشرے میں نسلی امتیاز اپنی جگہ بنا رہا ہے۔‘

جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں جنوبی ایشیا کی سیاست کے پروفیسر سنجے بھردواج شیخ حسینہ کے بیان سے اتفاق کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انڈیا کی سیاست کا بنگلہ دیش پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔ تاہم وہ کہتے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں مذہب، ذات، علاقے یا نسل پر مبنی سیاست کوئی نئی بات نہیں ہے۔ وہ اس بات سے بھی اتفاق کرتے ہیں کہ بھارت میں نسل پرستی پر مبنی سیاست سے بنگلہ دیش میں اقلیتوں پر اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

بھردواج کہتے ہیں کہ ’بنگلہ دیش کے آئین میں اسلام ریاست کا مذہب ہے لیکن شیخ حسینہ نے اقلیتوں کے حقوق کے لیے کام کیا ہے۔ بھارت میں اکثریت پسندی کی سیاست نے اس کی اقلیتوں خاص کر مسلمانوں کی زندگیاں متاثر کی ہیں۔‘ ’لیکن انڈیا کی جمہوریت اب بھی مضبوط ہے اور انڈیا اب تک ہندو قوم نہیں بنا۔ میرا نہیں خیال کہ نریندر مودی کے سات سالہ دور میں مسلمانوں کو کسی بڑے خطرے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔‘

سنجے بھردواج نے کہا ہے کہ بھارت کی حکومت کو شیخ حسینہ کے پیغام میں مثبت پہلو تلاش کرنا چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’اگر بھارت چاہتا ہے کہ بنگلہ دیش میں اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ہو تو اسے اپنے ملک میں اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہو گا۔ میرا خیال ہے کہ بی جے پی کی اعلیٰ قیادت یہ بات سمجھ سکتی ہے۔‘

بنگلہ دیش کے سابق سیکریٹری خارجہ توحید حسین سمجھتے ہیں کہ بی جے پی کی حکومت شیخ حسینہ کے بیان کو اتنی اہمیت نہیں دے گی۔ ’بی جے پی کا ایجنڈا واضح ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ نسل پرستی پر مبنی سیاست طاقت کے لیے کی جاتی ہے۔ اقتدار میں آنے سے قبل بی جے پی نے بھارت میں معاشی ترقی کا وعدہ کیا تھا۔

’گجرات ماڈل کی بہت بات کی جاتی تھی لیکن کچھ نہیں ہوا۔ میرا نہیں خیال کہ بی جے پی نے معیشت کے محاذ پر کچھ کیا ہے۔ اس صورتحال میں مذہب ان کی سیاست کا واحد ہتھیار ہے۔‘ توحید سمجھتے ہیں کہ شیخ حسینہ نے بھارت کی طرف انگلی اٹھا کر اپنے ملک میں سیاسی حمایت حاصل کی ہے۔ ’(ورنہ) شیخ حسینہ کی شخصیت ایسی رہی ہے کہ وہ انڈیا کے معاملے پر خاموش رہتی ہیں۔‘

(بشکریہ : بی بی سی )

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN