دوٹوک :قاسم سید
آر ایس ایس ان دنوں نیا بیانیہ سیٹ کرنے کی سمت میں سرگرم عمل ہے ،گزشتہ دنوں اس نے عمیر الیاسی کی قیادت میں ائمہ اور کچھ مسلم انٹلکچول کہے جانے والے ایک گروپ سے ہریانہ بھون دہلی میں ملاقات کی تھی جو کئی گھنٹے جارہی رہی ـاس کا مقصد تھا کہ دہائیوں سے موجود ہندو ـ مسلم کے درمیان غلط فہمیوں کا ازالہ ہو ،افہام وتفہیم کی راہیں ہموار ہوں اور جو دوریاں پیدا ہوگئیں یا کردی گئی ہیں ان میں کمی ہو اگر چہ ایک خیال یہ بھی ہے کہ ان غلط فہمیوں کو پیدا کرنے میں سنگھ پریوار کا پڑا حصہ ہے ،لیکن باہمی ڈائیلاگ کا نظریہ کبھی مسترد نہیں کیا جانا چاہیے ،خواہ یہ پیش کش کسی بھی طرف سے ہو ـ اس سے قبل 2022میں بھی اماموں کے ایک گروپ کے ساتھ موہن بھاگوت نے ملاقات کی تھی اور ایک مدرسے کا دورہ بھی کیا تھا ،ہھر بعض ریٹائرڈ بیورو کریٹس کی کوششوں کے نتیجہ میں سرکردہ مسلم جماعتوں کے لیڈروں اور آر ایس ایس کے جونئیر لیڈروں کے درمیان دو خاموش ملاقاتیں ہوئیں مگر لاحاصل رہیں ـ جمعیتہ علمائے ہند کے بزرگ رہنما مولانا ارشد مدنی سنگھ کے سر سنچالک بھاگوت کو ملاقات کا شرف بخش چکے ہیں ـ تو ملاقات اور ڈائیلاگ کے دروازے بند نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ہر مسئلہ کا حل میز پر ہی نکلتا ہے ٫ اس سے بھی بہت پہلے ایمر جنسی کے فوری بعد آر ایس ایس اور جماعت اسلامی ہند کے مابین ملاقاتوں کا طویل دور چلا تھا جس نے پورے ملک کی توجہ حاصل کی تھی پھر یہ کھڑکی بند ہوگئی کیونکہ برف پگھل نہ سکی کوئی نتیجہ نہیں نکلا ـ
اب آر ایس شاید ائمہ سے گفتگو کے بعد یہ سلسلہ دراز کرنا چاہتی چنانچہ خبر ہے کہ اس کی ذیلی تنظیم مسلم راشٹریہ منچ نے مسلم میڈیا میں موجود اپنے دوستوں اور ہم خیال جرنلسٹوں کو چائے ہر مدعو گیا یہ میٹنگ آج یعنی 31جولائی کو تین بجے سہہ پہر سے پانچ بجے تک اسی مقام یعنی ہریانہ بھون میں رکھی گئی ہے ،حالیہ دنوں میں بی جے پی صدر نڈا نے بھی بعض اردو جرنلسٹوں اور یو ٹیوبروں سے ملاقات کی تھی ،ایسی بھی خبریں ہیں کہ نئے زمانے کے کئی جید اور فاضل اردو جرنلسٹ سنگھ کو قریب سے سمجھنے اور دیکھنے کے لیے ناگپور بھی جاچکے ہیں ـ حالانک اس کے قیمتی نتائج سے قارئین کو آگاہ نہیں کیا گیا
اس میٹنگ کو "سنواد سے سمادھان” کا نام دیا گیا ہے دعوت نامہ مسلم راشٹریہ منچ کے راشٹریہ میڈیا پربھاری شاہد سعید کی طرف سے بھیجا گیا ہے ـ اس میٹنگ کا بنیادی مقصد ‘آپسی سمجھ،خیر سگالی ،اور راشٹریہ ایکتا کو طاقتور’ بنانا ہے-مقصد نیک ہے اور ہندوستان کے موجودہ تناظر میں اس کی ضرورت بھی ہے ،خاص طور سے جرنلسٹوں کو کسی سے ملاقات اور ڈائیلاگ میں گریز نہیں کرنا چاہیے ،اگر آر ایس ایس کی ذیلی تنظیم اس کی ضرورت سمجھتی ہے تو میٹنگ میں جانا چاہیے اگر کوئی ریزرویشن ہے تو وہ سامنے رکھنا چاہیے ،بدقسمتی یہ ہے کہ اکثر میٹنگوں میں دیکھا گیا کہ مسلم جرنلسٹ خاص طور سے اردو والوں کے نزدیک سوائے سرکاری اشتہارات کے اور کوئی مسئلہ ہی نظر نہیں آتا ـ خواہ منموہن سنگھ سے ملاقات ہو یا کسی مرکزی وزیر سے ان کا پہلا اور آخری ایجنڈا اتنی مختصر داستان پر ختم ہو جاتا ہے ،اب تو سرکار نے مشکیں کس دی ہیں ،امید کی جانی چاہیے کہ اس اہم میٹنگ میں کچھ ٹھوس باتیں ہوں گی،مسلمانوں اور ملک کو درپیش چیلنجوں سے میٹنگ کا اہتمام کرنے والوں کو فاضل مدعوئین یقیناً بتائیں گے ،اپنا موقف مضبوطی سے رکھیں گے, اور شرکا اپنے ویورس، قارئین کو میٹنگ کے تاثرات و نتائج سے آگاہ کریں گے آخر کو وہ سماج کے وہسل بلوور اور ہمارے ٹارچ بئیرر ہیں ـ
آخر میں چلتے چلتے ایک نوٹ ـ اس ملاقات کو ‘مسلم میڈیا گروپ اور آر ایس ایس کے درمیان تاریخی مذاکرات’ کا نام دیا گیا ہے اور مقصد راشٹریہ ایکتا کو مضبوط کرنا ہے ـ تو سوال یہ ہے کہ اسے مسلم میڈیا گروپ کا نام کیوں دیا گیا ؟کیا دیگر ہندو میڈیا گروپ ہے؟ آپ نے ایک ہی جھٹکے میں مسلم میڈیا کو مین اسٹریم سے نکال کر الگ کٹہرے میں کھڑا کردیا ،ان کے جرنلسٹوں کو ایک خاص دائرے میں قید کردیا ،مسلم میڈیا نام ہی تفریق کی لکیر کو گہرا کرتا ہے یہی تو بنیادی شکایت ہے ،کیا منتظمین اور مدعو شرکا اس ہر غور کریں گے رہے نام اللہ کا ـ








