نئی دہلی : (ایجنسی)
اگرچہ دارالحکومت میں کورونا انفیکشن کے معاملے کنٹرول تعداد میں سامنے آرہے ہوں، لیکن اسپتالوںمیں ایک بار پھر حالات سنگین ہونے لگے ہیں۔ ان اسپتالوں میں بستر ہاؤس فل ہونا شروع ہوچکے ہیں، جس کی وجہ سے بستروں کا بحران پیدا ہونے لگا ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ ان اسپتالوں میں اب کورونا نہیں ،بلکہ ڈینگو ، پوسٹ کووڈاور نان کووڈ مسائل سےجڑے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔
میونسپل کارپوریشن کے مطابق رواں سال 9 اکتوبر تک ڈینگو کے 480 مریض رپورٹ ہوئے ہیں۔ گزشتہ ہفتے ہی ڈینگو کے کل 139 مریض پائے گئے۔ اس بار پچھلے دو سالوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ مریض ملےہیں، جبکہ اسپتالوںمیں حالات ایسے ہیں کہ ڈینگو کی وجہ سے بستر بھی بھرنے لگے ہیں۔ اکیلے میکس پٹپڑ گنج میں ہی حالات ایسے ہیں کہ یہاں تمام بیڈ فل ہیں ۔ بدھ دوپہر کو یہاں ایک بھی بستر حالی نہیں تھا۔ اسی طرح فورٹس ،اپولو اور میکس کے دیگر اسپتالوں میں ڈینگو کے مریض زیادہ ہیں۔ اس کے علاوہ ایمس ، صفدر جنگ ، لوک نائیک اور جے ٹی بی اسپتالوں میں بھی بستروں کو لے کر کافی جدوجہد دیکھنے کو مل رہی ہے ۔
ایمس کے ڈاکٹر وجے گوجر نے سوشل میڈیا پر وزیر اعظم نریندر مودی سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا دوست دہلی کے تمام اسپتالوں کاچکر لگا چکاہے لیکن اس کی ماں کو کہیں بھرتی نہیں کیا گیا وہ ایمس کے ایمرجنسی شعبہ میں بھی پہنچا، لیکن یہاں بھی بیڈ نہیں ملا، اس لئے اسپتالوں میں بیڈ بڑھائے جائیں ۔
اسپتالوں میں بستر بھرنے کے علاوہ ڈینگو کو لے کرپلیٹ لیٹس اور خون کی مانگ میں بھی نمایاں اضافہ درج کیا گیا جارہا ہے۔ کہیں 10 تو کہیں 15 ہزار روپے میں پلیٹ لیٹس بکی رہی ہیں۔ نئی دہلی واقع ڈاکٹر رام منوہر لوہیا ( آر ایم ایل ) اسپتال کے مطابق پلیٹ لیٹس کو لے کر مانگ کافی تیز ہوئی ہے، لیکن اسپتال نے ہر مریض کی مانگ کو پورا کرنا مشکل بتایا وہیں ایمس کے نرسنگ آفسر مکیش سنگھل نے بتایا کہ ڈینگو کی وجہ سے ان کے یہاں بھی پلیٹ لیٹس کی مانگ کافی آر ہی ہے ۔ کئی لوگ دوسرے اسپتالوں سے یہاں مانگ کررہے ہیں ۔
پنجابی باغ کی رہنے والی ساویتا ورما جب اپنی بچی کے ساتھ پانچ بڑے اسپتالوں کےچکر لگانے کے بعد جب دہلی ایمس پہنچیں، تو یہاں بھی انہیں صفدر جنگ اسپتال جانے کی مشورہ دی۔ صفدر جنگ اسپتال پہنچنے پر ان کی بچی کو ایمرجنسی میں بھرتی کر لیا لیکن دیر شام معلوم ہوا کہ بچی ڈینگو سے متاثر ہے ۔ اس کی پلیٹ لیٹس لگاتار گر کر نہ ہزار تک پہنچ گئی ہے ۔ جس کی وجہ سے بلیڈنگ روکنے کے لیے فوراً پلیٹ لیٹس چڑھانے کی ضرورت ہے ۔ ساویتا بتاتی ہیں کہ گزشتہ منگل کو کئی مقامات پر چکر لگانے کے بعدانہیں غازی آباد میں جاکر پلیٹ لیٹس ملیں، جس کے لیے انہیں 11 ہزار روپے کی ادائیگی کرنا پڑی۔ ساتھ ہی دو لوگوں سے خون کا عطیہ کروانا پڑا۔
مشرقی دہلی کے منڈاولی کا رہنے والا 32 سالہ انکور ایک غیر معمولی بیماری میں مبتلا ہے جسے اینکیلوزنگ اسپونڈیلائٹس کہتے ہیں۔ حال ہی میں سڑک حادثہ کے سبب ان کی بیماری پھر سے بڑھ گئی ہے ، جس کے لیے انہیں فوراً علاج کی ضرورت ہے۔ انکور بتاتے ہیں کہ گزشتہ ایک ہفتہ کےدوران وہ راجدھانی کے کئی اسپتالوںمیں رابطہ کرچکے ہیں لیکن تمام جگہ بیڈ فل ہیں۔ بدھ کو پٹپڑ گنج واقع میکس اسپتال میں بھی انہیں بیڈ خالی نہیں ملا ۔










