اردو
हिन्दी
مئی 3, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

اب تک 75: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے چونکانے والی رپورٹ

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ گراونڈ رپورٹ
A A
0
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے نام شاندار حصولیابی
247
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

برصغیر کے تاریخی تعلیمی ادارے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں کورونا وائرس کی وبا کے باعث گزشتہ صرف چند ہفتوں کے دوران اسٹاف کے درجنوں ارکان کا انتقال ہو چکا ہے۔ یونیورسٹی کی انتظامیہ صورت حال سے نمٹنے کی کوششیں کر رہی ہے۔
ڈی ڈبلیو میں جاوید اختر کی رپورٹ کے مطابق علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں حالیہ ہفتوں کے دوران کووڈ 19- کی وجہ سے تقریباً 75 افراد کی موت ہو چکی ہے، جن میں اساتذہ، سابق اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کے افراد سبھی شامل ہیں۔ یونیورسٹی اور اس کے کیمپس کے اطراف میں رہنے والوں کی اتنی بڑی تعداد میں اموات پر کئی طرح کے شبہات ظاہر کئے جا رہے ہیں۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی انتظامیہ اگرچہ اب تک ان اموات کی وجہ ’مختصر علالت‘ بتاتی رہی ہے تاہم پیر 10 مئی کو اس جامعہ نے پہلی مرتبہ باضابطہ طور پر تسلیم کیا کہ کووڈ19- کی وبا کی دوسری لہر کے دوران اس یونیورسٹی کے ’18 ’فیکلٹی ممبران‘ کا انتقال ہو چکا ہے۔
کووڈ19- کے باعث ہلاک ہونے والے اے ایم یو کے اسٹاف کے ارکان کی اموات کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ پریس بیانات میں جس طرح کے جملوں کا استعمال کیا جا رہا تھا، ان سے یہ تاثر پیدا ہو گیا تھا کہ جیسے یونیورسٹی انتظامیہ کورونا وائرس سے اتنی بڑی تعداد میں اموات پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہو۔ یہ شبہ اس لیے بھی پیدا ہو رہا تھا کہ سوشل میڈیا پر ایسے کم از کم 22 موجودہ اور 23 سابقہ فیکلٹی ممبران کے ناموں کی فہرست گردش کر رہی تھی، جو گزشتہ بیس دنوں کے دوران کووڈ19- کی وجہ سے چل بسے تھے۔ اسی یونیورسٹی کے غیر تدریسی عملے کے انتقال کر جانے والے 33 ارکان کے ناموں کی فہرست اس کے علاوہ ہے۔

یونیورسٹی کی طرف سے وضاحت

اے ایم یو کے جواہر لال نہرو میڈیکل کالج کے پرنسپل اور چیف میڈیکل سپرنٹنڈنٹ پروفیسر شاہد علی صدیقی نے پیر کو ایک وضاحتی بیان میں کہا کہ ذرائع ابلاغ کے ایک حصے اور سوشل میڈیا پر حالیہ دنوں میں ایسی غیر مصدقہ خبریں شائع ہوئی ہیں، جن میں اے ایم یو میں کووڈ- 19 کی وجہ سے ہونے والی افسوسناک اموات کی تعداد کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔
اس بیان کے مطابق، ملک میں کووڈ انیس کی دوسری لہر کے دوران یونیورسٹی کے 18 اساتذہ کی افسوس ناک موت واقع ہوئی، جن میں سے 15 اموات کووڈ 19- کے باعث اور تین اموات دماغی تپ دق اور جگر وغیرہ کے امراض سے ہوئیں۔ میڈکل کالج میں گیارہ اموات ہوئی ہیں، جب کہ تین اموات علی گڑھ کے پرائیویٹ اسپتالوں میں ہوئیں۔ اس کے علاوہ چار اساتذہ کا انتقال علی گڑھ سے باہر ہوا۔

شبہات برقرار

اے ایم یو نے تاہم غیر تدریسی عملے کی اموات کا کوئی ذ کر نہیں کیا۔ اے ایم یو نان ٹیچنگ اسٹاف کوآرڈی نیشن کمیٹی نے گزشتہ دنوں اپنے 17 ارکان کے نام اور تصویریں جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان تمام افراد کی اموات کووڈ 19- کی وجہ سے ہوئیں۔
دوسری طرف آج منگل کے روز متعدد اخبارات میں اے ایم یو کے موجودہ اور سابقہ کارکنوں میں سے 33 غیر تدریسی افراد کے ناموں کی ایک فہرست بھی شائع ہوئی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ ہلاکتیں بھی کورونا وائرس کی وجہ سے ہوئیں۔
اے ایم یو کے اسٹاف کے ایک رکن نے اپنا نام ظاہر نا کرنے کی شرط پر ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ہلاک شدگان کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ اسٹاف کے اس رکن کا کہنا تھا،’ یونیورسٹی صرف تدریسی عملے کی اموات پر پریس ریلیز جاری کرتی ہے۔ غیر تدریسی عملے اور یونیورسٹی کے دیگر ملازمین کی اموات کا کوئی ذکر ہی نہیں کرتا، اس لیے اموات کی اصل تعداد کا پتا لگانا بہت مشکل ہے۔‘
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ماضی میں وابستہ رہنے والے سماجی کارکن ڈاکٹر جسیم محمد کا کہنا تھا کہ اموات کی حقیقی تعداد بہت زیادہ ہو سکتی ہے لیکن یونیورسٹی انتظامیہ یہ اصل تعداد بتانا نہیں چاہتی۔ انہوں نے کہا، ’ہو سکتا ہے کہ اب تک سو سے زائد افراد کا انتقال ہو چکا ہو اور اگر حالات بہتر نا ہوئے تو اگلے ایک ماہ کے اندر اندر مزید ایک سو افراد کی جانین جا سکتی ہیں۔‘

ہلاکتوں پر گہری تشویش

یونیورسٹی کے وائس چانسلر طارق منصور کے بھائی کی بھی گزشتہ دنوں کووڈ 19- کے باعث موت ہو گئی تھی، جس کے بعد انہوں نے بھارت میں طبی سرگرمیوں پر نگاہ رکھنے والے ادارے انڈین کونسل فار میڈیکل ریسرچ کو ایک خط لکھ کر یہ پتا لگانے کی درخواست کی کہ آیا یونیورسٹی اور اس سے ملحقہ علاقے میں کورونا وائرس کی کوئی خاص تبدیل شدہ شکل تو نہیں پھیل چکی؟انہوں نے اپنے اس خط میں لکھا کہ یونیورسٹی کیمپس اور اس سے ملحقہ علاقوں میں رہائش پذیر افراد کا جتنی بڑی تعداد میں انتقال ہو رہا ہے، ’اس سے اس شبہ کو تقویت ملتی ہے کہ اس علاقے میں کورونا وائرس کی کوئی خاص شکل پھیل رہی ہے۔‘

الزامات کا تبادلہ

کووڈ 19- سے ہونے والی اموات میں سے تقریباً ساٹھ فیصد ہلاک شدگان کی عمریں پچاس برس سے زیادہ تھیں جب کہ باقی ماندہ چالیس فیصد کی عمریں تیس سے پچاس برس کے درمیان تھیں۔ ایک پروفیسر نے اپنا نام ظاہر نا کرنے کی شرط پر ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ یوں تو ہر روز کووڈ انیس کے باعث مرنے والے تقریبا سات آٹھ افراد کی تدفین عام سی بات ہے لیکن گزشتہ ہفتے صرف ایک دن میں ہی ایسی 29 میتیں دفن کی گئیں۔
اے ایم یو اسٹوڈنٹس یونین کے سابق صدر ماذن حسین خان کا کہنا تھاکہ گزشتہ دس دنوں میں میں تقریبا ً ستر تدفین میں شرکت کرچکا ہوں اور میری طرح دوسرے لوگ بھی ہوں گے جو اتنی زیادہ تدفین میں شریک ہوئے ہوں گے۔ اے ایم یو کیمپس کا قبرستان تقریبا ً بھر چکا ہے۔
اسٹوڈنٹس یونین کے ایک دوسرے سابق صدر فیض الحسن کا کہنا تھاکہجب ہم نے ان اموات کا ذکر سوشل میڈیا پر کیا، تو وائس چانسلر نے آئی سی ایم آر کو خط بھیج دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ اموات اس لیے ہوئیں کہ یونیورسٹی نے اپنے اساتذہ کو مرنے دیا۔
دریں اثناء بھارت کے ایک اور اہم تعلیمی ادارے، دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بھی اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کے ارکان کی کورونا وائرس کی وجہ سے بڑی تعداد میں اموات ہو چکی ہیں۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے تعلقات عامہ کے ذمہ دار اہلکار احمد عظیم نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ اب تک ایک درجن سے زیادہ افراد کووڈ 19 کی وجہ سے انتقال کر چکے ہیں۔ دیگر ذرائع کے مطابق اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

ہم متبادل ورلڈ آرڈر کے حق میں، ٹیرف متاثرین کے لیے سرکار ہر ضروری قدم اٹھائے: امیر جماعت
گراونڈ رپورٹ

ہم متبادل ورلڈ آرڈر کے حق میں، ٹیرف متاثرین کے لیے سرکار ہر ضروری قدم اٹھائے: امیر جماعت

06 ستمبر
سنبھل فساد کی تحقیقاتی رپورٹ میں ایسا کیا ہے کہ یوگی حکومت پر اٹھے سوال دبا دیئے گیے؟
گراونڈ رپورٹ

سنبھل فساد کی تحقیقاتی رپورٹ میں ایسا کیا ہے کہ یوگی حکومت پر اٹھے سوال دبا دیئے گیے؟

01 ستمبر
آسام:بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت وتشدد میں بےحد اضافہ:India Hate Lab نے نیا ڈیٹا جاری کیا
گراونڈ رپورٹ

آسام:بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت وتشدد میں بےحد اضافہ:India Hate Lab نے نیا ڈیٹا جاری کیا

03 اگست
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN