نئی دہلی :(گورو کی خاص رپورٹ)
الیکشن کمیشن نے کورونا وبا کے سائے میں ہونے والے اتر پردیش اسمبلی انتخابات کا اعلان ہوتے ہی ریلیوں اور روڈ شو پر پابندی لگا دی ہے۔ اس وجہ سے یہ الیکشن ڈیجیٹل الیکشن ہوگا۔ اس اعلان کے ساتھ جہاں کچھ سیاسی پارٹیوں نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے وہیں کچھ پارٹیاں بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی ہیں۔ دریں اثناء انتخابی ماہرین سیاسی پارٹیوں کے نفع و نقصان کا اندازہ لگانے میں مصروف ہیں کہ ڈیجیٹل مہم میں کس پارٹی کو باقی پارٹیوں سے زیادہ فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
درحقیقت، جیسے جیسے کورونا کے کیسز بڑھ رہے ہیں، سیاسی پارٹیں پر عوام تک پہنچنے اور ورچوئل طریقے سے مہم چلانے کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔ ان تیاریوں کے لیے تکنیکی مہارت کے ساتھ پارٹی وسائل بھی درکار ہوں گے۔ انتخابی ماہرین کا ماننا ہے کہ ایسی صورتحال میں بی جے پی انتخابی مہم کے معاملے میں دوسری سیاسی پارٹیوں پر برتری حاصل کر سکتی ہے اور اس کی کئی وجوہات ہیں۔ اتنا ہی نہیں الیکشن کمیشن کے اس اعلان کے فوراً بعد بی جے پی کا ڈیجیٹل شعبہ کافی سرگرم ہو گیا ہے۔
ٹائمز آف انڈیا نے بی جے پی کے ترجمان اور راجیہ سبھا ایم پی انل بلونی کے حوالے سے بتایاکہ بی جے پی کورونا کے پھیلنے کے بعد سے پچھلے دو سالوں سے ڈیجیٹل مہمات کی تیاری کر رہی تھی۔ بلونی نے کہا کہ نچلی سطح پر ہماری پارٹی کے کارکنوں کو جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے لوگوں تک پہنچنے کی تربیت دی گئی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ پارٹی کورونا کے رہنما اصولوں پر عمل کرے گی۔
بلونی نے یہ بھی بتایا کہ بوتھ لیول سمیت پارٹی کے تمام دفاتر میں ورچوئل مہم کے لیے تربیتی سیشن منعقد کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی حقیقت ہے کہ بی جے پی نے دیگر پارٹیوں کے مقابلے انتخابی مہم شروع کر دی ہے۔ اتر پردیش میں، پی ایم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، اتر پردیش کے سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ سمیت کئی بڑے لیڈر انتخابات کی تاریخ کے اعلان کے تقریباً ایک ماہ سے پہلے سے پورے یوپی میں ریلیاں اور دیگر پروگرام کر رہے ہیں۔
دوسری طرف، اپنی حالیہ جائزہ میٹنگوں میں بی جے پی نے پارٹی کی آئی ٹی ٹیم کو بھی تیار رہنے کو کہا ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بی جے پی نے ڈیجیٹل مہم کو کورونا کی پہلی لہر کے ساتھ تیار کیا تھا، جب کہ دوسری لہر میں اسے تیز کردیا گیا تھا۔ ہر ضلع میں بی جے پی کے دفاتر کے قیام کے ساتھ ساتھ اس میں آئی ٹی ڈپارٹمنٹ کا کمرہ بھی مختص کیا گیا تھا، جہاں پارٹی کے اپنے دفاتر نہیں تھے، وہاں تیاریاں شروع کر دی گئی تھیں۔
اس کے برعکس الیکشن کمیشن کے اعلان کے فوراً بعد سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے اس پر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ بی جے پی کے لوگ ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر قابض ہیں۔ اکھلیش نے کہا کہ جن کارکنوں کے پاس وسائل نہیں ہیں وہ ورچوئل ریلی کیسے نکالیں گے۔ جو چھوٹی پارٹیاں ہیں انہیں جگہ کیسے ملے گی؟
بتا دیں کہ اترپردیش، پنجاب، اتراکھنڈ، گوا اور منی پور میں اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے اومیکرون کے بڑھتے ہوئے خطرے، کورونا کے چیلنجوں کے درمیان پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے 10 فروری سے انتخابات کا اعلان کیا ہے ،الیکشن کی تاریخوں کے ساتھ ہی انتخابی ضابطہ اخلاق بھی نافذ ہوگیا ہے۔
(بشکریہ: ہندوستان )










