نئی دہلی: کانگریس کی سابق صدر اور پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی نے مودی حکومت پر ایک بار بھر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو مسئلہ فلسطین پر رہنمائی کر۔نے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے حکومت کے ردعمل کو "بہری خاموشی” قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ کہ مودی سرکار نے انسانیت اور اخلاقیات کو یکسر ترک کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کے اقدامات بنیادی طور پر وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کے اسرائیلی ہم منصب بنجامن نیتن یاہو کے بیچ ذاتی دوستی سے متاثر ہوتے ہیں، نہ کہ بھارت کی آئینی اقدار یا اس کے اسٹریٹجک مفادات کی بنیاد پر طے پاتے ہیں۔
معروف انگریزی روزنامہ دی ہندو اخبار میں شائع اپنے مضمون میں مسز گاندھی نے کہا کہ، "ذاتی سفارت کاری کا یہ انداز کبھی بھی قابل قبول نہیں رہا ہے اور نہ ہی یہ بھارت کی خارجہ پالیسی کی رہنمائی کر سکتا ہے۔ دنیا کے دیگر حصوں، خاص طور پر امریکہ میں ایسا کرنے کی کوششیں حالیہ مہینوں میں انتہائی شرمناک اور ذلت آمیز طریقے سے ناکام ہوئی ہیں۔”
قابل ذکر ہے کہ اسرائیل فلسطین تنازع پر سونیا گاندھی کا یہ تیسرا مضمون ہے، جو حالیہ دنوں میں میں شائع ہوا، جس میں انہوں نے اس معاملے پر مودی حکومت کے موقف پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔انہوں نے لکھا کہ عالمی سطح پر بھارت کا مقام کسی ایک فرد کی ذاتی مدح ثنائی تک محدود نہیں رہ سکتا اور نہ ہی اس کی تاریخی کامیابیوں پر انحصار کیا جا سکتا ہے۔ "بھارت کی دبی ہوئی آواز، مسئلہ فلسطین سے اس کی علیحدگی” کے عنوان سے اپنے مضمون میں انہوں نے کہا کہ اس کے لیے مستقل ہمت اور تاریخی تسلسل کے احساس کی ضرورت ہے۔سونیا گاندھی نے نشاندہی کی کہ فرانس، برطانیہ، کینیڈا، پرتگال اور آسٹریلیا کا مل کر فلسطینی ملک کو تسلیم کرنا، "مصائب کے شکار فلسطینی عوام کی جائز خواہشات کی تکمیل کی طرف پہلا قدم ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے 193 رکن ممالک میں سے 150 سے زیادہ اب تک فلسطین کو بطور آزاد ملک تسلیم کر چکے ہیں۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ بھارت اس معاملے میں ایک رہنما رہا ہے، جس نے فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (PLO) کی برسوں کی حمایت کے بعد 18 نومبر سنہ 1988 کو رسمی طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔
انہوں نے حوالہ دیا کہ کس طرح بھارت نے آزادی سے پہلے ہی جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کا مسئلہ اٹھایا اور الجزائر کی جنگ آزادی (سنہ 1954-62) کے دوران ہندوستان آزاد الجزائر کے لیے سب سے مضبوط آوازوں میں سے ایک تھا۔
مسزگاندھی نے زور دے کر کہا کہ بھارت کو مسئلہ فلسطین پر قیادت کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے، جو اب انصاف، شناخت، وقار اور انسانی حقوق کی لڑائی بن چکی ہے۔








