لکھنؤ : (ایجنسی)
اسمبلی انتخابات کی جنگ میں سماج وادی پارٹی و راشٹریہ لوک دل مل کر بی جے پی کو چیلنج کریں گے ۔ دونوں پارٹیوں کے درمیان اس انتخاب کے لیے اتحاد پر رضامند ی تقریباً ہو گئی ہے ۔ دونوں پارٹیوں کے سینئر لیڈر 21 نومبرکو لکھنؤ میں اس کا اعلان کر سکتے ہیں ۔ ایس پی سرپرست ملائم سنگھ یادو کے یوم پیدائش 22 نومبر سے ایک روز قبل اتحاد کااعلان کافی اہم مانا جا رہاہے ۔
ذرائع کے مطابق ایس پی اپنی حلیف آر ایل ڈی کو 32 سیٹیں دے سکتی ہے اور الیکشن کے عین موقع پر اس میں کچھ تعداد بڑھ بھی سکتی ہے ۔ یہی نہیں ضرورت پڑنے پر آر ایل ڈی سے ٹکٹ کے کچھ مضبوط دعویداروں کو سائیکل سیمبل پر الیکشن لڑا سکتی ہے ۔ مغربی یوپی میں اچھی خاصی عوامی مقبولیت رکھنے والے آر ا یل ڈی کو اب کسان تحریک کے سبب زیادہ فائدہ ملنے کی امید ہے ۔ اس لئے وہ ایس پی سے چالیس سے زیادہ سیٹیں مانگ رہی تھی۔ حال میں ایس پی سربراہ اکھلیش یادو نے دہلی میں آر ایل ڈی صدرجینت چودھری سے ملاقات کرکےسیٹیوں کولےکرتبادلہ خیال کیاتھا۔ کچھ سیٹوں پر کشمکش کی صورت حال ہے جس پر جلد رضامندی بن جائے گی۔ آرایل ڈی کے قومی جنر ل سکریٹری انل دوبے کا کہناہےکہ اتحاد کو لے کر دونوں پارٹیوں کے درمیان بات چیت آخری مراحل میں ہے۔ دونوں پارٹیوں کے لیڈروں کے بہت اچھے تعلقات ہیں اور وہ مل کر بی جے پی کو شکست دینا چاہتے ہیں۔ اتحاد کا اعلان جلد کیا جائے گا۔
شیو پال یادو کے ساتھ اتحاد کا اعلان جلد
ایس پی سربراہ اکھلیش یادو اپنے چچا اور پرگتی شیل سماج وادی پارٹی کے سربراہ شیوپال یادو سے اتحاد کرنے کی بات مانی ہے۔ انہوں نےہفتہ کو صحافیوں سے کہا کہ ان کے ساتھ اتحاد ہوگا اوران کاپورا احترام بھی ہوگا۔ مانا جا رہا ہے کہ ایس پی کانگریس کےذریعہ پرگتی شیل سماج وادی پارٹی اور آر ایل ڈی کو اپنےساتھ لانے کی کوششوں کےمدنظر چوکس ہوگئی اور ان کے ساتھ اتحاد کرنے میں تیزی دکھائی۔
ایس پی- آر ایل ڈی 2017 کے اسمبلی انتخابات سے ساتھ ہیں۔ دونوں نے 2019 کا لوک سبھا الیکشن بھی ساتھ لڑا تھا۔ اس دوران اسمبلی اور لوک سبھا کے ضمنی انتخابات ایک ساتھ لڑے ۔










