کابل:
طالبان نے ایک بار پھر سب کیلئے عام معافی کا اعلان کردیا ،کابل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ جنگ اور دشمنیاں ختم ،کوئی داخلی و بیرونی دشمن نہیں چاہتے۔
امریکی ترجمانو ں کو دیگر مخالفین کی طرح معافی کا اعلان کر تے ہیں،جو لوگ باہر گئے ہیں وہ بھی واپس آجائیں ، وہ نوجوان جو یہاں بڑے ہوئے ہیں، ہم نہیں چاہتے کہ وہ چھوڑ کر جائیں، نوجوان ہمارا اثاثہ ہیں۔
طالبان ترجمان نے ملک میں منشیات کی اسمگلنگ اور اسلحے پر مکمل پابندی کا بھی اعلان کیا ، انہوں نے کہا کہ افغانستان کے عوام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، آزادی افغان قوم کا حق تھا اور 20 سال بعد اسے حاصل کیا،افغانستان میں مضبوط اسلامی قومی حکومت تشکیل دیں گے۔
کابل کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنی پہلی پریس کانفرنس میں کہا کہ افغان سرزمین کسی کےخلاف استعمال نہیں ہوگی، سیاسی نظام بنےگا، قابل قبول اور جامع حکومت بنانے کے لیے مذاکرات جاری ہیں، تمام سیاسی جماعتوں کو نمائندگی دی جائے گی۔
پاکستان ،چین اور روس کیساتھ اچھے تعلقات ہیں مگر کسی کے اتحادی ہیں اور نہ کسی بلاک کا حصہ،اولین ترجیح اپنا ملک ہے،افغانستان کی معیشت روزگار میں بہتری لائیں گے ، پڑوسی ممالک سے عالمی معیار اور باہمی احترام کے تعلقات رکھیں گے۔
شرعی نظام کے تحت خواتین کے حقوق کا عہد کرتے ہیں، وہ شریعت اور افغان اقدار کے مطابق ہر شعبے میں ہمارے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کام کریں گی،خواتین کو تمام حقوق دیئے جائیں گے جو دین نے دئیے ہیں، یقین دلانا چاہتے ہیں کہ کوئی تفریق نہیں ہوگی۔
میڈیا کی تنقید برداشت کریں گے ، وہ تنقید کریں مگر ہمارے خلاف کام نہ کریں ، میڈیا شریعت اور اقدار کا تحفظ کرے، عالمی برادری کو یقین دلاتے ہیں افغان سرزمین دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں کرنے دیں گے ، دنیا ملک کی تعمیر نو میں مدد کرے ، غیر ملکیوں اور سفارتخانوں کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے۔
ملک میں سب کو مذہبی آزادی ہوگی،تمام سفارت خانو ں اور امدادی ایجنسیو ں کو مکمل تحفظ کا یقین دلا تے ہیں، تمام افغانو ں کے مذہبی عقائد اور روحانی اقدار کا احترام کرینگے، عالمی برادری کو ہمارے مذہبی اصولوں کا احترام کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ عالمی برادری منشیات کے خاتمے میں مدد کرے،کرپٹ حکمرانوں کے بھاگنے کے بعد لوگوں کی حفاظت کیلئے مجبوراً کابل میں داخل ہونا پڑا ، بدقسمتی سے گزشتہ حکومت نے امارات اسلامی کو بدنام کرنے کے لیے مختلف جگہوں پر ہمارے نام پر ڈکیتوں اور چوروں کو بھیجا جس کی وجہ سے طالبان کے جنگجووں کو کابل میں داخل ہونے کا حکم دیا گیا، پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ افغانستان منشیات سے پاک ملک بنے گا،ملک میں اگر کہیں منشیات ہے تو اسے ختم کردیں گے۔
انہوں نے کہا کہ کابل میں جگہ جگہ منشیات کے عادی نوجوانوں کو دیکھ کر دکھ ہوا، بین الاقوامی برادری اس کام میں ہماری مدد کرے، سنہ 2001 میں ہم نے منشیات کی پیداوار بند کر دی تھی، بعد میں حکومت کے اعلیٰ ترین عہدیدار تک اس میں ملوث ہو گئے مگر اب سے کوئی منشیات کی اسمگلنگ نہیں ہوگی۔
ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ’ہم یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ افغانستان اب مزید عرصہ میدانِ جنگ نہ رہے، بین الاقوامی برادری کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ کسی کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا،عالمی برادری کے ساتھ کسی قسم کے مسائل نہیں چاہتے۔
سب گواہ ہیں 20سال کی جدوجہد کے بعد افغانستان آزاد کرالیا، افغانستان کو آزاد کرانا صرف ہماری نہیں پوری افغان قوم کی فتح ہے، سخت مزاحمت کے بعد قابضین کو افغانستان سے نکالنے میں کامیاب ہو ئے،ہم نے 20سال جدوجہد کی ، اب افغانستان کو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔











