نئی دہلی : (ایجنسی)
طالبان نے پاکستان کو اپنا دوسرا گھر بتایا ہے ۔ طالبان کے ایک ترجمان نے گزشتہ روز کہا کہ طالبان کے لیے پاکستان دوسرے گھرجیسا ہے اور وہ پڑوسی ملک کے ساتھ تجارتی اورسفارتی تعلقات کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھارت کے ساتھ بھی اچھے تعلق کی وکالت کی لیکن ساتھ ہی بھارت کو ایک نصیحت بھی دی۔
آ ج تک کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی نیوز چینل اے آر وائی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے طالبان ترجمان مجاہد نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ افغانستان کی سرحدیں ملتی ہیں۔ جب مذہب کی بات آتی ہے تو ہم روایتی طور سے ایک دوسرے سےجڑے ہوئےہیں ۔ دونوں ممالک کے لوگ ایک – دوسرے میں آسانی سے گھلے ملےہوئےہیں ، اس لئے ہم پاکستان کے ساتھ اپنے رشتے کو اور مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔
مجاہد نے یہ بھی کہاکہ افغانستان پر طالبان کے کنٹرول میں پاکستان کا کوئی رول نہیں تھا ۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان نے کبھی بھی ان کےاندرونی معاملے میں مداخلت نہیں کی۔
بھارت کے ساتھ تعلقات کولے کر مجاہد نے کہاکہ بھارت اس علاقہ کا اہم حصہ ہے اور ہم بھارت سمیت تمام ممالک کے ساتھ اچھے رشتے قائم کرنا چاہتے ہیں ۔ ہماری بس یہ خواہش ہے کہ بھارت افغان لوگوں کے مفاد کے حساب سے ہی اپنی پالیسی طے کرے۔
مجاہد نے انٹرویو میں کہاکہ طالبان کسی بھی ملک کے خلاف افغانستان کی سرزمین کااستعمال نہیں ہونے دے گا۔بھارت اور پاکستان کے درمیان تناؤ پر مجاہد نے کہاکہ دونوں ممالک کو بیٹھ کر مسائل کا حل نکالنا چاہئے کیونکہ دونوں پڑوسی ملک ہیں اور دونوں کے مفاد ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں ۔ طالبان ترجمان نے کہاکہ کشمیر کو لے کر بھارت کو مثبت موقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔
انہوں نے کہاکہ ہم افغانستان میں ایسی حکومت چاہتے ہیں جو اسلام پر مبنی ہو اور مضبوط ہو ۔ اس سرکار میں تمام افغان حصہ ہوں گے ۔ ہم اس پر کام کررہے ہیں اور ایک مضبوط اور مستحکم سرکار بنانے کی سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں ۔








