لکھنؤ : (ایجنسی)
آئندہ سال اترپردیش میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ اس سے پہلے بھی تمام سیاسی پارٹیاں تیاریوں میں مصروف ہوگئی ہیں۔ اسی سلسلے میں بی جے پی نے تارکین وطن مزدوروں کو لے کر خاص پالیسی بنائی ہے ۔ اس کے مطابق ریاست سے باہر رہنے والے اترپردیش کے لوگوں کا ڈیٹا بیس بھی تیار کیا جا رہاہے ۔ بی جے پی کا ماننا ہے کہ اس انتخابات میں تارکین وطن مزدور اہم رول ادا کر سکتے ہیں ۔
مہاراشٹر، گجرات، کرناٹک، دہلی اور بنگال سمیت دیگر ریاستوں میں اترپردیش کے تقریباً 3 کروڑ لوگ رہتے ہیں۔ اسمبلی انتخابات سے پہلے بی جے پی ان لوگوں کو منانے میں مصروف عمل ہے ۔ بتایا جا رہاہے کہ ان لوگوں کو یوگی سرکارکے 5 سال کے فیصلوں کے بارے میں جانکاری دی جائے گی۔
گزشتہ دنوں مہاراشٹر کے اتربھارتیہ تنظیم کی انچارج شویتا شالینی نے لکھنؤ میں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ ، تنظیم وزیر سنیل بنسل اور صدر سوتنتر دیو سنگھ سے لکھنؤ میں ملاقات کی تھی۔ بتایا جا رہاہے کہ بی جے پی دیگر ریاستوں میں رہنے والے لوگوں کا ڈیٹا بیس تیار کررہی ہے ، تاکہ ان لوگوں تک آسانی سے پہنچ کر انہیں یوگی سرکار کے اچھے کاموں کی جانکاری دی جاسکے۔
اتنا ہی نہیں دیگر ریاستوں کے لوگ بھی اترپردیش میں یوگی سرکار کے کام کی تشہیر کرنے آئیں گے ۔ بتایا جا رہاہے کہ مہاراشٹر سے 50 ہزار لوگ یوپی آئیں گے ۔ یہ لوگ بی جے پی کے لئے انتخابی تشہیر کریں گے ۔
دوسری طرف بی جے پی نے ریاست کی خواتین کو لبھانے کے لیے ’ کپل میراتھن‘ اور ’کمل کلب ‘ جیسے نئے تجربے کرنے کی بھی پالیسی بنائی ہے۔ بتایا جا رہاہے کہ شہروں میں کپل میراتھن کاانعقاد کرکے خواتین کے ساتھ ان کے شوہر کو بھی مدعو کیاجائے گا۔ ساتھ ہی کٹی پارٹی جیسے خواتین کی حصہ داری والے پروگرام کپل میراتھن کے ساتھ پارٹی ، خواتین کو جوڑے گی ، حالانکہ کمل کلب کی جگہ اس کا نام کچھ اور ہو سکتاہے ۔ بلاک سطح پر بھی بی جے پی خواتین کے اعزاز میں تقریب کااہتمام کرے گی ۔











