نئی دہلی:(نامہ نگار)
ہندوستانی مسلمانوں کے سب سے معتبر، مؤقر، سنجیدہ اور اوروفاقی پلیٹ فارم آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے حالیہ کانپور اجلاس میں جہاں بہت سے اہم فیصلے ہوئے ان میں مختلف عہدوں پر انتخاب کے علاوہ بانی اور میقاتی ممبران کا بھی انتخاب عمل میں آیا۔مگر حیرت انگیز طور پر بورڈ کے نئے ترجمان کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کو جنرل سکریٹری بنائے جانے کے بعد اس بات کی توقع کی جارہی تھی کہ اجلاس میں ترجمان کی تقرری بھی ہوجائے گی۔
بہرحال اس بارے میں مولانا رحمانی نے ’’روزنامہ خبریں‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اتر پردیش کے ریاستی انتخابات کے بعد بورڈ کو نیا ترجمان مل جائے گا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ الیکشن کے بعد مجلس عاملہ کی میٹنگ ہوگی، جس میں اس تعلق سے فیصلہ ہونےکی پوری امید ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ وہ ذاتی طور پر اس کے حق میں ہیں کہ بورڈ کا نیا ترجمان بنایا جائے ۔یہ معلوم کرنے پر کہ کیا بورڈ کے صدر اس کے حق میں نہیں ؟انہوں نے کہا کہ نہیں نہیں ایسا ہرگز نہیں وہ بھی یہی چاہتے ہیں۔
انہوں نے یاد دلایا کہ بعض وجوہات کے سبب مولانا سجاد نعمانی ترجمان کے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے، اس کے بعد سے وہ یہ ذمہ داری بھی اٹھا رہے ہیں ۔ضرورت کے مطابق مختلف ایشوز پرمیڈیا میں بورڈ کا موقف بیان کرتے ہیں۔








