اردو
हिन्दी
مئی 22, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

کیلینڈر تو بدل جائے گا….

1 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ خبریں
A A
0
57
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر: ‏شعیب رضا فاطمی 
آج سے پھر ہم اکیسویں صدی کے ایک اور نئے سال کا ورد کرنا شروع کرینگے حتی کہ اس کے بارہ مہینے بھی گذر جائیں ۔روز و شب کا یہ چکر اور اس کی تبدیلی تو نظام قدرت ہے ،نہ تو ہمارا اس میں کوئی عمل دخل ہے اور نہ ہی ہماری مرضی ایسے میں یہ واویلا اور ہاؤ ہو چہ معنی دارد جو ہر برس ساری دنیا میں برپا کیا جاتا ہے ؟ بہر حال یہ سوال اپنے آپ میں ہی لا ینحل ہے کیونکہ ایسے بہت سارے کام انسانوں کی یہ آبادی ویسے ہی کرتی ہے تاکہ وہ اپنے زندہ ہونے کا ثبوت پیش کر سکے اور ترقی یافتہ اور تعلیم یافتہ ہونے کا بھی ۔لیکن پھر وہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ ہونے کی نمائش بھی اگر یوروپ اور امریکہ کے لوگ کریں تو بات سمجھ میں آتی بھی ہے ،لیکن جب ایشیا اور افریقہ کے لوگ بھی یوروپ اور امریکہ کے ساتھ کسی ایسے جشن میں شامل ہوں جس کا نہ تو ان کے سماجی روایت سے کوئی لینا دینا ہو ،نہ ہی مذہبی اور تہذیبی یکسانیت کا دور دور تک پتہ ہو ۔ٹھیک اسی طرح جیسے 25دسمبر کا ہمارے ملک میں اسی طرح منایا جانا جیسے حضرت عیسی مسیح یرو شلم میں نہیں بلکہ بھارت کے کسی حصہ میں پیدا ہوئے ہوں اور ملک میں غالب اکثریت عیسائیوں کی ہی ہو ۔جبکہ ایک نجی سروے کے مطابق ملک کے ستر فیصد لوگوں کو یہ بھی نہیں معلوم کہ 25دسمبر کیوں منایا جاتا ہے ۔
حیرت تو اس پر بھی ہے کہ آج بھی ملک کی بڑی آبادی ملک میں انگریزی حکومت کو غلامی کا دور کہتی ہے ۔لیکن دور غلامی کے آثار کو نہ صرف کلیجہ سے لگائے بیٹھی ہےبلکہ  اسے اپنی ثقافت کا حصہ سمجھتی ہے ۔نئے سال کے جشن کا بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے جسے اس شدت سے اس ملک میں منایا جاتا ہے جیسے وہ ملک کی اکثریتی آبادی کا نیا سال ہو ۔پتہ نہیں اس غلامانہ تقلید کی اصل وجہ کیا ہے،لیکن یہ بات تو سمجھ میں آتی ہی ہے کہ بظاہر روشن نظر آنے والی تہذیب سے مرعوب ہونا انسانی فطرت کا خاصہ ہے اور اس کی ایک بڑی وجہ اس روشن نظر آنے والی تہذیب کا پروپیگنڈہ بھی ہے جس کا ڈانڈہ صارفیت سے بھی جا ملتا ہے ۔بات صرف بیجا اصراف تک بھی ہو تو اسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے ،لیکن یہاں تو معاشرے کی نسل در نسل کا اپنی جڑوں سے کٹ جانے تک بات پہنچ چکی ہے ۔حالانکہ اس ملک میں ایک گروہ ایسے لوگوں کا بھی موجود ہے جن کے سامنے غلامی کی ایک الگ تعریف ہے جس میں انگریزوں کی غلامی کے ڈیڑھ سو سالہ دور کو حذف کر کے صرف مغلوں کی غلامی کو دور غلامی قرا دیا جاتا ہے اور اس دور کے تمام آثار کو صفحہ دہر سے مٹا دینے کی ایک باضابطہ مہم چلائی جارہی ہے اور اس میں نہایت شاطرانہ انداز میں مذہبی زاویہ کو بھی جوڑ دیا گیا ہے ۔اور اس مہم کو تہذیبی بیداری قرار دیا جا رہا ہے ۔کاش !اس مہم کے سخیلوں سے کوئی یہ پوچھے کہ مغلوں نے بھارت میں آ کر ہندو تہذیب کے کن پہلوؤں پر اپنے تہذیبی رنگ کو نمایاں کیا ؟کیونکہ تاریخ تو یہ بتاتی ہے کہ بابر (1526)سے بہادر شاہ (1857)تک جو سلسلہ بادشاہت جاری تھا اس میں ہندوؤں کے قبیح ترین رسم جس میں شوہر کی موت کے بعد اس کی بیوہ کو بھی زندہ آگ میں جلنا پڑتا تھا ،اس رسم کو بھی مغل حکمرانوں نے اسی طرح جاری رہنے دیا کیونکہ اس سے اکثریتی ہندو عوام کی دلازاری نہ ہو ۔ایسے حکمرانوں کو جو جب ہندوستان  آئے تو پھر ساڑھے تین سو سال تک اپنے آبائی وطن کو گھوم کر دیکھا تک نہیں اور مسلسل اس ملک کو ہی سجاتے سنوارتے ہوئے اسے دنیا کا سب سے متمول اور خوبصورت ملک بنا دیا ۔حتی کہ دنیا اسے سونے کی چڑیا قرار دینے لگی اور یہ شہرت اتنی ہوئی کہ بالآخر انگریزوں کی توجہ اس جانب مبذول ہوئی اور پھر کسی باز کی طرح انہوں نے اس سونے کی چڑیا کے ایک ایک پر کو نوچ کر انگلینڈ کے خزانے میں منتقل کر دیا ۔لیکن ان تمام حقائق کی حقیقی تاریخ سے واقفیت کے باوجود بھارت میں آج انگریزوں سے محبت کا رحجان ہے اور ان کی تقلید کرتے ہوئے نہ صرف ان کے خلاف کسی مہم کا کوئی نام و نشان ہے اور نہ ہی ان کے ذریعہ جاری کرسمس ڈے اور نئے سال سے مغائرت کا کوئی رحجان ۔بلکہ نفرت ہے تو صرف بھارت میں بسے مسلمانوں سے جنہیں مغلوں کا وارث قرار دیا جاتا ہے ۔
ملک میں بوالعجبی کی یہ ایک طویل داستان ہے جسے نہ آج کوئی سننے والا ہے نہ سنانے والا لیکن داستان تو موجود ہے ۔یہ الگ بات ہے کہ ہم نہایت تزک و احتشام کے ساتھ نئے  سال اور کرسمس ڈے کے جشن کو عقیدت و احترام کے ساتھ منائے جارہے ہیں ۔
کیلینڈر تو بدل جائے گا جب یہ سال بدلے گا
مگر کیا ایسی تبدیلی سے اپنا حال بدلےگا
وہی ہم ہونگے اور اپنے مسائل بھی وہی ہوں گے
شکاری خوش ہوا تو صرف اپنا جال بدلے گا

ٹیگ: 2025 yearHappy New yearnew year

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر
خبریں

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

22 اپریل
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے
خبریں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

21 اپریل
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ
خبریں

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

21 اپریل
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
گراؤنڈ رپورٹ : کیا جہانگیر پوری میں جن کے گھر ٹوٹے وہ روہنگیا ہیں؟

گراؤنڈ رپورٹ : کیا جہانگیر پوری میں جن کے گھر ٹوٹے وہ روہنگیا ہیں؟

اپریل 28, 2022
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN