نئی دہلی: (ایجنسی)
مرکز نظام الدین اور تبلیغی جماعت کے خلاف میڈیا میں چلائی گئی خبروں کے تعلق سے عرضی پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ میڈیا کے ایک گروہ کی خبریں منافرت سے پر تھیں اور اس سب پر لگام لگنی چاہئے۔ جمعیۃ علما ہند، پیس پارٹی وغیرہ کی عرضی پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا کہ تبلیغی جماعت کے خلاف فرضی خبریں چلائی گئیں اور اس سے ملک کی شبیہ داغدار ہوتی ہے۔
سپریم کورٹ نے جمعرات کو ایک اہم مشاہدے میں کہاکہ میڈیا کے ایک طبقے کی خبروں میں فرقہ وارانہ لہجہ جھلکتی ہے اور اس سے ملک کانام خراب ہوسکتا ہے۔ عدالت نے ایک عرضی پر سماعت کے دوران یہ مشاہدہ کیا۔ عرضی میں کہا گیا تھا کہ تبلیغی جماعت کے لوگوں کو کورونا پھیلانے کو لے کر بدنام کیا گیا ۔ درخواست میں مانگ کی گئی تھی کہ تبلیغی جماعت کو لے کر چلائی گئی خبروں کو فرقہ وارانہ انداز میں دکھانے والوں پر کارروائی کی جائے ۔
بتادیں کہ تبلیغی جماعت کےدہلی واقع مرکز میں ہوئی کانفرنس اور اس کے بعد کورونا کے پھیلنے سے جڑی خبریں کچھ ٹی وی چینلوں اور اخبارات میں شائع کی گئی تھیں۔
چیف جسٹس این وی رمن نے کہا ، ’’دقت یہ ہے کہ اس ملک میں میڈیا کے ایک طبقہ کے ذریعہ سب کچھ فرقہ وارانہ اینگل سے دکھایا جاتا ہے ۔ اس سے آخر میں ملک کا ہی نام بدنام ہو گا۔‘‘ سپریم کورٹ نے اس دوران ویب پورٹل کی بھی تنقید کی ۔
عدالت نے کہاکہ ’’یہ ہمارا تجربہ ہے کہ ویب پورٹلس صرف طاقتور آوازوں کو ہی سنتے ہیں اور ججوں ، اداروں کے خلاف بغیر کسی ذمہ داری کے کچھ بھی لکھ دیتے ہیں ۔ ویب پورٹل طاقتور یا بااثر لوگوں کی فکر کرتے ہیں نہ کہ ججوں، اداروں اورعام لوگوں کی۔‘‘
بار اینڈ بنچ کے مطابق ، سی جے آئی نے کچھ ویب پورٹلس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعہ پھیلائی جانے والی فیک نیوز کو لے کر بھی فکرظاہر کی۔ عدالت نے یہ بھی کہاکہ بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارم جیسے ، یوٹیوب ، فیس بک اور ٹوئٹر تو ججوں کی بھی باتوں کا جواب نہیں دیتے۔
چیف جسٹس آف انڈیا نے کہا کہ اگر آپ یوٹیوب پر جائیں گے تو آپ دیکھیں گے کہ وہاں کتنی جعلی خبریں ہیں۔ مرکزی سرکار کی جانب سے پیش ہوئے سالیسٹر جنرل آف انڈیا تشار مہتا نے کہاکہ نئے آئی ٹی قوانین کے ذریعہ سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔
سپریم کورٹ نے گزشتہ سال تبلیغی جماعت سے جڑی میڈیا رپورٹنگ کو لے کر مرکزی حکومت کے رویہ پر اسے پھٹکار لگائی تھی ۔ حضر ت نظام الدین مرکز میں ہوئی کانفرنس میں تقریباً 9000 لوگوں نے شرکت کی تھی اور ملک وبیرون ملک سے آئے لوگ شامل ہوئے تھے ۔ بڑی تعداد میں آئے ہندوستانی واپس اپنی ریاستوںمیں بھی چلے گئے تھے لیکن لاک ڈاؤن کی وجہ سے بیرون ملک سے آنے والے لوگ مرکز میںہی پھنسے رہ گئے تھے ۔
ہائی کورٹ کے فیصلے
گزشتہ سال اگست میں بمبئی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بنچ نے کہا تھا کہ تبلیغی جماعت کے پروگرام میں شامل بیرون ملک سے آئے لوگوں کو قربانی کا بکرا بنایا گیا ۔ عدالت نے اس حوالے سے میڈیا کے پروپیگنڈے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور بیرون ملک سے آئے جماعت کے لوگوں پر درج ایف آئی آر کو رد کردیا تھا ۔
پچھلے سال جون میں ، مدراس ہائی کورٹ نے تبلیغی جماعت سے وابستہ غیر ملکیوں کے خلاف درج ایف آئی آر کو یہ کہتے ہوئے منسوخ کر دیا تھا کہ انہیں بہت کچھ برداشت کرنا پڑا ہے ۔









