نئی دہلی:(پریس ریلیز)
ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے قومی صدر ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے وزیر اعظم شری نریندر مودی کے نام ایک کھلا خط لکھ کر مطالبہ کیا کہ ہر سال 14 اگست کو ’’ تقسیم ہند کی ہولناک یادوں کی یاد‘‘ کے دن کے طور پر منانے کے اپنے فیصلہ کو وہ واپس لے لیں۔ اپنے کھلے خط میں ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے قومی صدر نے کہا محترم وزیراعظم آپ کے اس فیصلہ سے ہمیں سخت اذیت اور تکلیف پہنچی ہے۔ یہ ہماری اجتماعی بد قسمتی ہے کہ 14 اور 15 اگست کی درمیانی شب میں بر صغیر کی تقسیم نے ایک ایسی ہولناک خونی تاریخ رقم کی جس نے دونوں ہی طرف انسانی لاشوں کے ڈھیر لگا دیے۔ایک طرف ہندو اور سکھ تھے تو دوسری طرف مسلمان۔ ایک ایسا خوفناک نسلی تشدد بر پا ہوا جس نے نہ صرف لاکھوں معصوم اور بے گناہ انسانوں کی نسل کشی کی بلکہ دونوں طرف کے لاکھوں افراد کو بے خانماں اور مہاجرت پر مجبور کر دیا ۔
یہ ایک ناقابل تلافی نقصان ہے اسے کس طر ح یادگار کے بطور منایا جا سکتا ہے، بلکہ ہمارا شدید احساس ہے کہ اس طرح ہم صرف پرانے زخموں کو ہی تازہ اور پرانے شعلوں کو بھڑکانے کا سبب بنیں گے۔ نتیجتاََ ہم 75 سال قبل ہو ئے مجرمانہ واقعات کی یاد تازہ کر کے سماج میں نفرت پھیلانے اور بانٹنے کے علاوہ اور کیا حاصل کر سکیں گے۔
پھر اس کے لیے 14 اگست کی تاریخ کا انتخاب جو کہ پاکستان کا یوم آزادی ہے ایک برا انگیختہ اور اشتعال دلانے والا فیصلہ ہے جس سے صرف پڑوس ملک کے ساتھ ہمارے تعلقات ہی خراب ہوسکتے ہیں۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ملک کی تقسیم کے لیے دونوں ہی ملکوں کے اس وقت کے سیاسی رہنما ذمہ دار تھے جو تشدد اور ظلم ہو ا اس میں بھی دونوں ہی طرف کے لوگ اور طبقات ملوث تھے۔ تقسیم کے لیے ہورر(Horror) لفظ کا استعمال بھی ان تمام اچھی اور قابل قدر کوششوں پر پانی پھیر دیتا ہے جو دونوں طرف کے لوگوں نے اپنی جان پر کھیل کر دوسرے عقیدے اور مذہب کے لیے اپنے بھائیوں کو بچانے کے لیے کیں تھیں۔یہی خوشگوار واقعات ہیں جو انسانیت میں ہمارے یقین کو برقرار رکھتے ہیں۔
اس حرکت سے پرانے ز خم مندمل تو نہیںہوں گے البتہ اختلاف مزیدبٹرھ جائیں گے۔ لہذا میری آپ سے مودبانہ گزارش ہے کہ 14 اگست کو تقسیم ہند کی ہولنا ک یاد وں کے دن کے بطور منانے کے اپنے فیصلہ کو آپ واپس لے لیں۔ تقسیم ہند کا یہ تباہ کن اور قیامت خیز دن صرف ہماری خونین داستان اور وراثت کا ایک دردناک باب ہے جسے بھلا دینا ہی بہتر ہے۔









