دوحہ (ایجنسی)
طالبان اور امریکہ کے درمیان فروری 2020ء میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے معاہدے میں امریکہ پہلے ہی اتفاق کر چکا ہے کہ افغانستان میں اسلامی حکومت ہوگی جس کے امریکا اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ مثبت تعلقات ہوں گے۔
اسی معاہدے کے تحت، امریکا نے وعدہ کیا ہے کہ وہ افغانستان کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گا۔ کھل کر جو پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے اس کے برعکس، معاہدے میں مستقبل کے افغانستان میں حقوق انسانی کی کوئی بات تھی اور نہ خواتین کے حقوق کے حوالے سے کوئی ذکر۔
تاہم، معاہدے کے تحت طالبان اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ وہ کسی بھی شخص یا گروپ کو افغانستان کی سرزمین امریکا اور اس کے اتحادیوں کیخلاف استعمال ہونے نہیں دیں گے۔
امریکہ نے بھی اتفاق کیا تھا کہ وہ اور اس کے اتحادی افغانستان کیلئے خطرہ بننے سے گریز کریں گے اور اس کی علاقائی ساکھ یا اس کی سیاسی آزادی کیخلاف طاقت استعمال کریں گے اور نہ ہی اس کے داخلی امُور میں مداخلت کریں گے۔
اگر دونوں فریق دوحہ معاہدے کے تحت اپنے وعدوں پر قائم رہے، جو اب تک نظر بھی آ رہا ہے، تو امریکا نہ صرف افغانستان کی اسلامی حکومت کو تسلیم کرے گا بلکہ افغانستان کی تعمیر نو میں اس کی مدد بھی کرے گا۔ معاہدے کو طالبان کی فتح اور امریکا کی شکست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ معاہدے کے حصہ اول میں امریکا نے وعدہ کیا تھا کہ وہ افغانستان سے اپنی افواج نکال لے گا ۔
دوسرا حصہ طالبان کے وعدوں کے متعلق ہے کہ افراد، گروپس بشمول القاعدہ کو افغانستان کی سرزمین امریکا یا اس کے اتحادیوں کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کیلئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
تیسرے حصے میں کہا گیا ہے کہ امریکا اور طالبان مثبت تعلقات قائم کریں گے اور توقع ظاہر کی گئی ہے کہ دونوں کے درمیان تعلقات کا تعین انٹرا افغان ڈائیلاگ کے تناظر میں قائم کیے جائیں گے جو مثبت ہوں گے۔ اسی حصے میں کہا گیا ہے کہ امریکا افغانستان کی اسلامی حکومت کے قیام کے بعد تعمیر نو میں تعاون کرے گا اور افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گا۔
کابل حکومت کے اچانک تحلیل ہو جانے اور افغان صدر اشرف غنی کے بھاگ جانے کے بعد طالبان نے ملک کا کنٹرول سنبھال لیا اور اب انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ سب کو ملا کر ساتھ چلیں گے اور حکومت بنائیں گے۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ طالبان کے علاوہ اور کون سے سیاسی گروپس نئی حکومت کا حصہ ہوں گے لیکن طالبان نے یہ واضح کر دیا ہے کہ نئی حکومت اسلامی ہوگی۔
ممکن ہے کہ کئی لوگ یہ چاہتے ہوں گے کہ نئی حکومت سیکولر خیالات کی پاسداری کرے اور انسانی اور حقوق نسواں کیلئے مغربی معیارات پر عمل کرے لیکن امریکا نے دوحہ معاہدے میں پہلے ہی اسلامی حکومت کے قیام پر اتفاق کر لیا ہے اور اس معاہدے میں کہیں بھی انسانی حقوق یا پھر حقوق نسواں کا کوئی ذکر نہیں۔ اس کی بجائے، امریکا پرعزم ہے کہ وہ افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گا۔











