اردو
हिन्दी
مئی 9, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

بین مذاہب احترام کا رشتہ اچانک ختم نہیں ہوا

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
بین مذاہب احترام کا رشتہ اچانک ختم نہیں ہوا
73
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:عبد السلام عاصم

دو آدمی لڑ رہے ہوں تو انہیں الگ کرنے کیلئے جسمانی مداخلت کرنے والا خود بھی زخمی ہو سکتا ہے۔ اگر دونوں کے تھکنے کا انتظار کیا جائے تو اُن میں سے کوئی زندگی ہار سکتا ہے۔ نصیحت دونوں میں سے کوئی سُننے کو تیار نہیں۔ اختلاف کی نوعیت ایسی ہے جس کی علمی تفہیم نہیں کی جا سکتی۔ بدقسمتی سے وطن عزیز کو اجتماعی طور پرکچھ اسی طرح کے حالات کا سامنا ہے، جسے راتوں رات کسی طور نہیں بدلا جا سکتا۔ زیادتی، مذمت، احتجاج اور ازالے کا کورس پورا ہوتے ہوتے پہلے جہاں صدیاں گزرتی تھیں، وہیں اب زمانے کی رفتار میں تیزی آ جانے سے تھوڑا کم وقت لگتا ہے، پھر بھی بے قابو حالات کی شدت پر قابو پانے میں دہائیاں لگ سکتی ہیں۔ ممکن ہے کہ ہم سبھی ایسی کسی تبدلی کے ناظر نہ ہوں لیکن یہ ضرور طے ہے کہ ہر عہد کی تاریکی رات بھر کی ہی مہمان ہوتی ہے۔

عمل اور ردِّعمل تک محدود معمول کی زندگی میں خلل کی ساری سرگرمیاں اور ذرائع ابلاغ میں اُنہی کی گونج نے صورت حال کو کچھ زیادہ ہی پیچیدہ بنا دیا ہے۔ بے لاگ مشاہدے اور غور و فکر سے کام لیا جائے تو سب سے پہلے ہمیں اس نتیجے پر ہی پہنچنا ہوگا کہ بین مذاہب احترام کا رشتہ آج اچانک ختم نہیں ہوا۔ اس حوالے سے ہرعہد کا دامن داغ دار ہے۔ ہم چونکہ موجودہ عہد کے گواہ ہیں اس لئے سب کچھ عجیب سا لگ رہا ہے۔

پچھلے ہفتے کلکتے میں اردو صحافت کے دو سو برس کی تکمیل کا مغربی بنگال اردو اکیڈمی کی طرف سے جشن منایا گیا۔ اس تقریب کے قومی شرکاء مقامی احباب اور بعض بزرگوں سے تقریباً ہر ملاقات میں بات چیت کا محور یہی تھا کہ ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو کس کی نظر نہیں لگ گئی ہے! سنجیدہ بات چیت میں سبھی اس بات سے متفق تھے کہ یہ نظر کسی اور کی نہیں،ہم مختلف مذہبی شناخت رکھنے والوں کی ہی نظر ہے۔ ہم متحدہ اور پھر منقسم ہندوستان کی بالترتیب سابقہ اور جاری دونوں صدیوں میں بین مذاہب مشترکات سے وہ فائدہ نہیں اٹھا پائے جو زندگی کی بقا کے حق میں ناگزیر آج بھی ہیں۔ نفرت سے بیزاری اور بقائے باہم کے حق میں بیداری کیلئے صلیبی جنگ سے ناقص فتوحات والی بعض دوسری جنگوں تک بے ہنگم نقصانات کی ایک سے زیادہ ایسی مثالیں ہمارے سامنے موجود تھیں، باوجودیکہ ہم بیدار نہیں ہوئے اور مذاہب کی کمان مکافاتِ عمل سے غافل رہنے اور تعمیر کے کسی متبادل منصوبے کے بغیر ردِّتشکیل سے کام لینے والوں کو سونپ کر دوسرے کاموں میں مصروف ہو گئے۔ اس لحاظ سے دونوں طرف خاطی ہم ہی ہیں۔ نیزہم میں ہی کالم کے کالم سیاہ کرنے والوں کا وہ حلقہ بھی ہے جو ناعاقبت اندیشوں سے اٹا پڑا ہے۔ ایسا نہ ہوتا تو آج میڈیا کی سماجی ذمہ داری کا شعبہ ویران نظر نہیں آتا، جہاں نہ کوئی مدرس ہے نہ طالب علم۔

ایسا نہیں کہ بر صغیر کا معاشرہ درسِ علم سے پوری طرح محروم رہا۔ البتہ اس پر شاید کبھی منظم طور پر غور نہیں کیا گیا کہ انسانی زندگی، زندگی کے دنیاوی تقاضوں اور اُلُوہی مقصد کو سمجھنے کیلئے علم الانسان مالم یعلم سے شروع ہونے والے تعلیمی سفر میں تفہیم کا وہ خلا کب اور کیسے پیدا ہو جاتا ہے کہ ہمیں لا اکراہ فی الدین اور لکم دینکم ولی الدین کے حوالے سے حالات پر قابو پانے کی مدافعانہ ضرورت آن پڑتی ہے۔ یہ مسئلہ دونوں طرف ہے۔ اُدھربھی واسودھیو کٹمبکم کی روایت کے مطابق مرکزی سدّھانت یہ ہے تمام وجود وحدانیت اور اتحاد پر محیط ہے اورہمہ گیر قادر مطلق ہر فرد میں مجسم ہے۔ پیرانِ دیر و حرم سے بصد احترام پوچھا جانا چاہئے کہ بین ادیان اِس فکری ہم آہنگی کے باوجو نفرت آگیں فرق کیسے پڑجاتا ہے اور وہ بھی اس قدر کہ اللہ کی پناہ۔

آنحضور ﷺاور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے تعلق سے ایک بے ہنگم تکرار کا سلسلہ بھی ان دنوں بین فرقہ دراز ہے۔ اِسے نہ تو علمی بحث کا نام دیا جا سکتا ہے نہ ہی کسی ایسی تنقیدی جستجو کاجس سے معاملات کی تفہیم کے رُخ پرصحت مند استفادہ کیا جا سکے۔ اس بحث میں سب ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش میں خود نیچے اترتے چلے جا رہے ہیں۔ سارا معاملہ مفسدانہ جارحیت اورعاجلانہ مدافعت تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ اس تکلیف دہ سیریز سے نجات کی راہ ڈھونڈنے والے بھی میدان عمل میں موجود ہیں لیکن حالات کسی طور اُن کے قابو میں نہیں آ رہے ہیں۔ اس بیچ دہلی کی ایک وکیلہ نبیلہ جمیل نے مذہب اور قانون کے حوالے سے یہ سمجھانے کی مربوط کوشش کی ہے کہ حضرت عائشہ رض کی عمر سے متعلق بحث غیر مرتبط ہے۔ مصنفہ نے بڑی اچھی بحث کی ہے۔ معاملے کو بہت ہی مربوط اور جامع انداز میں آگے بڑھایا ہے، لیکن ہمارا معاشرہ جو انتقامی نفرت کا اِنتہائی شدت سے نشانہ بنا ہوا ہے کہ وہ ایسی کسی قابل فہم بات کو سمجھنے سے شاید محروم ہو کر رہ گیاہے جو مصنفہ نے کی ہیں۔ جہاں تک حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی شادی کی عمر اور دوسرے متعلقہ مراحل سے گزرنے کی بابت احادیث کا تعلق ہے، مصنفہ نے اُس پر جوابِ آں غزل سے کام لینے کے بجائے تاریخی شواہد اور تہذیبی ارتقا کا احاطہ کرتے ہوئے یہ سمجھانے کی صراحت کے ساتھ کوشش کی ہے کہ آحضور ﷺ کا زمانہ توساتویں صدی کا زمانہ تھا جبکہ ہمارے یہاں سابقہ صدی کی پہلی چوتھائی تک بیشتر گھروں میں دلہنیں اتنی ہی کمسن ہوا کرتی تھیں۔ ہمارے یہاں 1949 میں لڑکیوں کی شادی کی عمر بڑھا کر پندرہ کی گئی پھر 1978 میں اسے اٹھارہ کیا گیا۔ اسے اٹھارہ سے بڑھا کر اکیس ابھی حال میں کیا گیا ہے۔ اس وضاحت کے ساتھ ایک غیر ضروری بحث اب بھی ختم کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ دونوں طرف کے ماننے اور منوانے والے علم اور عقائد کے درمیان صحت مند توازن قائم کرنے کی کوشش کریں۔

پچھلے دنوں ایک بحث میں ایک صاحب نے یہ سوال اٹھایا کہ فلاں فلاں ملی رہنماوں نے صاحبِ استطاعت ہونے کے باوجود حج و عمرہ کی سعادت کیوں نہیں حاصل کی! شامل بحث کچھ لوگوں نے جہاں اسے غیر ضروری سوال گردانا اور کچھ نے حیرت اور دوسری توضیحات کا سہارا لیا وہیں ایک نوجوان نے اِس اظہار خیال کے ساتھ بحث کو کسی تلخ اختلاف کے بغیر تقریباً ختم کر دیا کہ اول تو یہ قطعی ذاتی سوال ہے جس کا جواب متعلقین کو خود دینا ہے۔دوئم ہر عہد اپنے ساتھ ایک غیر معلنہ فیشن لاتا ہے۔ خوشحال مڈل کلاس کا ابھر کر سامنے آنا چند دہائیوں کا ہی منظر نامہ ہے جس کے لئے سیر و تفریح کے مذہبی اور غیر مذہبی دونوں دروازے بڑے پیمانے پر وا کئے گئے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اسٹوڈنٹس لون اور ای ایم ائی (ماہانہ اقساط) کے ساتھ غیر ملکی علمی سفر کا سلسلہ شروع نہ ہوتا اور استطاعت سے مشروط مذہبی زیارتوں کا دائرہ تجارتی لحاظ سے وسیع کرنے کیلئے سرکاری اور غیر سرکاری سبسڈی کے علاوہ اشتہاری کاروبار کا سلسلہ دراز نہیں ہوتا۔ علاوہ ازیں حکومت یا کسی ادارے کی سربراہی سنبھالتے ہی عمرہ اور حج کرنا بھی بالکل نئی روایت ہے۔ پہلے زمانے میں ا ربابِ اختیار اور معاشرتی ذمہ دار ایسے کاموں کو ذاتی فرصت پر ٹال کر اپنے اجتماعی فریضے سے دلچسپی کو اولین ترجیح دیا کرتے تھے۔

وقت کا تقا ضہ ہے کہ ہم ایسی تمام باتوں کوجن کے ذمہ دار ہم نہیں یا محشر میں وہ ہمارے اعمال نامے کا حصہ نہیں ہوں گے، خدا پر اٹھا رکھیں، جو منصف اعلیٰ ہے۔ بہ الفاظ دیگر اس تفہیم کا دائرہ وسیع کریں کہ اپنے ذاتی اعمال کے لئے ہم صرف خدا کے سامنے جوابدہ ہیں۔ البتہ اجتماعی زندگی میں ہم ایک دوسرے کیلئے کتنے مفید اور مُضر ہیں اس کی بالترتیب ستائش اور قانونی گرفت ہونی چاہئے تاکہ ذہنی ارتقاء کا سفر نئی نسل کے لئے اندیشوں سے زیادہ امکانات کے در وا کرے۔ اقوام عالم کو جس روز اس تقاضے کا عملی ادراک ہو جائے گا، عجب نہیں کہ اسی دن کائنات کی تخلیق کا اُلوہی مقصد پورا ہو جائے۔واللہ علیم بذات الصدور

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN