احمد آباد : (ایجنسی)
بی جے پی کے زیر اقتدار گجرات میں بھلے ہی انتخابات آئندہ سال ہونے ہوں، مگر سی ایم وجے روپانی ن تقریباً سوا سال پہل ہفتہ ( 11 ستمبر 2021) کو اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا،حالانکہ ان کی دواعی کا شک پہلے ہی ایک صحافی نے ظاہر کیا تھا ۔ انہوں نے کہاتھا کہ روپانی کو جانا پڑ سکتا ہے ۔ یہ بات ایک مضمون کے ذریعہ انہوں نے کہی تھی۔ مگر اس کے سبب انکے خلاف بغاوت کا کیس ہو گیا تھا اور 14 دن عدالتی حراست میں رہنا پڑا تھا۔ بعد میں آرٹیکل ہٹانے اور معافی مانگنے کے بعد انہیں رہا ئی مل گئی تھی ۔
جن ستہ کی رپورٹ کی مطابق یہ بات مئی 2020 کے آس پاس کی ہے۔ملک میں تب کورونا وائرس کی پہلی لہر تھی۔ اس درمیان گجراتی نیوز ویب پورٹل ’’ فیس آف نیشن ‘‘ کے ایڈیٹردھول پٹیل نے ریاست میں ممکنہ تبدیلی کی بات کرتے ہوئے ایک مضمون لکھا تھا۔ نتیجتاً پٹیل پر بغاوت کا الزام لگایاگیا اور ضمانت ملنے سے پہلے انہوں نے 14 دن عدالتی حراست میں گزارے۔ ایف آئی آر رد ہونے کے بعد بھارت سے باہر چلے گئے پٹیل نے ہفتہ کو روپانی کے استعفیٰ کو ان کی رپورٹ کی ’تصدیق ‘ قرار دیا۔
مضمون پوسٹ کرنے کے بعد ہٹا دیا گیا تھا ، جبکہ ایف آئی آر کو گزشتہ سال نومبر میں رد کرگئی تھی۔ پٹیل نے تب گجرات ہائی کورٹ میں ’’ بغیر شرط معافی‘‘ پیش کی تھی۔ ایک پولیس سب انسپکٹر کےذریعہ درج کی گئی ایف آئی آر رد کرتے ہوئے کورٹ نے پٹیل کو آگاہ کیا تھا کہ ’’ وہ جب بھی مستقبل میں کوئی مضمون شائع کریں گے ، تو بغیر تصدیق کے کسی بھی آئینی عہدیدار کے خلاف ایسے تبصرے کااستعمال نہیں کئے جائیں گے اور وہ اسے (روپانی پر تبصرہ) دوہرانے سے محتاط رہیں گے
۔
پٹیل نے ہفتہ کو بتایا کہ وہ دسمبر 2020 میں بیرون ملک چلے گئے تھے۔ اپنی غیرمشروط معافی کے بارے میں انہوںنے کہاکہ ’ یہ صاف تھا کہ ریاست معاملہ کو کھینچنا چاہتی تھی اور میں ایسا نہیں چاہتا تھا۔ میرے کریئر کو متاثر کرنے والا تھا، اس لئے سرکاری وکیل نے تجویز پیش کی کہ میں معافی مانگ لوں اور میں ملک چھوڑ کر چلا گیا۔‘
اپنی ایک اسٹوری پر پٹیل نے کہا کہ ’’ میں نے قابل اعتماد ذرائع سے تصدیق اور اسی کے کراس ویریفیکیشن ( بار – بارتصدیق) کی بنیاد پر رپورٹ کی۔ بغاوت کا معاملہ بھی اس وقت کووڈ 19-کے تناظرمیں صحافیوں پر دباؤ بنانے کاایک طریقہ تھا۔‘‘ پٹیل نے فیس آف نیشن کے لیے لکھنا جاری رکھا اور ان کا آخری مضمون چار ستمبر کو شائع ہوا تھا۔
روپانی کو بدلے جانے کے بارے میں انہوں نے سات مئی 2020 کو مضمون لکھا تھا اور اس کا عنوان تھا ’’ Mandaviya called by high command, chances of leadership change in Gujarat’। ‘‘ گجرات سے راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ منسکھ مانڈاویہ اس وقت مرکزی وزیر برائے جہاز رانی (آزادانہ چارج) اور کیمیائی اور کھاد کے وزیر مملکت تھے۔ (حالیہ ردوبدل میں انہیں مرکزی وزیر صحت کے طور پر ترقی دی گئی تھی)۔
شکایت کنندہ سب انسپکٹر ایس جے دیسائی تھے۔ وہ احمد آباد ڈٹیکشن آف کرائم برانچ (ڈی سی بی) میں تھے۔ پٹیل کے خلاف ڈی سی بی نے 11 مئی 2020 کو آئی پی سی کی دفعہ 124A (غداری) اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ کی دفعہ 54 (جھوٹی وارننگ کے لیے) کے تحت مقدمہ درج کیا تھا اور’سماج میں بدامنی پھیلانےکی کوشش‘ کا الزام لگایا تھا۔ اسے 14 مئی کو گرفتار کیا گیا تھا اور عدالت نے اسے 27 مئی کو ضمانت دے دی۔
پٹیل کی رپورٹ کے مطابق بڑھتے کورونا کیس کے مدنظر روپانی سرکار کی ہونے والی تنقید کی وجہ سے بی جے پی تبدیلی پر غور وخوض کررہی تھی۔ ہائی کمان نے اسے ’ ریاستی مشینری کے ذریعہ معاملات کی بدانتظامی ‘ کے طور پر دیکھا تھا۔ اس نے کہاکہ مانڈوایہ کو ہائی کمان کے ذریعہ دہلی بلائے جانے سے اشارے ملتے ہیں کہ وہ روپانی کی جگہ پر ہوسکتے ہیں۔ ساتھ ہی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ بی جے پی کے اچانک سی ایم بدلنے کے کئی مثالیں تھیں، جن کے بارے میں کسی کو پتہ نہیں تھا۔










