مدراس ہائی کورٹ نے منگل کے روز تمل ناڈو حکومت کو حکم دیا کہ وہ تمام ہندو مندروں میں بورڈز لگائے جس میں غیر ہندوؤں کو متنبہ کیا جائے کہ وہ کوڈیمارم (جہاں جھنڈے لگائے گئے ہیں) سے آگے نہ جائیں۔عدالت نے یہ بھی کہا کہ ہندوؤں کواپنے مذہب کو ماننے اور اس کی پیروی کرنے کا بنیادی حق ہے۔
ہائی کورٹ کی مدورائی بنچ کے جسٹس ایس سریمتی نے ڈی سینتھل کمار کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے یہ فیصلہ دیا۔
درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ارولمیگو پالانی دھنادیوتھاپانی سوامی مندر میں صرف ہندوؤں کو داخلے کی اجازت دی جائے۔ اس کے علاوہ اس کے داخلی دروازے پر ایک بورڈ بھی لگایا جائے۔
جج ایس سریمتھی نے عرضی پ سماعت کرتے ہوئے کہا، ’’حکومت تمل ناڈو کے محکمہ ہندو مذہبی اور خیراتی اوقاف کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ غیر ہندو مندر میں ایک پوائنٹ سے زیادہ داخل نہ ہوں۔ اگر کوئی غیر ہندو کسی مندر میں جانا چاہتا ہے تو اسے ایک عہد لینا ہوگا جس میں اسے یہ کہنا پڑے گا کہ وہ اس دیوتا پر یقین رکھتا ہے جس کے مندر میں وہ جانا چاہتا ہے۔ اور وہ ہندو مذہب کے رسم و رواج کی پیروی کرے گا۔ اس عہد کے بغیر کسی بھی غیر ہندو کو مندر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ،
عدالت نے کہا کہ ہندوؤں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کا حق ہے۔
انہوں نے کہا، “اسی طرح دوسرے مذاہب کے لوگوں کو بھی اپنے مذہب کو ماننے اور اس پر عمل کرنے کا حق ہے، مذہب کے رسم و رواج میں مداخلت نہیں کی جا سکتی۔ ،”مندر کوئی پکنک یا سیاحتی مقام نہیں ہے۔ دوسرے مذاہب کے لوگ مندر کے فن تعمیر کو دیکھ اور سمجھ سکیں گے لیکن کوڈیمارم سے گزرنے کی ضرورت نہیں ہے۔”









