اردو
हिन्दी
مئی 7, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

آر ایس ایس سے سنجیدہ مذاکرات کی ضرورت

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
آر ایس ایس سے سنجیدہ مذاکرات کی ضرورت
63
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

عدیل اختر

آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے گزشتہ دنوں ممبئی کے ایک ہوٹل میں کچھ مسلم دانشوروں کو مدعو کیا تھا۔ اس میں کتنے دانشوروں سے رابطہ کیا گیا اور کتنے لوگ شریک ہوئے اس کی تفصیلات منظر عام پر نہیں آسکیں۔ البتہ یہ بات معلوم ہے کہ اس میٹنگ کی تیاری کئی مہینے سے چل رہی تھی اور اس میں شرکت پر رضا مند کرنے کے لئے چنندہ لوگوں سے رابطے کافی دنوں سے کئے جارہے تھے اور میٹنگ سے پہلے اخبارات میں خبریں بھی گرم تھیں۔ مگر اس میٹنگ کے بعد اس کی کوئی خاص رپورٹنگ نہیں ہوئی نہ آر ایس ایس سربراہ کی تقریرکا چرچا اس طرح سے ہوا جیسا کچھ مہینے پہلے غازی آبا میں آر ایس ایس کی مسلم سیل کے جلسے میں کی گئی تقریرکا ہوا تھا جس میں سنگھ سربراہ نے مسلمانوں کے آزادانہ وجود کا انکار کرتے ہوئے مسلمانوں اور ہندوؤں کو ایک ہی ڈی این اے والی قوم قرار دیا تھا۔ اس لئے ایسا لگتا ہے کہ یہ پروگرام شاید پھس ہو کر رہ گیا۔

جب سے مرکز میں بی جے پی کی حکومت بنی ہے، آرایس ایس کی طاقت اور فیصلہ کن پوزیشن کو سبھی محسو س کررہے ہیں۔بی جے پی حکومت کو آرایس ایس کی ہی حکومت سمجھا جاتا ہے کیوں کہ بی جے پی سنگھ پریوار کا ہی سیاسی بازو ہے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ آر ایس ایس یا سنگھ پریوار اکثریتی ہندو سماج کی قیادت اور نمائندگی کرتا ہے اور ہندو تہذیب و ثقافت کا علم بردار ہے۔ سنگھ پریوار کے مفکرین اور قائدین ہندوقوم کے مافی الضمیر کی ترجمانی کرتے ہیں اور اس کے مذہبی و ثقافتی کردار کی حفاظت کرتے ہیں۔ چنانچہ یہ بالکل واضح بات ہے کہ اس کثیر قومی ملک کی کسی قوم کو چاہے وہ سکھ ہوں، عیسائی ہوں یا مسلمان ہوں اگر ملک کے معاملات اور مشترک قومی مسائل پر ہندوفرقے سے کوئی مذاکرہ کرنا ہے تو سنگھ پریوار کے قائدین سے ہی بات کرنی ہوگی، سنگھ پریوار کو نظر انداز کرکے منفرد دھارمک گروؤں یا مٹھادیشوں سے رابطے کرنے اور ان کے ساتھ کوئی موافقت قائم کرنے کی کوشش بے سود ہوگی۔ اس لئے آر ایس ایس لیڈروں کے ساتھ مسلم قائدین و مفکرین اور دانشوروں کی ملاقات ایک اہم بات ہے اور وقت کی ضرورت بھی ہے۔

لیکن آر ایس ایس قائدین کو یہ سوچنا ہوگا کہ ملاقات اور بات چیت ایک دو طرفہ عمل ہے۔ یعنی دو یا دو سے زیادہ فریق اگر آپس میں کوئی بامقصد بات چیت یا مذاکرات کرنا چاہتے ہیں تو دونوں کو آمنے سامنے بیٹھ کر بات کرنا چاہئے اور دونوں فریقوں کو سننے اور کہنے کا برابر سے موقع ملنا چاہئے۔ مگر گزشتہ کچھ عرصے سے آرایس ایس نے اس طرح کی جو کچھ بھی پیش قدمی کی ہے وہ مذاکرات اور بات چیت والا طریقہ نہیں ہے بلکہ ڈکٹیٹ کرنے والا یعنی صرف اپنی بات کہنے اور سنانے والا طریقہ ہے، اس لئے ایسی کسی”ملاقات“ میں اگر کوئی مسلم نمائندہ شامل ہوتا ہے تو اسے مسلمان عام طور سے پسندنہیں کرتے اور ایسی میٹنگ کو اپنی عزت نفس کے خلاف سمجھتے ہیں۔ غازی آباد اور ممبئی کی میٹنگوں کو بھی مسلمانوں نے اسی نظر سے دیکھا ہے اور اس میں حصہ لینے والوں سے برأت ظاہر کی ہے۔ سنگھ پریوار کو خود بھی یہ بات صاف طور سے محسوس ہورہی ہوگی کہ جو علماء،قائدین اور دانشور مسلمانوں میں اپنی عزت بنائے رکھنا چاہتے ہیں وہ سنگھ پریوار کی ایسی دعوتوں میں شریک ہونا اپنے لئے مناسب نہیں سمجھتے ہیں۔لہذا اس طرح کی میٹنگیں بے نتیجہ اور لاحاصل ہیں، ان سے کوئی ہم آہنگی اور اتفاق رائے قائم ہونے کے بجائے دوری اور بیزاری ہی پیدا ہورہی ہے۔

ممبئی کی میٹنگ میں آر ایس ایس سربراہ نے جو باتیں کہیں وہ انہی باتوں کا اعادہ تھا جو غازی آباد کی میٹنگ میں کہی گئی تھیں۔ سنگھ سربراہ کا اصرار ہے کہ مسلمان خود کو ہندو پوروجوں کی اولاد تسلیم کریں یعنی اپنے لئے ہندو شناخت کو اپنائیں۔ اسے وہ قومیت اور قوم پرستی کہتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آپ کو ہندستانی ہونے پر کیا اعتراض ہے اور یہ شناختی نام کیوں پسند نہیں ہے؟ مسلمان تو ہندستانی کے علاوہ خود کو ہندی مسلمان بھی کہتے رہے ہیں لیکن آپ اس پر بھی راضی نہیں ہیں، آپ چاہتے ہیں کہ جو آپ کی مذہبی شناخت ہے اسی کو مسلمان اپنی قومی شناخت بنالیں۔ اس طرح آپ مسلمانوں کی مذہبی شناخت کا انکار کرتے ہیں۔ آپ انہیں ہندستانی سیاسی قوم کا ایک مذہبی فرقہ تسلیم کرنے کے بجائے ہندو مذہبی و ثقافتی قوم کا ایک جز بنانا چاہتے ہیں۔ یہ تکثیریت، تنوع اور مذہبی آزادی کے اصولوں کا انکار ہے۔ مذاکرات کی میز پر آپ کی یہ پیش کش تسلیم نہیں کی جاسکتی اس لئے آپ مذاکرات کے بجائے فرمان سنانے والا طریقہ اپنا رہے ہیں۔

آپ مسلمانوں سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ مسلمان انتہاپسندی یا کٹر واد کی مخالفت کریں،لیکن انتہا پسندی اور کٹر واد کیا ہے آپ اس پر کوئی سنجیدہ مکالمہ کرنا نہیں چاہتے۔ مسلمانوں کو ان کا دین ہی اس بات سے روکتا ہے کہ وہ انتہا پسندپسند بنیں یا سخت گیریت اختیار کریں۔ اسلام کی تعلیمات انسان کو ہر طرح کی انتہاپسندی سے بچاکر معتد ل طرز عمل پرلے کر آتی ہیں۔ اسلام کا اعتدال یہ ہے کہ آ پ نجات کے لئے دنیا ترک نہیں کرسکتے اور نہ دنیا میں ایک اچھی زندگی جینے کے لئے اصولوں اور پابندیوں سے آزاد ہوسکتے ہیں۔اسلام کا اعتدال یہ ہے کہ آپ دنیا کو اسلام کا عقیدہ بتائیں، سمجھائیں اور اس کی طرف دعوت دیں لیکن اس عقیدے کو منوانے کے لئے آپ کسی کے پیچھے نہ پڑیں، نہ اس عقیدے کو تسلیم نہ کرنے پر آپ کسی سے تعلقات ترک کریں،نہ اس کے حقوق سلب کریں، نہ اس کی جان ومال کو اپنے لئے حلال سمجھیں۔ اسلام کی معتدل تعلیم یہ ہے کہ آپ نہ ظلم کریں اور نہ ظلم سہیں، نہ کسی کو کسی پر ظلم کرنے دیں۔ اسلام کا اعتدالی موقف یہ ہے کہ آپ سماج سے بدی اور برائی مٹانے کی طاقت اپنے اندر پیدا کریں اور آپ کے پاس طاقت ہو تو آپ طاقت سے برائی کو روکیں اور اگر طاقت نہیں ہے تو برائی کو برائی جانیں اور اس سے دور رہیں بے نتیجہ کوششوں سے نہ خود کو ہلاکت میں ڈالیں نہ مزید خرابی کا باعث بنیں۔ اسلام کی معتدل تعلیم یہ ہے کہ جو کچھ آپ کے لئے حرام ہے وہ صرف آپ کے لئے حرام ہے، جس کے عقیدے میں کھانے پینے کی کوئی چیز حرام نہیں ہے آپ اسے اس کے کھانے پینے سے نہیں روک سکتے۔اسلام کا اعتدال یہ ہے کہ ہر آدمی اپنے گھر میں آزاد ہے، وہ اپنے گھر میں کیا کرتا ہے اس سے کسی دوسرے کو کوئی غرض نہیں ہونی چاہئے، ہاں کوئی فرد گھر سے باہر آکر کوئی ایسا طرز عمل اختیار کرتا ہے جو سماجی اخلاق یا سماجی تحفظ کے خلاف ہو تو اسے اس سے روکا جائے گا۔اسلام کا اعتدال یہ بھی ہے کہ اسلام اپنی ذات، اپنے خاندان، اپنی برادری، اپنی قوم اور اپنے ملک پر تکبر کرنے سے منع کرتا ہے اورتمام انسانوں کو ایک ماں باپ کی اولاد اور ایک خالق کی مخلوق سمجھنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اس لئے اسلام قوم پرستی سمیت ہر طرح کی تنگ نظر ی کاانکار کرتا ہے۔ اسلام کی یہ معتدل تعلیمات مسلمانوں کو معتدل رویے والی قوم بناتی ہیں اور اسی خصوصیت کی بنا پر قرآن میں مسلمانوں کو امت وسط کہا گیا ہے۔ لہذا مسلمانوں کو انتہا پسندی سے بچنے کی تعلیم تو ان کے مدرسوں میں، مسجدوں اور اجتماعات میں صبح شام ملتی رہتی ہے اور اس کا اثر دین دار مسلمانوں کے رویے میں عام طور سے دیکھا جاسکتا ہے۔اس کے بالمقابل آپ کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ آپ کے فلسفہ اخلاق میں اعتدا ل کی کیا تعلیم دی گئی ہے اور خود آپ اپنی قوم کو انتہا پسندی سے بچنے کی کیا تربیت دے رہے ہیں؟ مسلمانوں کے ساتھ ملک میں جو تشدد اور دہشت کا ماحول بنا ہوا ہے اسے کیا آپ انتہا پسندی تسلیم کرتے ہیں؟اور اگر یہ انتہا پسندی ہے تو اسے روکنے کی آپ نے اب تک کیا کوششیں کی ہیں؟ آپ کی مختلف ذیلی تنظیموں اور تربیت یافتہ کارکنان کا جو رویہ صبح و شام سب کے مشاہدے میں آتا رہتا ہے وہ آپ کے نزدیک اعتدال و اخلاق پر مبنی رویہ ہے یا اس کے برعکس ہے؟

آپ چاہتے ہیں کہ مسلمان اس بات کو تسلیم کریں کہ ہندستان میں اسلام حملہ آوروں کے ساتھ آیا۔ لیکن یہ آپ کا اپنا بیانیہ ہے، تاریخ کا بیانیہ تو یہ نہیں ہے۔ تاریخ کا بیانیہ تو یہ ہے کہ اسلام اپنے آغاز کے زمانے میں ہی ہندستان میں بڑے امن طریقے سے داخل ہوگیا تھا۔ بحر ہند کا پانی اور جنوبی ہند کے ساحلی علاقے اس بات کے گواہ ہیں کہ وہاں اسلام تاجروں کے ساتھ آیاتھا۔اسلام کی تعلیمات نے عرب تاجروں کی شخصیت اور کردار میں جو انقلاب پیدا کیا تھا اس کے اثر سے نہ صرف یہ کہ ساحلی علاقوں کے لوگوں نے اسلام قبول کیا بلکہ جن مقامی سرداروں نے اسلام قبول نہیں کیا وہ اسلام اور اہل اسلام کے میزبان بنے تھے اور عرب سے آنے والے اسلامی مہمانوں نے ہندی راجاؤں کے ماتحت رہتے ہوئے ان کی حکومتوں کومعاشی اور سیاسی خدمات فراہم کی تھیں۔یہ تاریخ کے وہ حقائق ہیں جنہیں آپ کبھی بھی مٹا نہیں سکتے۔اسی طرح آپ صوفیاء کرام کو حملہ آور اور جابر نہیں کہہ سکتے جن کے ہاتھوں پر لاکھوں لوگ بہ رضا و رغبت اسلام قبول کرتے رہے۔ پھر آپ اگر محمد بن قاسم اور محمود غزنوی کے حملوں کا حوالہ دیتے ہیں تو آپ کو اس پر بھی گفتگو کرنی ہوگی کہ ان حملہ آوروں کو ہندستانی عوام نے خوش آمدید کیوں کہا تھا؟ مذاکروں، سمپوزیموں اور سیمناروں میں آپ اگر ان باتوں کو بحث کا موضوع بنائیں تو کوئی حرج نہیں لیکن آپ دو طرفہ بحث چاہتے ہی نہیں ہیں بس اپنا خیال اور اپنا نظریہ منوانا چاہتے ہیں۔ یہ تو جبر ہے اور جبر کا رویہ اختیار کرنا ایک انتہا پسندی ہے۔

مسلمانوں کی نظر سے دیکھا جائے تو دراصل بنیادی طور سے اس بات پر مذاکرات کی ضرورت ہے کہ ۷۴۹۱ میں ملک کی تشکیل نو کے بعد اس کی جو اصولی حیثیت تسلیم کی گئی تھی اور جس کی بنیاد پر ملک کا دستور بنا تھا اس پر آج کون راضی نہیں ہے؟ کون ہے جو ملک کا کردار بدلنا چاہتا ہے، مذہبی آزادی کا ماحول ختم کرنا چاہتا ہے، برابرکے حقوق اور آزادیوں کو تسلیم نہیں کرنا چاہتا ہے، ووٹ کا حق چھین لینے کے مطالبے کرتا ہے اور ملک کو ایک کثیر قومی کثیر مذہبی ملک کے بجائے ایک فرقہ کی مذہبی شناخت والا ملک بنانا چاہتا ہے؟ یہ سوال آج قائم ہوچکے ہیں اور آج نہیں تو کل ان سوالوں پر بحث ناگزیر ہوجائے گی۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN