اردو
हिन्दी
مئی 7, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

ناموس رسالت ؐ سے اگنی پتھ تک ملک کا دردناک منظر نامہ

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
ناموس رسالت ؐ سے اگنی پتھ تک ملک کا دردناک منظر نامہ
97
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:کلیم الحفیظ

ملک کے مسلمانوں سے ایک سوال بار بار پوچھا جا رہا ہے کہ آپ کی نظر میں آئین افضل ہے یا شریعت؟ملک آئین کے مطابق چلے گا یا شریعت کے مطابق؟ ویسے اگر غور کریں تو یہ سوال ہم ہندوستانی مسلمانوں کے لیے نیا نہیں ہے۔آزادی کے بعد سے اب تک الگ الگ انداز میں یہ سوال ہمارے سامنے پیش کیا جا تا رہا ہے۔آپ خود کو ہندوستانی مانتے ہیں یا نہیں؟ آپ ملک کے وفادار ہیں یا نہیں؟ آپ کو سرزمین ہند سے محبت ہے یا نہیں؟ گزشتہ دنوں ٹی وی 9/پر جب مشہور و معروف پارلیمنٹرین بیریسٹر اسد الدین اویسی سے یہ سوال کیا گیا کہ آپ کی نظرمیں آئین افضل ہے یا شریعت؟ ملک آئین سے چلے گا یا شریعت سے؟ تو اس پر اویسی صاحب نے جو جواب دیا وہ قابل غور ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ سوال صرف ہم سے کیوں کیا جاتا ہے؟ صرف ہندوستانی مسلمانوں سے کیوں کیا جا تا ہے؟ یہ سوال وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ سے کیوں نہیں کیا جاتا؟ اس کا جواب ٹی وی اینکر کے پاس نہیں تھا۔ہو بھی نہیں سکتا کیونکہ انھیں بھی معلوم ہے کہ ملک کا مسلمان اپنے وطن سے ٹوٹ کر محبت کرتا ہے اور آئین کے مطابق عمل کرتا ہے لیکن مسلمانوں کو ہندوؤں کی نظر میں غدار ثابت کرنے کی ایک منظم سازش ہے جس کے تحت یہ سب کچھ ہوتا ہے تاہم اچھی بات یہ ہے کہ یہ سازش کسی صورت کامیاب ہوتی نظر نہیں آ رہی ہے۔اس کا دوسرا پہلو افسوسناک اور خطرناک ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ تعصبانہ اور ظالمانہ رویہ آر ایس ایس یا بی جے پی کی طرف سے صرف نہیں ہے بلکہ منتخب حکومتوں کی طرف سے بھی ہے۔مرکز کی بی جے پی حکومت ہو یا ریاستی حکومتیں ان کا جو رویہ ہے وہ سب کے سامنے ہے اور اب تو پوری دنیا نے دیکھ لیا۔ہم مسلمانوں کو آئین کی روشنی میں انصاف مانگنا بھی مشکل ہو رہا ہے۔زبانیں بند کرائی جا رہی ہیں اور انصاف کا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔

حال ہی میں گستاخان رسول کا معاملہ سامنے آیا کہ جب بی جے پی کی قومی ترجمان رہی نپور شرما اور بی جے پی دہلی کے میڈیا انچارج رہے نوین کمار جندل کی جانب سے ہمارے آقائے نامدار حضرت محمد مصطفی ﷺ کی شان میں گستاخی کی گئی۔ملک کے 25/ کروڑ نہیں بلکہ دنیا کے 200/کروڑ مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی گئی۔ملت اسلامیہ ہند ناموس رسالت کی حفاظت کے لیے میدان میں آ گئی۔کل مجلس اتحاد المسلمین کے ساتھ ساتھ ملی جماعتیں بھی میدان میں آئیں۔ایک اہم بات کی طرف اشارہ کرتا چلوں کہ آج کچھ لوگ یہ بیان دے رہے ہیں کہ سڑکوں پر اترنے کی بجائے آئینی لڑائی لڑی جانی چاہئے تو انھیں بھی یہ بتانا ضروری ہے کہ قانونی چارہ جوئی کی گئی ہے اور کی جا رہی ہے۔ نپور شرما ہوں یا نوین کمار جندل ان دونوں گستاخان رسول کے خلاف تھانوں میں شکایات درج کرائی گئی ہیں۔دہلی ، ممبئی اور حیدر آباد میں ایف آئی آر درج کرائی گئیں لیکن کوئی کاروائی نہیں ہوئی۔ حکومت اور پولیس انتظامیہ خاموش تماشائی بنی رہی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں کا غصہ بڑھتا گیا۔ آہستہ آہستہ ملک بھر میں علم احتجاج بلند ہونے لگے اور حیرانی کی بات یہ ہے کہ باوجود اس کے حکومت کی مجرمانہ خاموشی قائم رہی۔ بات اتنی بڑھ گئی کہ سعودی عرب، ایران، قطر سمیت دنیا کے25/ ممالک اور او آئی سی جیسی عالمی تنظیم نے اپنی ناراضگی ظاہر کی۔شاپنگ مال سے لوگوں نے ہندوستانیوں کے سامان باہر پھینک دیے۔ حکومتوں کی جانب سے سفارتکاروں کو طلب کیا گیا اور شکایت درج کرائی گئی۔ہندوستان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا جانے لگا۔ملک کے خلاف ایک ساتھ بیرون ممالک میں اتنا سب کچھ شاید پہلی بار ہوا ہوگا۔جب اتنا بڑا معاملہ پیش آیا تو پورے 10؍دنوں کے بعد بی جے پی کو یہ احساس ہوا کہ ان کے لیڈران نے غلطی کی ہے چنانچہ دونوں کے خلاف کاروائی کی گئی۔ کاروائی کا کیا جانا خوش آئند تھا،اس کا استقبال کیا گیا لیکن دو سوال اب بھی بہت اہم تھے۔ پہلا یہ تھا کہ اتنی تاخیر کیوں ہوئی؟ملک کے 25کروڑ مسلمانوں کی بات سننے کی بجائے بیرون ممالک کی بات کااثر کیوں قبول کیا گیا؟ دوسرا سوال یہ تھا کہ آئین کے مطابق حکومت اور پولیس کی جانب سے گستاخان رسول کے خلاف قانونی کاروائی کیوں نہیں کی گئی؟ انھیں سوال کی روشنی میں پھر 8/ جون 2022کو ایک اور شکایت دہلی میں دہلی مجلس کی جانب سے درج کرائی کہ مذکورہ بالا دونوں گستاخان رسول کے خلاف یو اے پی اے کے تحت کاروائی کی جائے کیونکہ انھوں نے ملک کے خلاف کام کیا ہے؟ملک کو اقتصادی طور پر بھی بھاری نقصان کیا ہے لیکن حکومت خاموش رہی۔

اب سوال یہ تھا کہ کیا اس خاموشی کے خلاف آواز بلند نہ کی جاتی؟ کیا سڑکوں پر اتر کر اپنی ناراضگی ظاہر نہ کی جاتی؟ کیا یہ عمل آئین ہند کے خلاف تھا؟ قومی راجدھانی دہلی، اتر پردیش، بہار، جھارکھنڈ، مہاراشٹر، مغربی بنگال، تلنگانہ اور ملک کے دیگر صوبوں کے مسلمانوں کی جانب سے مضبوط آواز بلند کی گئی۔ کانپور میں جب لوگ سڑکوں پر اتر آئے اور علم احتجاج بلند کیا تو ان کے خلاف کاروائی کی گئی۔ پتھر کس نے چلائے؟ کہاں سے پتھر آئے؟ پتھر بازی کی سازش کا اصل گناہگار کون ہے؟ اس کی جانچ کیے بغیر یوگی کی پولیس نے خود ہی سب کچھ طے کر دیا اور کاروائی شروع کر دی۔گھروں پر بلڈوزر چلا دیا گیا اور نوجوانوں کو این ایس اے کے تحت جیل بھیج دیا گیا۔دہلی میں جب کل ہند مجلس اتحاد المسلمین دہلی کے راقم سمیت کچھ کارکنان پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانہ پر پولیس کی اجازت سے ممورینڈم دینے کے لیے پہنچے تو انھیں بھی پہلے حراست میں لیا گیا اور اس کے بعد راقم سمیت دہلی مجلس کے 30؍عاشقان رسول کو تہاڑ جیل بھیج دیا گیا۔ہم سب نے جیل سختیاں برداشت کیں لیکن اپنا مطالبہ جاری رکھا ۔ دہلی پولیس اور مودی حکومت کے اس ظالمانہ رویہ کو دنیا دیکھ رہی تھی۔ اس کے دوسرے ہی دن نماز جمعہ کے بعد پھر پر امن طریقہ سے ملک کے مسلمانوں نے آواز بلند کی۔ سہارنپور، الہ آباد، رانچی اور دوسرے مقامات پر زبردست احتجاجی مظاہرے ہوئے لیکن ایک سازش کے تحت اس کو پرتشدد بنا دیا گیا۔ الہ آباد میں سماجی کارکن محمد جاوید کو تشدد کا ماسٹر مائنڈ بتاکر ان کے گھر کو بلڈوز کر دیا گیااور ان کے ساتھ درجنوں لوگوں کو جیل بھیج دیا گیا۔ان کی بیٹی آفرین فاطمہ چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی کہ حکومت کی طرف دیا گیا نوٹس غلط ہے، گھر والدہ کے نام ہے اور نانی نے دیا تھا پھر اس پر کاروائی کیوں کی گئی لیکن کون سننے والا ہے۔ رانچی میں مدسر او ر ساحل کو پولیس کی گولیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ عاشقان رسول کو ملک کا غدار قرار دے دیا گیا۔جمعہ ویر، پتھر ویر، ہنسا ویراور نہ جانے کیا کیا کہا گیا لیکن گستاخان رسول کے خلاف کاروائی نہیں کی گئی۔انھیں جیل نہیں بھیجا گیا۔کیا یہ آئین کی دھجیاں اڑانا نہیں ہے؟ کیا اس ظلم پر اپوزیشن کی خاموشی جائز تھی؟ کیا نام نہاد سیکولر پارٹیوں کے لیڈروں کو بولنا نہیں چاہئے تھا کہ دونوں کے خلاف کاروائی کی جائے؟ لیکن کوئی نہیں بولا۔سب خاموش تھے اور ظالم حکومتیں مسلمانوں کے خلاف کاروائی کرتی رہیں۔ تاہم یاد رکھو کہ اللہ کی لاٹھی میں آواز نہیں ہوتی۔اس کے یہاں دیر ہے لیکن اندھیر نہیں ہے۔نوجوانوں کے لیے اگنی پتھ اسکیم لائی گئی جو آپ کی نظر میں ہے۔فوج میں محض چار سال کے لیے بھیج کر اگنی ویر بنانے کا فیصلہ لیا گیا جس کے خلاف ملک کا نوجوان کھڑا ہو گیا۔ حکومت جن نوجوانوں کو اگنی ویر بنانے کا خواب دیکھ رہی تھی وہ نوجوان جمعہ ویر، پتھرویر، ہنساویر بن گئے۔ قریب ایک ہزار کروڑ کا نقصان تو ہندوستانی ریل کا ہوا۔یہاں تفصیل میں نہیں جانا لیکن دونوں جمعہ کا موازنہ کیجئے تو اندازہ ہوگا کہ گناہ کس کابڑا تھا اور کاروائی کس کے خلاف کیسی ہوئی؟ اگنی پتھ کے خلاف کھڑے ہونے والے نوجوانوں کو پولیس کہہ رہی ہے یہ اپنے بچے ہیں تو اس کا مطلب یہی نکلا کہ عاشقان رسول ان کے بچے نہیں ہیں۔یہ فرق اور تقسیم کس کی جانب سے ہے؟ یہ تعصب اور نفرت کس کی طرف سے ہے؟ باقی آپ خود اپنے سوال اس میں شامل کر لیجئے۔

آخری بات یہ ہے کہ حکومت میں بیٹھے حکمرانوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ حکومتیں انصاف سے چلتی ہیں ناانصافی سے نہیں۔اگر ملک کو ترقی کے راستہ پر لے جانا ہے۔ وشو گورو بنانا ہے تو مسلمانوں سے نفرت ختم کرنی ہوگی، ان کے ساتھ کی جانے والی ناانصافیوں کو بند کرناہوگا۔ہندو راشٹر بنانے کی ضد چھوڑنی ہوگی اور آئین کے مطابق کام کرنا ہوگا۔اگر ایسا حکومت کرتی ہے تو ہم اس کے ساتھ ہیں ورنہ 25/کروڑ مسلمانوں کی آواز کو جیل کی سلاخوں میں قید نہیں کیا جا سکتا۔

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN