اردو
हिन्दी
اپریل 23, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

وہ سات ممالک جنہیں افغانستان میں طالبان کی ’واپسی ‘سے پریشانی لاحق

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ متفرقات
A A
0
وہ سات ممالک جنہیں افغانستان میں طالبان کی ’واپسی ‘سے پریشانی لاحق

(فائل فوٹو)

102
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

رگھویندر راؤ

شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے وزرا خارجہ 13 سے 14 جولائی کو تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبہ میں مل رہے ہیں اور ان سب ملکوں کی توجہ افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی پر مرکوز ہے۔

ملاقات کے دوسرے روز شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے نمائندے افغان حکومت کے ساتھ ملاقات کریں گے جہاں ملک کی صورتحال اور طالبان کی جانب سے مکمل قبضے کے خدشات پر بات چیت ہو گی۔

ایس سی او میں افغانستان رابطہ گروپ 2018 میں تشکیل دیا گیا تھا جس کا مقصد افغانستان میں امن، استحکام، اقتصادی ترقی اور دہشتگردی کا خاتمہ جیسے اہداف کا حصول ہے۔

ایس سی او کے رکن ممالک کو کیا خدشات ہیں؟

چین کا وسائل سے مالا مال صوبہ سنکیانگ اور افغانستان کے بیچ آٹھ کلو میٹر طویل سرحد ہے۔ افغان صورتحال کے پیش نظر چین کو خدشہ ہے کہ اگر طالبان اقتدار میں آئے تو اس سے سنکیانگ میں علیحدگی پسند ایسٹ ترکستان اسلامی تحریک کو پناہ اور مدد مل سکتی ہے۔

یہ ایک چھوٹا علیحدگی پسند گروہ ہے جو مغربی چین کے سنکیانگ صوبے میں متحرک ہے۔ یہ ایک آزاد مشرقی ترکستان قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ سنکیانگ صوبے میں چین کی ایک نسلی مسلم اقلیت اویغور آباد ہے۔

امریکی دفتر خارجہ نے 2006 میں اس گروہ کو اویغوروں کا ایک خطرناک علیحدگی پسند گروہ قرار دیا تھا اور اسے دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ مگر گذشتہ سال نومبر میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے یہ پابندی ہٹا دی تھی۔

چین افغانستان کو بھی اپنے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں شامل کرنا چاہتا ہے اور افغانستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے امکانات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

طالبان ترجمان سہیل شاہین کا کہنا ہے کہ وہ چین کو افغانستان کا دوست مانتے ہیں اور انھیں امید ہے کہ جلد ان کی بیجنگ سے تعمیر نو کے منصوبوں پر سرمایہ کاری کے لیے بات چیت ہو گی۔ طالبان نے یقین دلایا ہے کہ وہ آئندہ سنکیانگ سے علیحدگی پسند اویغور جنجگوؤں کو افغانستان داخل نہیں ہونے دیں گے۔

روس

روس کو خدشہ ہے کہ امریکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان سخت گیر اسلام کا گڑھ نہ بن جائے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اگر افغانستان میں اسلام کی بنیاد پر انتہا پسندی بڑھتی ہے تو اس سے پورے وسطی ایشیا کو خطرہ ہو گا۔ یعنی اگر خون بہے گا تو اس کے قطرے ماسکو پر بھی پڑیں گے۔

ممکنہ سیکورٹی وجوہات کے پیش نظر روس طالبان کے ساتھ اچھے تعلقات بنا رہا ہے۔ روسی اثر و رسوخ میں رہنے والے ملک جیسے تاجکستان اور ازبکستان کی افغانستان کے ساتھ سرحدیں ہیں۔ روس کو خدشہ ہے کہ مستقبل میں افغان سرحدوں پر انسانی اور سکیورٹی کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

طالبان کے ایک وفد نے روس کے دورے پر یقین دہانی کرائی تھی کہ افغانستان میں کسی پیشرفت سے وسطی ایشیا کے علاقوں کو خطرہ نہیں ہو گا۔

طالبان نے روس کو یقین دلایا کہ افغان سرزمین کو کسی ہمسایے ملک کے خلاف استعمال ہونے نہیں دیا جائے گا۔

انڈیا

ایک اندازے کے مطابق انڈیا نے افغانستان میں انفراسٹرکچر اور اداروں کی تعمیر نو کے لیے تین ارب ڈالر سے زیادہ رقم خرچ کی ہے۔ انڈیا نے افغان پارلیمانی عمارت اور ملک میں ایک بڑا ڈیم منصوبہ تعمیر کیا ہے۔

اس نے یہاں تعلیم اور تکنیکی معاونت کے منصوبے بھی قائم کیے ہیں۔ اسی دوران انڈیا نے افغانستان میں قدرتی وسائل پر سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی ہے۔

واضح طور پر انڈیا کو خدشہ ہے کہ افغانستان میں پیدا ہونے والی کسی صورتحال سے ان کی سرمایہ کاری متاثر ہو سکتی ہے۔ افغانستان میں پُرتشدد واقعات کے بعد انڈیا نے طالبان کے اقتدار سنبھالنے کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا ہے۔

انڈیا کو خدشہ ہے کہ یہ پاکستان کے خلاف سٹریٹیجگ سبقت کھو دے گا۔ پاکستان پر نفسیاتی اور سٹریٹیجنگ دباؤ ہے کہ افغانستان میں انڈیا مضبوط ہو رہا ہے۔ انڈیا کے کمزور ہونے سے پاکستان کا اثر و رسوخ بڑھ سکتا ہے۔

پاکستان

افغانستان اور پاکستان کے درمیان 2611 کلو میٹر طویل سرحد ہے۔ پاکستان کا سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ افغانستان میں صورتحال خراب ہونے سے اس کی سرحد پر افغان پناہ گزین کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ دوسرا خدشہ تحریک طالبان پاکستان کے حوالے سے ہے جو پاکستانی فوج کے آپریشن کے دوران افغانستان چلے گئے تھے اور اب پناہ گزین کی شکل میں پاکستان واپس آسکتے ہیں۔

حال ہی میں پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ اگر افغانستان میں خانہ جنگی ہوتی ہے تو اس سے پاکستان براہ راست متاثر ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق افغانستان میں خانہ جنگی کے خدشے کے پیش نظر پاکستانی فوج ہر صورتحال کے لیے تیار ہے۔

پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف کے مطابق افغانستان میں صورتحال بہت خراب ہے۔ ماہرین کے مطابق افغانستان سے نیٹو افواج کے جانے کے ساتھ پاکستان ایک بار پھر اپنی کھوئی ہوئی طاقت بحال کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

ازبکستان اور تاجکستان

افغانستان اور ازبکستان کے درمیان 144 کلو میٹر کی سرحد ہے جبکہ تاجسکتان کے ساتھ 1344 کلو میٹر کی سرحد ہے۔

دونوں ملکوں کو خدشہ ہے کہ افغانستان میں پُرتشدد واقعات بڑھنے سے پناہ گزین کا بحران پیدا ہوسکتا ہے۔ گذشتہ کچھ ہفتوں میں ایسے واقعات ہوئے جن میں افغان فوجیوں نے طالبان کے ڈر سے ان ملکوں میں پناہ لی۔

تاجکستان سرحد پر افغانستان کے علاقوں کا ایک بڑا حصہ طالبان کے قبضے میں آچکا ہے۔ اس کی وجہ سے تاجکستان نے افغان سرحد پر 20 ہزار اضافی سکیورٹی اہلکار تعینات کیے ہیں۔

ترکمانستان کو بھی اسی طرح کے خدشات ہیں جہاں یہ افغانستان کے ساتھ 804 کلو میٹر طویل سرحد رکھتا ہے۔ اسے خدشہ ہے کہ آئندہ دنوں میں اس کی سرحد پر انسانی اور سکیورٹی کا بحران پیدا ہوسکتا ہے۔ تاہم ترکمانستان ایس سی او کا رکن نہیں۔

قازقستان اور کرغزستان

چین اور روس کی طرح قازقستان اور کرغزستان کو بھی افغانستان میں سخت گیر اسلام کے پھیلنے کا خدشہ ہے۔ ان کی سرحدیں افغانستان سے نہیں ملتیں مگر انھوں نے اپنے ملکوں میں ایسے حملے دیکھے ہیں جن کا تعلق افغانستان سے قائم کیا جاتا ہے۔ کرغزستان بھی انتہا پسند تحریکوں سے متاثر ہوا ہے جس میں ازبکستان اسلامی تحریک جیسے سخت گیر گروہ شامل رہے ہیں۔

قازقستان نے افغانستان میں تعمیر نو کے لیے معاونت کی ہے اور یہ مالی اعتبار سے بھی افغان شہریوں کا مدد کر رہا ہے۔ قازقستان ناردرن ڈسٹریبیوشن نیٹ ورک کا حصہ ہے جو امریکہ، روس، وسطی ایشیا اور دیگر ملکوں میں بننے والی اشیا کو ٹرین اور ٹرکوں کے ذریعے افغانستان بھیجتا ہے۔

افغانستان میں امن قائم کرنے سے وسطی ایشیا کے ملک تیل، گیس یا کوئلے جیسے قدرتی وسائل انڈیا اور پاکستان سمیت دیگر جنوبی ایشیا کے ملکوں میں بھیج سکیں گے۔ اس لیے ان ممالک کی نظریں بھی افغان صورتحال پر جمی ہوئی ہیں۔

شنگھائی تعاون تنظیم کیا ہے؟

اپریل 1996 میں چین، روس، قازقستان، کرغزستان اور تاجکستان نے نسلی اور مذہبی تناؤ کم کرنے کے لیے تعاون کی یہ تنظیم قائم کی تھی جسے شنگھائی فائیو کہا جاتا تھا۔

ازبکستان کی آمد سے اس کا نام شنگھائی تعاون تنظیم رکھا گیا

جولائی 2005 میں آستانہ سمٹ کے بعد انڈیا، پاکستان اور ایران کو مبصرین کا درجہ دیا گیا جبکہ 2017 میں پاکستان اور انڈیا کو مکمل رکن تسلیم کر لیا گیا تھا۔

ایس سی او میں منگولیا، بیلا روس، افغانستان اور ایران مبصرین کا درجہ رکھتے ہیں جبکہ آذربائیجان، آرمینیا، ترکی، کمبوڈیا، نیپال اور سری لنکا کو مذاکرات میں فریق کا درجہ ملا ہوا ہے۔

(بشکریہ : بی بی سی اردو)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

متفرقات

ہیلتھ ٹپس:بھنے ہوئے چنے کھانے کے بہت سے فائدے ، ۔نیچرل پروٹین سے لے کر فائبر کا خزانہ

11 جولائی
متفرقات

ہیلتھ ٹپس:بھنے ہوئے السی کے بیج صحت کا خزانہ،شوگر، ہائی کولیسٹرول سمیت کئی بیماریوں میں فا ئدے مند

06 جولائی
متفرقات

کارڈیک اریسٹ اور ہارٹ اٹیک میں کیا فرق ہے؟ کیا ہیں علامات و وجوہات ؟ایمرجنسی میں کیا کریں ۔

30 جون
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN