نئی دہلی:(ایجنسی)
وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ طالبان نے دوحہ میں کیے گئے اپنے وعدے پر عمل نہیں کیا جبکہ انہوں نے دعویٰ کیا کہ افغانستان کے حالات اچھے نہیں ہیں۔پارلیمنٹ میں تمام سیاسی جماعتوں کے فلور لیڈرز کو بریفنگ دیتے ہوئے جے شنکر نے کہا کہ ہندوستان زیادہ سے زیادہ لوگوں کو نکالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ہندوستان نے 15 اگست 2021 سے اب تک 800 سے زائد افراد کو افغانستان سے نکالا ہے۔
واضح رہے کہ فروری 2020 میں امریکہ اور طالبان نے دوحہ میں ایک معاہدے پر دستخط کیے تاکہ افغانستان میں 18 سال سے زیادہ تنازع کے بعد ’امن‘ لایا جا سکے۔ امریکہ اور نیٹو کے اتحادیوں نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ اگر عسکریت پسند معاہدے کی پاسداری کرتے ہیں تو وہ 14 ماہ کے اندر تمام فوجی واپس بلا لیں گے۔
حکومت کی بریفنگ کی اہم توجہ جنگ زدہ ملک کے مختلف قصبوں میں انخلاء مشن اور ہندوستانی شہریوں کی حفاظت پر ہے۔
میٹنگ میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، راجیہ سبھا میں قائد ایوان پیوش گوئل ،پارلیمانی امور کے وزیر پرلہاد جوشی، اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی اور وزیر مملکت برائے خارجہ وی مرلیدھرن اور میناکشی لیکھی نے شرکت کی۔
دریں اثناء وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے جمعرات کوبتایا کہ ہندوستان افغانستان کی صورت حال کے حوالے سے عالمی برادری کے ساتھ مسلسل بات چیت کر رہا ہے ، لیکن اب پہلی ترجیح یہ ہے کہ باقی ہندوستانی شہریوں کو وہاں سے واپس لایا جائے۔ ڈاکٹر جے شنکر نے آج تمام اپوزیشن جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں کو پارلیمنٹ ہاؤس کے انیکسی میں افغانستان کی صورتحال کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔
اس کے بعد ڈاکٹر جے شنکر نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ حکومت کی توجہ لوگوں کو وہاں سے لانے پر ہے۔ حکومت افغانستان سے تمام ہندوستانی شہریوں کو جلد سے جلد واپس لانے کے لیے پرعزم ہے۔ اس کے لیے دیوی شکتی آپریشن کے تحت چھ پروازیں چلائی گئی ہیں ، جن میں بیشتر ہندوستانیوں کو واپس لایا گیا ہے لیکن کچھ ابھی تک وہیں باقی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت یقینی طور پر سب کو واپس لائے گی۔ کچھ افغان شہریوں کو ہندوستانی پروازوں میں بھی لایا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس کے ساتھ ساتھ حکومت افغانستان کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر ہونے والی سرگرمیوں اور فیصلوں پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے اور ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے کہ ان سرگرمیوں اور فیصلوں میں ہندوستان کا کردار کے لئے جگہ ہو۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس سلسلے میں جرمن چانسلر انجیلا مرکل اور روسی صدر پیوتن کے ساتھ ٹیلی فونک بات چیت کی ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ انہوں نے کئی رہنماؤں سے بھی بات کی ہے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
ڈاکٹر جے شنکر نے کہا کہ وہ خود اور سیکرٹری خارجہ نے اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کو افغانستان کی صورتحال پر بریفنگ دی ۔ اپوزیشن رہنماؤں نے بھی اپنا نقطہ نظر پیش کیا جو بنیادی طور پر وہاں سے لوگوں کو واپس لانے کے بارے میں تھا۔ اپوزیشن لیڈروں کے ہر سوال کا حکومت نے تسلی بخش جواب دیا۔








