نئی دہلی : (ایجنسی)
سپریم کورٹ نے ایک معطل آئی پی ایس افسر کو گرفتاری سے تحفظ فراہم کرتے ہوئے جمعرات کو کہاکہ سرکار بدلنے پر غداری کے معاملے دائر کرناایک ’ پریشان کن رحجان ‘ ہے ۔ افسر کے خلاف چھتیس گڑھ سرکار نے غداری اور آمدنی کے معلوم ذرائع سے زیادہ اثاثے جمع کرنے کے دو فوجداری معاملے درج کرائے تھے ۔ چیف جسٹس این وی رمن اور جسٹس سوریہ کانت کی بنچ نے اسٹیٹ پولیس کو ان معاملے میں اپنے معطل سینئر آئی پی ایس افسر گرجندر پال کو گرفتار نہیں کرنے کا حکم دیا ہے ۔ بنچ نے سنگھ کو جانچ میں ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کرنے کی بھی ہدایت دی ۔
بنچ نے کہا کہ ’’ملک میں یہ بہت پریشان کرنے والے رجحان ہے اور پولیس محکمہ بھی اس کے لیے ذمہ دار ہے ۔ جب کوئی سیاسی پارٹی اقتدار میں ہوتی ہے تو پولیس افسر اس (حکمراں) پارٹی کا موقف رکھتے ہیں ۔ پھر جب کوئی دوسری نئی پارٹی اقتدار میں آتی 0ہے تو سرکار پولیس افسران کے خلاف کارروائی کرتی ہے ۔ اسے روکنے کی ضرورت ہے۔ ‘‘سپریم کورٹ نے ریاستی سرکار کو چار ہفتوں کے اندر دو الگ الگ درخواستوں پر جواب دینے کو بھی حکم دیا ہے اور اس دوران پولیس افسر کو گرفتار نہیں کیاجائے گا۔
معطل پولیس افسرکی جانب سے سینئر وکیل ایف ایس نریمن اور وکاس سنگھ پیش ہوئے اورریاستی سرکار کی جانب سے سینئر وکیل مکل روہتگی اور راکیش دویدی پیش ہوئے۔ کانگریس کی قیادت والی چھتیس گڑھ سرکار نے سنگھ کے خلاف غداری اور آمدنی کے معلوم ذرائع سے زیادہ اثاثے جمع کرنے کے متعلق دو معاملے درج کرائے ۔
بتادیں کہ 1994 بیچ کے انڈین پولیس سروس ( آئی پی ایس ) افسر گرجندر پال سنگھ نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ وہ چھتیس گڑھ سرکار کے ذریعہ دائر بدعنوانی اورسازش کے الزام میں ایف آئی آر رد کی جائے ۔ ان کا الزام ہے کہ ریاست کی کانگریس سرکار ان کو پریشان کررہی ہے کیونکہ انہیں سابقہ بی جے پی حکومت کا قریبی مانا جاتا تھا ۔
وہیں آج صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند کی طرف سے آج تقرری لیٹر پر دستخط کرنے کے ساتھ ہی سپریم کورٹ میں تین خواتین سمیت نو نئے ججوں کی تقرری ہوئی۔ سرکار ی ذرائع کے مطابق اس تعلق سے جلد ہی ایک نوٹیفکیشن جاری کیاجائے گا۔
سپریم کورٹ کے نئے ججوں میں جسٹس بی وی ناگ رتنا ، جسٹس بیلا ایم ترویدی ، جسٹس ہیما کوہلی ، جسٹس سی ٹی روی کمار ، جسٹس ایم ایم سندریش اور سینئر ایڈووکیٹ اور سابق ایڈیشنل سالیسٹر جنرل پی ایس نرسمہا شامل ہیں۔ ان کے علاوہ جسٹس ابھے سری نواس اوکا ، جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس جتیندر کمار مہیشوری بھی سپریم کورٹ میں مقرر ججوں میں شامل ہیں۔








