نئی دہلی :
افغانستان کے مختلف حصوں پر قبضہ کرنے کے دوران طالبان نے کہا ہے کہ ملک میں امداد فراہم کرانے اور تعمیر نو کے کاموں کو جاری رکھنے کے لیے وہ بھارت کا خیرمقدم کرے گا۔ لائیو منٹ کی رپورٹ کے مطابق طالبات کے ترجمان سہیل شاہین نے ایک انٹرویو میں کہاکہ اقتدار میں آنے کے بعد پورے افغانستان میں بھارت کا خیر مقدم کرے گا تاکہ ترقیاتی کاموں کو آگے بڑھایا جاسکے ، حالانکہ طالبان نے کہاکہ بھارت کو غیر جانبدار رہنا چاہئے اور فوجی سازوسامان کے ساتھ موجودہ کابل انتظامیہ کی حمایت نہیں کرنا چاہئے۔ یہ ان کی (بھارت) شبیہ اور افغانستانی لوگوں کی ان کے تئیں سوچ کے لیے اچھا نہیں ہے۔ اس سے پہلے طالبان نے چینی سرمایہ کاروں کا بھی خیر مقدم کرنے کی بات کہی تھی۔
قطر میں واقع طالبان کے بین الاقوامی دفتر میں انٹرو یو میں سہیل شاہین نے کہاکہ وہ بھارت اور طالبان کے درمیان بات چیت سے آگاہ نہیں ہیں۔ طالبان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب افغانستان کے کئی پڑوسی ممالک طالبان کے ابھرنے سے فکر مند ہیں۔
بھارت اس بات سے فکر مند ہے کہ پاکستان حمایت یافتہ طالبان کے افغانستان پر قبضہ کئےجانے کے بعد سے اس کے مفادات کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے ۔ جب 1996-2001کے درمیان طالبان کا افغانستان پر قبضہ تھا ، تو کشمیر میں دہشت گردوں کے معاملے میں تیزی دیکھی گئی تھی ۔










