ممبئی:
کووڈ پروٹوکول پر عمل نہیں کیا گیا تو 1-2مہینے میں وبا کی تیسری لہر مہاراشٹر کو متاثر کر سکتی ہے۔ یہ لہر کورونا کے بے حد خطرناک ویرئنٹ ڈیلٹاپلس (AY.1) کی وجہ سے آئے گی۔ ریاست کی کووڈ ٹاسک فورسک نے بدھ کو اس وبا کی جائزہ میٹنگ یہ معلومات دی۔ اس کے بعد وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے میڈیکل ٹیم اور دیگر افسران کو ضروری انتظام چا ق وچوبند کرنے کا حکم دیا ہے۔
بڑے پیمانے پر سیرو سروے کرانے کی ہدایت
سی ایم ادھو ٹھاکرے نے ڈاکٹروں سے بڑے پیمانے پر سیرو سرو کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے کووڈ اینٹی باڈیوں کی سطح اور لوگوں میں ویکسینیشن کے بارے میں معلومات حاصل ہوں گی۔ وزیراعلیٰ نے ماضی کی لہروں سے سبق لینے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ پہلی لہر میں ریاست میں مناسب سہولیات میسر نہیں تھی، لیکن بعد میں سہولیات فراہم کرانے پر حالات بہتر ہوئے تھے۔ دوسری لہر نے ہمیں بہت کچھ سکھایا۔ اب ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ دوا، بستر اور آکسیجن کی کمی نہ ہو ۔ سی ایم نے بتایاکہ ریاست کو اگست- ستمبر کے آس پاس ویکسین کے 42 کروڑ ڈوز ملنے کی توقع ہے ۔
دوسری کے مقابلہ میں تیسری لہر زیادہ خطرناک
ریاستی محکمہ صحت کے حکام کا اندازہ ہے کہ دوسری لہر کے مقابلہ میں تیسری لہر میں مریضوں کی تعداد اور زیادہ ہو سکتی ہے۔ ریاست میں وبا کی دوسری لہر میں 21 اپریل کو سب سے زیادہ 6.95لاکھ ایکٹیو مریض تھے۔ تیسری لہر میں یہ تعداد آٹھ لاکھ کے پار جا سکتا ہے ۔ ان میں 10فیصد بچے ہوسکتے ہیں۔
کیا ہے ڈیلٹا پلس ویرئنٹ؟
ملک میں کورونا کی دوسری لہر کے لیے کورونا کے ڈیلٹا ویرئنٹ کو ذمہ مانا جاتاہے۔ یہ پہلی بار بھارت میں ہی پایا گیا ۔ اب اسی ویرئنٹ کی بدلی ہوئی قسم ڈیلٹا پلس ہے ۔ اسے مزید خطرناک مانا جا رہاہے۔
کیسے بنا ڈیلٹا پلس ویرئنٹ ؟
ڈیلٹا پلس ویرئنٹ ، ڈیلٹا ویرئنٹ یعنی B.1.617.2اسٹین کے میوٹیشن سے بنا ہے۔ میوٹیشن کا نام K417Nہے اور کورونا وائرس کے اسپائک پروٹین میں یعنی پرانے والے ویرئنٹ میں تھوڑی تبدیلی ہو گئی ہے۔ اس وجہ سے نیا ویرئنٹ سامنے آگیا ۔ اسپائک پروٹین ، وائرس کا وہ حصہ ہوتا ہے جس کی مدد سے وائرس ہمارے جسم میں داخل ہوتا ہے اور ہمیں انفیکشن سے متاثر کرتا ہے ۔
K417N میوٹیشن کی وجہ سے ہی کورونا وائرس ہمارے مدافعتی نظام (امیون سسٹم) کو چکما دینے میں کامیاب ہوتاہے ۔ نیتی آیوگ نے 14 جون کو کہا تھا کہ ڈیلٹا پلس ویرئنٹ اس سال مارچ سے ہی ہمارےدرمیان موجود ہے ،حالانکہ ایسا کہتے ہوئے نیتی آیوگ نے بتایا کہ یہ ابھی باعث تشویش نہیں ہے۔










