اردو
हिन्दी
مئی 3, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

اسرائیلی جارحیت پر فلسطینی جذبے کی فتح

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مضامین
A A
0
اسرائیلی جارحیت پر فلسطینی جذبے کی فتح
63
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر : مسعود جاوید

اسرائیلی حکومت ہمیشہ کی طرح فلسطینی اراضی پر مزید قبضہ کرنے کے ذرائع ڈھونڈنے کی کوشش کی مگر اس بار کامیاب نہ ہو سکا۔

اس بار اس نے یہودی گروہوں کو آگے بڑھایا ان لوگوں نے مشرقی یروشلم میں فلسطینی بستی شیخ جراح میں مکینوں کے خلاف جلوس نکالے ،عربوں کے خلاف نعرے لگائے، جھڑپیں ہوئیں اور اسرائیلی پولیس نے فلسطینی باشندوں کے مکانات منہدم کرنا شروع کیا تاکہ ان مقامات پر اسرائیل کی نوآبادی کی جا سکے۔ ان سب اشتعال انگیزی کے باوجود فلسطینیوں کا ردعمل مقامی نوعیت کا اور محدود تھا۔

اس کے بعد اسرائیلی فوج نے مسلمانان عالم کے لئے سرخ لکیر کا درجہ رکھنے والے مقام کو تجاوز کرتے ہوئے قبلہ اول مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کی اور نہتے نمازیوں پر فائرنگ کرکے درجنوں کو زخمی کیا اور مسجد اقصیٰ کو پولیس چھاؤنی میں تبدیل کر دیا….

انجام کار فلسطینیوں کی عسکری ونگ حماس نے اسرائیل کو وارننگ دی کہ مسجد اقصیٰ خالی نہیں کیا گیا اور شیخ جراح میں انہدامی کارروائی اور اسرائیلی نوآبادی بسانے کے عمل کو نہیں روکا گیا تو جوابی کارروائی کی جائے گی۔

ظاہر ہے دنیا کی چار بڑی عسکری طاقتوں میں سے ایک کا درجہ رکھنے والے ملک اسرائیل نے اس وارننگ کو قابل اعتناء نہیں سمجھا تو مجبوراً فلسطینی صوبہ غزہ سے راکٹ داغے گئے ایک ہندوستانی نرس سمیت بارہ اسرائیلی ہلاک اور متعدد تعمیرات کو نقصان پہنچا، جوابی کارروائی میں اسرائیل نے ہوائی حملے کر کے فلسطینیوں کی جان و مال کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا63بچے سمیت223 فلسطینی شہید ہوئے۔ ظاہر ہے نقصان کا تناسبی فرق بہت بڑا ہے، لیکن یہ فرق بھی بہت بڑا ہے کہ ایک طرف جدید اسلحے سے لیس عسکری طاقت اور دوسری طرف قومی دینی عزم مصمم….. جدید ترین اسلحوں کے مد مقابل ایک چھوٹی سی عسکری ٹکڑی خودساختہ راکٹ اور ہزاروں اسلحوں سے بھاری فلسطینی یقین محکم۔

اسرائیل نے اس غیر متوازن جنگ کو پہلے مذہبی دہشت گردی کا نام دے کر مہذب دنیا کے ممالک سے اسلامی دہشت گردی گردی اسلامی جہاد کے نام پر ہمدردی اور تائید حاصل کرنے کی کوشش کی…. یہ بیانیہ بہت زیادہ نہیں چلا تو اسرائیل بنام ’تشدد پسند‘حماس اور اسرائیل بنام غزہ کا بیانیہ چلایا یہ بیانیہ عالمی طور پر چلا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل بنام غزہ نہیں جنگ اسرائیل بنام فلسطین ہے ۔غزہ فلسطین کا ایک صوبہ ہے جس کی انتظامیہ فلسطین کی ایک سیاسی جماعت حماس کے پاس ہے اور جو فلسطین کے دفاع کے لئے اسلحے رکھتا ہے۔

افسوس آج بھی دنیا بھر کا میڈیا اسرائیل کے مقابل غزہ اور حماس کا ذکر کرتا ہے۔ خدانخواستہ دشمن ملک کا حملہ کسی ہندوستانی ریاست پر ہوگا تو کیا ہم دشمن ملک بمقابل اس ہندوستانی ریاست کہیں گے یا بمقابل ہندوستان کہیں گے !

خودمختاری …

پچھلے ستر سالوں میں غالباً یہ پہلا موقع ہے کہ فلسطینیوں نے خود مختاری کا ثبوت دیا ورنہ اس سے پہلے ہر بحران کے وقت فلسطینی رہنما قاہرہ ، عمان اور جدہ یا ریاض میں حاضری دیتے تھے ان کی سیاسی نمائندگی ڈپلومیسی مصر اور اردن اور مالی تعاون سعودی عرب اور خلیجی ممالک کرتے تھے…. فلسطینی رہنما ان کے مشوروں پر زیادہ تر عمل کرتے تھے، جبکہ وہ خوب جانتے تھے کہ ان معاون ممالک ، مصر ، اردن اور خلیج کے اپنے ذاتی مفاد امریکہ سے وابستہ ہیں جن کی بناپر وہ مکمل غیر جانبداری کے ساتھ امریکی موقف کے خلاف فلسطین کے بڑے عرب قومی اسلامی کاز پر اپنا مضبوط موقف اختیار کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

اس بار کسی بھی عرب غیر عرب ملک کے فرمان کافلسطینیوں نے انتظار نہیں کیا اور نہ ہی ان کے رہنماؤں نے ان تینوں راجدھانیوں میں دست پستہ حاضری دی۔ اس بار فلسطینی ایک آزاد خودمختار independent and self determined قوم ہونے کا ثبوت دیا ہے ۔

اس سے پہلے فلسطینی قوم نے جو غلطی کی کہ1948 سے لے کر بعد کے سالوں میں جب جب اسرائیلی جارحیت کا سامنا ہوا لاکھوں فلسطینی اردن، مصر لبنان اور شام ہجرت کر جاتے اور پناہ گزین کی زندگی گزارتے تھے ہیں۔ وہیں سے ان کی آزادی کی قیادت کچھ مسلح و غیر مسلح جدو جہد کرتی تھی لیکن جلد ہی ان ممالک کی حکومتوں پر دہشت گردی کو زمین اور مدد فراہم کرنے کا الزام عائد کیا جاتا اور وہایسی سرگرمیوں پر پابندی لگا دیتے تھے اور قیادت کو ملک بدر ہونا پڑتا تھا….
اب فلسطینیوں نے طے کر لیا ہے اور اعلان کر دیا ہے کہ ’اب اور ہجرت نہیں کی جا سکتی‘… یہیں رہیں گے، یہیں لڑیں گے جیتیں گے یا مریں گے…

اپنی زمین چھوڑ کر جانے اور نہ جانے کے مثبت اور منفی پہلو دنیا بھر کی اقلیتوں کے لئے سبق ہونا چاہیے۔

میڈیا کی طاقت….

اس سے پہلے کے ادوار انفارمیشن ٹیکنالوجی اور آزاد میڈیا ہاؤسز کا دور نہیں تھا۔ اس دور میں اگر الجزیرہ سٹیلائٹ چینل نے آزادانہ زیرو گراؤنڈ سے رپورٹنگ عراق اور افغانستان میں کی تو قطر کا بھروسہ مند حلیف امریکی فوج نے اس کے آفس کو نشانہ بنایا یہ اور بات ہے کہ اس کے لئے ڈپلومیٹک لائنسنس‘ فرینڈلی اٹیک‘ کہہ کر معاملہ رفع دفع کیا گیا تھا۔

اس بار آزاد صحافت کے علمبردار’ جمہوری قدروں پر عملدرآمد کرنے والا مشرق وسطی میں واحد جمہوری ملک‘ اسرائیل نے بھی الجزیرۃ اور ایسوسی ایٹڈ پریس کے دفاتر جس عمارت میں تھے اس بلڈنگ کو زمیں بوس کر دیا جس کا نظارہ پوری دنیا نے دیکھا اور اسرائیل کی سخت مذمت کی گئی… اسرائیل نے سمجھا تھا کہ ان دونوں معتبر ایجنسیوں کے دفاتر اور آلات کو تہس نہس کرنے سے اس کے جرائم کی خبریں اور ویڈیوز باہر نہیں جائیں گی لیکن سوشل میڈیا اور آزاد یو ٹیوب اور نیوز پورٹل کے دور میں یہ اس کی خام خیالی تھی…. ہر لمحہ کی خبریں اور تصویریں دنیا تک بلا روک ٹوک پہنچتی رہیں اور دنیا کے ہر انصاف پسند اور انسان دوست نے ، بلا تفریق مذہب ملک رنگ نسل نے اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی اور فلسطینیوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کے پیغامات لکھے اور یکجہتی کے اظہار کے لئے سڑکوں پر مظاہرے کئے ۔

لوہا گرم ہے…

فلسطینی عوام پہلی بار فلسطین میںجشن فتح منا رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلی بار فلسطینی عوام اپنے بل بوتے پر اپنی شرائط پر خواہ دوسو سے زائد لوگوں کی جانیں قربان ہوئیں ، کامیابی حاصل کی۔ جو نیتن یاہو سیز فائر کی اپیل پر یہ کہتا تھا کہ حماس کو ’نیست و نابود ‘کئے بغیر جارحیت نہیں رکے گی وہ سیز فائر پر راضی ہوا۔ فلسطینیوں نے کہا کہ اس کا عام اعلان ہو چنانچہ اسرائیلی کابینہ میں اس پر اس نے دستخط کیا۔

یہ فلسطینیوں کی بہت بڑی حصولیابی ہے اور اس حصولیابی کی ایک وجہ فلسطینیوں کے مختلف منتشر گروپس کا یک رائے یک زبان ہو کر اسرائیل کے مد مقابل کھڑا ہوناہے ۔ اس اتحاد کو برقرار رکھنے کے لئے ضرورت ہے کہ مغربی کنارے والے علاقوں میں محمود عباس کی قیادت والی فلسطینی اتھارٹی میں شفافیت کے ساتھ عام انتخابات ہوں، جو پچھلے کئی سالوں سے نہیں ہوا ہے، اسی طرح غزہ میں حماس قیادت کے ساتھ رشتے استوار کئے جائیں اور فلسطین کی متحدہ قیادت کی تشکیل ہو۔

ایک کھیل جو مغربی ممالک کے سربراہان کھیلتے آئے ہیں خواہ وہ ترکی ہو، الجزائر، ہو تونس ہو ،مراکش، یا مصر ہو اسلامی نظریات کی حامل پارٹیوں کے انتخابات میں جیت کو بھی قبول کر نے میں متذبذب ہوتے ہیں۔ یہی روش اسرائیل کی ہے وہ محمود عباس کی قیادت کو سیکولر مانتا ہے اور الفتح کی تائید کرتا ہے باوجودیکہ اس انتظامیہ پر کرپشن کے بہت سارے الزامات ہیں لیکن حماس کی جمہوری طور پر جیت ان سے ہضم نہیں ہوتی جبکہ اس کا ریکارڈ صاف ستھرا ہے۔

یہ وقت اور حالات کا تقاضا ہے کہ فلسطینی اپنے اختلافات کو بھول کر اتحاد قائم کریں اور دو ریاستی فارمولہ زمینی حقیقت ہے اسے تسلیم کر کے اپنی آزاد خود مختار ریاست فلسطین کی 67 سے پہلے والے رقبہ یعنی 48 فیصد فلسطین اور شمالی یروشلم پر قابض ہوں اور اس کی سرحدوں کی حفاظت کے لئے فلسطین کا مرکزی مسلح افواج کا قیام عمل میں آئے۔

آخر کب تک یہ معلوم قوم اقوام متحدہ، یوروپین اور اسلامی ملکوں کے مالی تعاون پر گزارہ کرے گی ۔ دنیا کی تقریباً ہر ملک فلسطین کے خودمختار ملک کے قیام کی تائید کرتا ہے۔ اب وقت ہے کہ مزید ریلیف بھیجنے کی بجائے اقوام متحدہ کی 1948 میں تقسیم کی بنیاد پر 48 فیصد زمین پر ایک آزاد خودمختار جمہوری ریاست قائم ہو جس کی معلوم سرحد ہو، سرحد کی حفاظت کے لئے اپنی مسلح فوج ہو، اپنی منتخب حکومت ہو، انفراسٹرکچر ہو، رفاہی خدمات کے ادارے ہوں، شہریوں کے پاسپورٹ ہوں اور کام کے مواقع ہوں۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN