لکھنؤ: (ایجنسی)
جس اترپردیش کو ملک میں نمبر ون پردیش کا دعویٰ کیا جا رہا ہے اسے ایک رپورٹ میں سب سےنچلے پائیدان پر بتایاگیا ہے ۔ اس رپورٹ میں اترپردیش کو بڑی ریاست میں سب سےخراب حکمرانی کا درج دیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ دراصل ملک کی ریاستوں کےلیے تیار کی گئی ایک انڈیکس ہے ۔
بنگلور واقع تھنک ٹینک پبلک افیئرس سینٹر کے ذریعہ ریاستوں میں نظم ونسق کی پیمائش کےلیے پبلک افیئرس انڈیکس جاری کرتا ہے ۔ اس کے مطابق اترپردیش انتظامیہ کی بنیاد پر بڑی ریاستوں میں 18 ویں مقام پررہاہے ۔یہ حتمی رینک ہے۔ یعنی ملک کی باقی تمام بڑی ریاستوں میں یوپی سے بہتر نظم ونسق ہے۔ اس معاملے میں کیرل کا بار پھر سےنمبر ون پر رہا ہے۔ دوسرے مقام پر تمل ناڈو، تیسرے مقام پر تلنگانہ ،چوتھے مقام پر چھتیس گڑھ اور پانچویں مقام پر گجرات ہے۔
انڈیکس میں اترپردیش کی یہ حالت تب سامنے آئی ہے جب اگلے چندہ ماہ میں اترپردیش میں ہونےوالے انتخابات سے پہلے یوگی آدتیہ ناتھ سرکار کی تصویر کچھ اورہی پیش کی جارہی ہے ۔ تقریباًہفتہ بھر پہلے ہی بی جے پی کے قومی نائب صدر اور چھتیس گڑھ کے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹررمن سنگھ نے کہاہےکہ یوگی آدتیہ ناتھ نہ صرف بی جے پی کی حکمرانی والیریاستوں بلکہ پورے ملک کےنمبر ون وزیر اعلیٰ ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یوگی آدتیہ ناتھ نے چیلنجنگ ریاست کو ہر محاذ پر بہترین طریقہ سے سنبھالا ہے ۔ پارٹی کے لیڈر تو ان کی تعریف کررہی ہے ہیں ، ریاست بھر میں یوگی آدتیہ ناتھ کے بڑے بڑے پوسٹر لگوائے گئے ہیں۔ ان پورسٹروں میں اترپردیش کو ملک کی نمبر ون ریاست بتاتے ہوئےاسمارٹ پردیش بتایا گیا ہے ۔ خود یوگی آدتیہ ناتھ نے یوپی میں بی جے پی سرکار کے 4.5سال پورے ہونے پر ستمبرمہینہ میں پریس کانفرنس کر کےدعویٰ کیا تھا کہ 44 اسکیموں میں یوپی نمبر ون ہے ۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ از آف ڈائنگ بزنس میں یوپی پردیش میں نمبر ون پر ہے ۔ لیکن ان پورسٹروں کو لے کر تنقید کرنے والوں کی بھی کمی نہیں ہے۔ ٹوئٹر پر لوگوں نے اس کو لے کر ٹویٹ کیا ہے ۔
یوگی حکومت میں یوپی کے نمبر ون ہونے کے ان دعوؤں کے برعکس پبلک افیئرز انڈیکس میں یوپی کی حالت خراب بتائی گئی ہے۔ انڈیکس کو تین بڑے پیرامیٹرز – ترقی، ایکویٹی اور استحکام یا پائیداری کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے جو کہ 43 اشاریوں پر مبنی ہے۔یہ انڈیکس پچھلے پانچ سالوں سے جاری کیا جا رہا ہے۔ اس سال اتر پردیش ایکویٹی اور استحکام دونوں ہی پیرامیٹرز میں بڑی ریاستوں میں آخری نمبر پر ہے۔ اسے ترقی کے لحاظ سے 17 ویں نمبر پر رکھا گیا ہے اور یہ بہار سے بہتر پوزیشن میں ہے۔ ترقی کا زیادہ تر انحصار صحت، صفائی، مالیاتی کارکردگی اور بنیادی ڈھانچے اور ترقی پر حکومتی اخراجات پر ہوتا ہے۔ پائیداری کے معیارات کا اندازہ صاف توانائی، ٹھوس فضلہ کے انتظام اور ماحولیاتی آلودگی اور بدعنوانی کے کنٹرول کے حصے کی بنیاد پر کیا گیا۔
اترپردیش مجموعی طور پر تینوں پیرامیٹرز میں سب سے نیچے ہے۔ لیکن یہ ہمیشہ اس معاملے میں سب سے نیچے نہیں رہاہے۔ 2016 میں جب پبلک افیئرز سینٹر نے پہلی بار رینکنگ جاری کی تھی تو اترپردیش 12 ویں مقام پر تھا۔ تب پی اے سی نے اپنے تجزیے میں تلنگانہ کو شامل نہیں کیا تھا اور اترپردیش کا اسکور مدھیہ پردیش ، آسام ، اڈیشہ ،جھارکھنڈ اور بہار سے بہتر تھا۔
’ دی پرنٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق 2017 میں یوپی کی رینکنگ 14 ویں مقام پر آگئی تھی، جسے اس نے 2018 میں برقرار رکھا۔ لیکن 2019 میں یہ پھر سے پھسل گیا اور 17 ویں مقام پر پہنچ گیا تھا۔ 2020 سے وہ 18 ویں مقام پر ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یوپی سرکار سے اس انڈیکس کی رینکنگ پر کوئی رد عمل نہیں ملا ہے ۔ ریاستوں کے لیے ایکویٹی اسکور پانچ پوائنٹ پر مبنی تھے۔ آواز اور جواب دہی ( سماجی تحفظ، غذائیت کی کمی ، اقتدار میں خواتین کی نمائندگی، حقیقی اجرت اورجھگی آبادی)، سرکار کی تاثیر ( بچوںکی اموات، دیہی مقروض،محرومی )، قانون کی حکمرانی ( قتل کا پھیلاؤ، بغیر سزا کے جیلیں، درج فہرستذاتوں، درج فہرست قبائل، بچوں اور خواتین کے خلاف جرائم)، ریگولیٹری معیار اور بدعنوانی کا کنٹرول۔ 2019 میں نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق فی 10 لاکھ آبادی میں جہیز سے ہونے والی اموات کے معاملے میں بھی اترپردیش آخری مقام پر ہے (244 معاملوںکے قومی اوسط کےمقابلے 2,410معاملے درج کئے گئے) رپورٹ کے مطابق ریاست میں ایس ٹی کے خلاف جرائم کی شرح 63.6فیصد درج کی گئی ہے۔ ریاست میں بچوںکی اموات کی شرح 64 فیصد تک ہے ۔ ایسی ہی شہروں کی آلودگی کو بھی ایک بڑی وجہ قرار دیا گیا ہے ۔ ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ پی اے سی اس انڈیکس کو تیار کرنے کے لیے مرکزی اور ریاستی حکومت ڈیٹا کو بنیاد بناتا ہے ۔










