لکھنؤ (ایجنسی)
چھوٹی جماعتوں سے اتحاد کر کے اترپردیش کی انتخابی میدان پار کرنے کا منصوبہ بنائے سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو کے سامنے سیٹوں کا بٹوارہ سب سے بڑا چیلنج بنا ہواہے۔ علاقائی پارٹیوں کی زیادہ سے زیادہ سیٹیں حاصل کرنے کی لالچ ان کی حکمت عملی کی کامیابی میں سب سے بڑا پیچ ہے ۔ ادھر گزشتہ دنوں عام آدمی پارٹی کے یوپی کی تمام سیٹوں پر انتخاب لڑنے کا اعلان نے پارٹی کے پالیسی سازوں کو اس سمت میں سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔
اسمبلی انتخابا ت کی تاریخ قریب آنے کے ساتھ ہی اترپردیش میں حکمراں جماعت بی جے پی، ایس پی، بی ایس پی، کانگریس سمیت دوسری علاقائی سیاسی پارٹیوں کی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ اسی سلسلے میں ایس پی کے لیڈر یکم ستمبر سے پردیش میں جنادیش یاترا نکال کر ووٹروں کی موڈ جاننے کی کوششوں میں مصروف ہوگئے ہیں۔ پارٹی پالیسی سازوں کا کہنا ہے کہ اترپردیش میں سیاسی زمین مضبوط کرنے کے ساتھ علاقائی پارٹیوں کو سادھا جارہاہے ، جس سے ان کےساتھ اتحاد کر کے بی جے پی کو سخت ٹکر دی جاسکے۔
حالانکہ ایس پی ابھی تک راشٹریہ لوک دل اور مہان دل کے علاوہ کسی اور پارٹی کو ساتھ لے کر انتخاب کی حکمت عملی پر حتمی شکل نہیں دےپائی ہے، لیکن اکھلیش یادو کو یقین ہے کہ زیادہ سے زیادہ چھوٹی پارٹیوں کو ساتھ لے کر انتخاب لڑیں گے ۔ ان پارٹیوں میں ان کے چچا شیوپال یادو کی پرگتی شیل سماج وادی پارٹی بھی ہے، لیکن شیوپال کی پارٹی کتنے سیٹوں پر انتخاب لڑےگی یہ طےنہیں ہوا ہے ۔ وہیں اپنا دل کرشنا گروپ بھی ایس پی کے ساتھ مل کر انتخاب تو لڑنا چاہتاہے لیکن سیٹ بٹوارے کے فارمولے کو لے کر تکرار ہے ۔
اس کے علاوہ پیس پارٹی ، سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی جیسی پارٹیاں بھی ایس پی کے ساتھ مل کر الیکشن لڑنا چاہتی ہیں ، لیکن ان کی مانگ بھی کئی سیٹوں کو لے کر ہے۔ ایس پی ذرائع کے مطابق عام آدمی پارٹی بھی سماج وادی پارٹی کے ساتھ مل کر انتخاب لڑنا چاہتی ہے لیکن ان کی سیٹوں کی مانگ کچھ زیادہ ہے ۔ عام آدمی پارٹی کے تمام سیٹوں پر الیکشن لڑنے کے اعلان کے بعد ایس پی سکتے میںہے ۔ ایس پی کی اترپردیش میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے علاقائی پارٹیوں کے مہاگٹھ بندھن کی پالیسی کتنی کامیاب ہوگی ،یہ آنے والے وقت بتائے گا۔









